آگہی کا خاصا صرف فواد چوہدری کا ہی نہیں بلکہ فیصلوں سے پہلے ان کا علم نئے پاکستان کے ہر معمار کے پاس تھا اور ہے ۔ ہر وہ معمار جس کے موکل سیاسی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں وہ انہیں آگاہ رکھتے ہیں کہ کیا ہونے والا ہے اور کیا نہیں ہوپائے گا ۔126دنوں کا دھرنا اگر یاد ہے تو پھر امپائر کی کھڑی ہونے والی انگلی کی پیشگی اطلاع بھی یاد ہوگی جسے جھوٹی اطلاع کہا جاتا تھا کہ انگلی تو پھر کھڑی نہ ہوئی، کون کہتا ہے وہ اطلاع جھوٹی تھی، انگلی پہلے دن سے لے کر ایک سو چھبیسویں دن کی شام تک روزانہ کھڑ ی ہوتی رہی مگر وہ امپائر ہی کیا جس کی کھڑی ہونے والی انگلی نظر آجائے۔
احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد ارشد ملک نے نواز شریف کے وکلاءکا یہ اعتراض غور سے سنا کہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو کس نے بتایا کہ جس کیس کا فیصلہ ابھی باقی ہے اور ٹرائل زیر سماعت، ایسے کیس میں نوازشریف سوفیصد جیل جائینگے ۔ جج صاحب حیران و پریشان ہوئے اور فواد چوہدری کے مذکورہ انٹرویو کا ریکارڈ منگوالیا ، ساتھ ہی وکلاءکو ہدایت دی کہ پیر کو درخواست دیں عدالت نوٹس جاری کرے گی۔ پوری دنیا میں یہ اصول ہے کہ زیر سماعت مقدمہ پر بات نہیں کی جاتی مگر یہاں وزیر اطلاعات تو ایک حکومتی اکائی ہے ، اینکر عدالتی فیصلے سنا دیتے ہیں یہ عدالت پر اثر انداز ہونے کے زمرے میں آتا ہے۔ وقت سے پہلے تحریک انصاف کو کس نے بتایا تھا کہ وفاق اور پنجاب میں حکومت ان کی ہوگی؟ قبل از وقت نتائج بھی الیکشن پر اثر انداز ہونے والی دھاندلی سمجھی جاتی ہے مگر ارباب عدل و انصاف خاموش رہے ۔ ایسے عدالتی نوٹسز کا بابر اعوان ملک کی بڑی عدالت کے سامنے ”نوٹس ملیا تے ککھ نہ ہلیا“ کہہ کر مذاق اڑاتے رہے۔ احتساب عدالت نے فواد چوہدری کے خلا ف درخواست مانگ لی اور وزیر اطلاعات کے بیانات کا ریکارڈ طلب کیا، یہی کافی سمجھیں ، اس سے قبل تو وقت سے پہلے ”فیصلے“ سنانے والوں کو ”صاحب الہام“ کے خطاب سے نوازا جاتا تھا، مٹھائیاں تک تقسیم کردی جاتی تھیں ۔ صرف محکمہ موسمیات والے وقت سے پہلے موسم کا حال بتاتے تھے مگر اب نئے پاکستان میں اپوزیشن میں شامل سیاستدانوں پر فرد جرم عائد ہونے سے بھی پہلے ، بغیر شہادتوں اور جرح کے ، جیل بھجوانے کی اطلاعات جاری ہورہی ہیں اور کوئی صاحب عدل نوٹس لینے پر تیار نہیں ، فیصلے بعد میں آتے ہیں ان پر تبصرے پہلے سے شروع ہوچکے ہوتے ہیں ۔ کبھی کسی نے پوچھا کہ فواد چوہدری کو کس نے بتایا کہ ‘’50سے زائدسیاستدان جیل جائینگے “ ۔ وزارت عظمی کی ذمہ دار کرسی پر بیٹھے ہوئے عمران خان کو کیا اب بھی کسی امپائر نے اطلاع دی ہے کہ ” اپوزیشن والے چور ہیں ان کو نہیں چھوڑوں گا“ پچاس لوگو ں کا کیس کسی عدالت میں زیر سماعت بھی نہیں جس کا فیصلہ آنا ابھی باقی ہو کہ فواد چوہدری انہیں جیل جانے کی نوید سنادیں اور نہ ہی پوری اپوزیشن کسی مقدمے میں نامزد ہے کہ وزیر اعظم یہ کہہ دیں کہ ”نہیں چھوڑوں گا“ اور ویسے بھی نامزد ملزموں کو مجرم بنانے ، جیل بھیجنے یا بری کرنے کا اختیار تو صرف عدالتوں کا ہوتا ہے مگر یہاں ”ماورائے عدالت“ جیلوں کا تصور دیا جارہا ہے یا پھر نئے پاکستان میں ” بے پرکی اڑانے “ کا نیا سرکاری نعرہ اپنے آغاز کے مراحل میں ہے ۔ جیل جانے کی خبر کے بعد اپوزیشن میں موجود سیاستدان جو کسی مقدمے میں نامزد ہیں اور نہ ہی کوئی فیصلہ ان کے خلاف آنے والا ہےیہ اشعار کورس کی شکل میں گنگناتے پھرتے ہیں
لو گ ملز م تو سمجھتے مجھے میرے منصف
واقعہ کوئی تو الزام سے پہلے آتا
میرے آغاز کا آغاز اگر ہو نہ سکا
میرا انجام تو انجام سے پہلے آتا
وزیر اعظم اور وزیر اطلاعات اگر شریف فیملی کو ساری اپوزیشن کہہ رہے ہیں تو بھی یہ کام عدالتوں پر چھوڑ دیں اور یقیناً عدالتیں انہیں نہیں چھوڑیں گی مگر قدرتی اور عدالتی انصاف کے رائج طریقے کے مطابق ہی ملزموں کو مجرم کہا جائے گا ۔ ٹرائل سے پہلے مجرم بنا کر نا اہل قرار دینے والے فیصلے پہلے ہی پوری دنیا میں جگ ہنسائی کا سبب بنے ہیں ۔ مجرم ڈکلئیر کر کے پھر ٹرائل چلانے کی حوصلہ شکنی ہمارے نظام کو شفافیت کی طرف لے جائے گی۔ کم ازکم سرکاری عہدوں پر فائض وزرا کو تو سیاسی سلطان راہی نہیں بننا چاہیے کہ منصب اور کنٹینر کا فرق تو بہرحال ہوتا ہی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان اگر کم گوئی کو بھی سرکاری عقیدہ بنا لیں تو بہت سی مشکلات سے جان چھوٹ سکتی ہے کہ کفن پھاڑ کر بولنے والے یہ مردے خان صاحب کیلئے پریشانی کا باعث بن رہے ہیں ۔خارجہ پالیسی اور معاشی حکمت عملی تو خود اپنی زد میں ہیں مگر لاءاینڈ آرڈر کی صورت حال اس قدر گمبھیر ہے کہ چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں چار سو گنا اضافہ ہوچکا مگر کوئی خاطر خواہ گینگ بھی گرفتار نہ ہوسکا۔ نیب اور ایف آئی اے بظاہر بڑے مگر مچھوں کو گرفتا ر کرنے کے باوجود کوئی رقم برآمد نہ کرسکے جس کا فائدہ عوام یا سرکار کو ہوتا ۔ ابھی تک للکار کی سرکار عوام کو مہنگائی کی سولی پر لٹکانے کے باوجود کہیں کوئی ریلیف نہیں دے سکی۔ خدارا عوامی مینڈیٹ کا خیال کریں اور اپنی ترجیحات میں غریب اور غربت کو سرفہرست رکھیں۔
فیس بک کمینٹ

