سرائیکی وسیبقیصر عباس صابرکالملکھاری

ڈاکٹر یاسمین راشد کےملتان کے دورے میں مٹھو پر کیا گزری : صدائے عدل / قیصر عباس صابر

حسنین عرف مٹھو انجینئرنگ کا طالب علم ہے اور جز وقتی الیکٹریشن ، لوگوں کے گھروں میں وائر نگ کرکے اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے علاوہ اہلخانہ کی کفالت بھی اسی کی ذمہ داری ہے۔ 8ستمبر کی شب اس کے پیٹ میں درد اٹھا، درد اس قدر شدید تھا کہ محلہ حسن آباد کے لوگ اس کی چیخیں سن کر اکٹھے ہوئے ، ریسکیو 1122کو کال کی اور اسے نشتر ہسپتال کی ایمرجنسی میں شفٹ کردیا ۔ ایمرجنسی میں جونیئر ڈاکٹرز نے درد کی وجہ سمجھنے کی بجائے پین کلر انجکشن لگائے اور نیند کی دوا کھلا کر ایک گھنٹے بعد گھر بھیج دیا۔ حسنین کا نشہ ٹوٹا تو اس نے درد سے کراہنا اور چلانا شروع کردیا ۔ اسے دوبارہ نشتر ایمرجنسی میں لایا گیا اور ڈاکٹرز نے اس کے ساتھ وہی پہلے والا عمل دہرایا اور اسے گھر بھیج دیا۔ چار بار نشتر کے ڈاکٹرز نے مٹھو کے ساتھ یہی سلوک کیا تو پھر اسے بختاور امین ہسپتال لے جایا گیا ۔ وہاں پر سینئر ڈاکٹر ڈیوٹی پر موجود تھے جنہوں نے چیک اپ کیا اور درد کی وجہ دریافت کرکے اسے نشتر ریفر کردیا تب تک مٹھو کا یقین نشتر کے ڈاکٹرز سے اٹھ چکا تھا اور پرائیویٹ علاج کے لئے اس کے پاس رقم نہ تھی۔ بختاور امین سے ریفر کیے گئے مٹھو کے کچھ ٹیسٹ ہوئے اور اس کی سرجری کردی گئی۔ آپریشن کے بعد مریض کو وارڈ نمبر9بی میں بھیج دیا گیا جہاں پر نشہ ٹوٹنے کے بعد اسے پھر وہی درد شروع ہوا مگر وہاں علاج کے لئے کوئی ڈاکٹر موجود نہ تھا اس روز صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کا نشتر ہسپتال کا دورہ تھا اور سینئر ڈاکٹرز اس کے آگے پیچھے رہ کر اپنے” ہونے“ کا احساس دلا رہے تھے کیونکہ اس وقت یہی ان کی”ڈیوٹی “ تھی۔ مریض درد سے کراہتا رہا مگر وارڈ کا عملہ اور معالج لاتعلق رہے۔یہ صرف ایک مٹھو کی کہانی ہے جنوبی پنجاب کی سب سے بڑی علاج گاہ میں سینکڑوں مٹھوﺅں کے ساتھ یہی سلوک دہرایا جاتا ہے اور وہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر جان دے دیتے ہیں۔ وارڈ میں احتجاج کرنے والے لواحقین پر ڈاکٹرز اور گارڈز کا تشدد بھی معمول کی بات ہے۔ ملتان میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے نومنتخب صدر ڈاکٹر مسعود الرﺅف ہراج دردمند دل رکھنے والے انسان ہیں اور وہ دیہی علاقوں سے آنیوالے غریب اور نادار مریضوں کے درد کو سمجھتے ہیں مگر وہ بھی کیا کریں کہ ان کو ووٹ ڈاکٹرز نے دیئے ہیں مریضوں نے نہیں یہ الگ بات ہے کہ ان کا کامیاب ڈاکٹر ہونا مریضوں کے سبب ہے، اگر مرض ختم ہوجائے تو ڈاکٹر سوکھے ہوئے دریا کے پل کی طرح بے کار ہوجاتا ہے۔ پی ایم اے کو اپنی توجہ ڈاکٹرز کے مسائل حل کرنے سے زیادہ مریضوں پر دینی چاہیے کہ بانسری بجانے کے لئے بانس کا وجودضروری ہے۔ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد پیشہ ور ڈاکٹر ہیں اور ان کا شمار ان جدید معا لجین میں ہوتا ہے جنہوں نے پرائیویٹ پریکٹس کے دوران مہنگی فیس کی بنیاد رکھی تھی مگر اب وہ عوام کی وزیر ہیں اور ان کے اوپر نئے پاکستان کا سایہ بھی ہے ۔پرائمری ہیلتھ کیئر کی سرپرستی اور اتائیت کے خاتمے پر توجہ سے زیادہ مسیحائی تو ان کو چاہیے جو بے بسی کے عالم میں سرکاری ہسپتالوں میں علاج کے منتظر ہیں کہ صاحب حیثیت لوگ تو صحت کے ان یتیم خانوں میں داخل نہیں ہوتے کہ ہڑتالیں اور وزرا ءکے دورے ان کی جان بھی لے سکتے ہیں۔ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کو چیک بھی کرنا چاہیے کہ مفت آنے والی ادویات جاکہاں رہی ہیں؟ ڈیوٹی کے دوران موبائل فون کے بٹیرے کو ہاتھوں میں ٹٹولنے والے ڈاکٹرز اگر نشتر کو بھی چند گھنٹوں کے لئے اپنا کلینک سمجھ لیں تو بہتری آسکتی ہے ۔ ہم نے تو کبھی نہیں دیکھا کہ پرائیویٹ میڈیکل کمپلیکسوں میں ڈاکٹرز کے ہاتھوں میں موبائل ہو۔اگر نشتر پر توجہ ہوتی تو آج سابق ایم ایس صاحبان نیب اور انٹی کرپشن کے ملزم نہ گردانے جارہے ہوتے ، مفت ادویات باہر منتقل ہوتیں اورنہ ہی ایف آئی اے چھاپے مارتی۔ نشتر کے فنڈز میں گھپلے اور ملازمتوں کی خریدو فروخت کی کہانیاں تو اب ڈھکی چھپی نہیں رہیں۔ پرائیویٹ لیبارٹریز کو فائدہ پہنچانے کےلئے ایک مدت تک سی ٹی سکین مشین کو ”خراب“ رکھا گیا ، خون کے ٹیسٹ اور الٹرا ساﺅنڈ بھی باہر سے کروائے جاتے ہیں ۔ڈاکٹرز کے مفادات کا تحفظ تو پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی ذمہ داری ہے مگر ہسپتال کا مقصد تو علاج ہے اور اس کی ذمہ داری لینے کے لئے کوئی تیار نہیں۔
فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker