قیصر عباس صابرکالملکھاری

منافقت نہیں، بس انیس بیس کا فرق :صدائے عدل / قیصر عباس صابر

مجھے سکول، کالج اور یونیورسٹیوں میں مخلو ط تعلیم قبول نہیں ، ایک کمرہ جماعت میں نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کا بیٹھنا بھی مجھے برداشت نہیں ہوتا،کینٹین پر ، کیفے پر ، لان میں بیٹھے ،گپ شپ کرتے نوجوان بھی مجھے زہر لگتے ہیں اور ایک اسلامی ریاست میں غیر اسلامی عمل مجھے خون کرنے ، جان سے مارنے پر اکساتا ہے اور میں جان لیتے ہوئے اپنے گھر والوں ، بچوں اور والدین پر بھی ترس نہیں کھاتا کہ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا وہ قاتل کے رشتہ دار کہلائیں یا ایک کماﺅ شخص ساری زندگی کے لئے ان کے ہاتھ سے نکل جائے یا وہ میری وجہ سے معاشرے کی نفرت کا ہدف بنیں ۔ مجھے ننگے سر گھومنے والی عورتیں بھی گالی لگتی ہیں ، بغیر داڑھی والا مرد مغربی تہذیب کا پیرو کار محسوس ہوتا ہے اور گانے بجانے والے ، انہیں سننے والے ، شاعری، مصوری اور فنون لطیفہ سے وابستہ لوگ مجھے ابو جہل کے مرید لگتے ہیں ۔ میرا جی چاہتا ہے کہ انہیں ختم کردوں اور خود اس جنت میں حوروں کی قربت میں فنا نہ ہونے والی زندگی گزاروں۔
میرے ہاتھوں بہنے والا خون مجھے میری منزل تک پہنچا سکتا ہے اور یہ سوچ پتھر پر لکیر ہوچکی ہے جس کی وجہ سے مجھے ایک پل بھی چین اور سکون نہیں ۔ میں اپنے اندر کے خلاءکو پر کرنے کے لئے ہر اس وجود کو ختم کردینا چاہتا ہوں جو اسلامی ریاست کی بنیاد کے برعکس ہے ۔
چند برائیاں مجھ میں ہیں مگر وہ تو میرا کاروبار ہے اور روزی کمانے کے لئے کچھ اونچ نیچ سے بھلا کیا فرق پڑتا ہے؟ میں خود زرگر ہوں ، سونے کے کاروبار میں بہت احتیاط کرتا ہوں ، خالص سونا خرید کر صرف اس قدر ملاوٹ کرتا ہوں کہ میری اور میرے گھر والوں کی دال روٹی چلتی رہے ، شدید گرمی میں ائیر کنڈیشنر کے بغیر گزارا نہیں اور زیادہ بل بھی ادا نہیں کرسکتا اس لئے واپڈا اہلکار کو پانچ سو دے کر بجلی کے یونٹ ریورس کراتا ہوں تاکہ گرمی سے بھی بچا جاسکے اور لائن مین کے بچوں کا رزق بھی چلتا رہے کیونکہ دوسروں کے کام آنا بھی تو بہت بڑی نیکی ہے۔
میں یکم رمضان سے پہلے اپنے بنک اکاﺅنٹ سے تمام جمع پونجی نکلوالیتا ہوں کہ زکوة کے صحیح استعمال کا بھلا حکومت پر کون اعتبار کرے؟  لہذا میں خود اپنی مرضی سے زکوة دیتا ہوں ، ٹیکس کے محکمے تو صرف لوٹ مار پر لگے ہیں اس لئے اللہ کے فضل سے میں کبھی ٹیکس ادا نہیں کرتا ۔ میرے ایک بیٹے کا میڈیکل سٹور ہے ہر نماز کے وقت کاروبار بند کرکے وہ اور اس کے تمام ملازمین باجماعت نماز ادا کرتے ہیں ۔ کاروبار میں اس قدر تو گنجائش ہوتی ہے کہ سرکاری ہسپتالوں سے نیلامی میں ملنے والی ادویات نئی پیکنگ میں فروخت کرسکیں کہ گناہ تو سرکاری ہسپتال کا عملہ کررہا ہوتا ہے ہم تو رقم کے عوض ادویات خریدتے ہیں ۔ زائد المعیاد ادویات پر نئی تاریخوں کے سٹکر کون نہیں لگاتا کہ ڈرگ انسپکٹر کو ماہانہ رشوت دینے کے لئے اتنا تو چلتا ہی ہے۔
کاروبار کے ساتھ ساتھ ٹھیکیداری کا کام بھی شروع کررکھا ہے ۔ ہمارے حلقے کے ایم این اے کے جلسے پر جو رقم خرچ کی تھی وہ بھی تو نکالنی ہے ۔ چند افسران کو کمیشن دے کر جومنصوبے میں مکمل کراتا ہوں وہ شہر کے باقی منصوبوں سے زیادہ دیر پا ہوتے ہیں کہ ناقص میٹریل صرف اس قدر استعمال کرتا ہوں جتنا کمیشن کارسرکار میں دینا ہوتا ہے ، میرے لئے تو ایک لقمہ بھی حرام ہے۔
معاف کرنے والا صرف اللہ ہی ہے اور وہ جانتا ہے کہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے اور اس نظام میں اگر ہم بالکل ایمانداری کو اپنا لیں تو بھو ک مرجائیں۔ رزق حلال کما کر رشوت نہیں دی جاسکتی اور سرکاری حرام خوروں کو ہڈی ڈالنے کے لئے تھوڑا بہت کرنا پڑتا ہے۔
میری دکان پر ناپ تول کا نظام بھی دوسرے دکانداروں جیسا نہیں ہے بلکہ صرف انیس بیس کے فرق سے دکان کے اخراجات پورے کرتا ہوں۔میڈیکل سٹور پر ان لوگوں کے لئے سہولت بھی موجود ہے جن کے پاس نقد پیسے نہیں ہوتے وہ اپنے گھر کے کاغذات یا سونے کے زیور رکھوا کر ادویات لے سکتے ہیں کہ جان سے پیاری کوئی چیز نہیں ہوتی اور کسی کی جان بچ جائے تو ثواب تو ہمیں ہی ملے گا ۔
مانتا ہوں کہ میں فرشتہ نہیں اور انسان خطا کا پتلا ہے مگر مجھ سے یہ فحاشی برداشت نہیں ہوتی ، میرا خون کھولتا ہے اور میں بے قابو ہوجاتا ہوں ۔ میں کسی مفتی سے فتوی لینا چاہتا ہوں کہ وہ ماہ صیام کے دوران سستا سونا خرید کر سٹا ک کرلینا اور پھر شادیوں کے سیزن میں مہنگے داموں بیچنا تو بلیک مارکیٹنگ نہیں ؟ کیونکہ میری مارکیٹ میں تو مولانا صاحب بھی یہی کام کرتے ہیں اور وہ تو زیورات رکھ کر رقم منافع پر دیتے ہیں اب منافع تو سود نہیں ہوتا اور کسی مجبور کے کام آنا کون سا گناہ ہے؟
اگر میں اس قدر گنا ہ گار ہوتا تو گزشتہ حج پر میرے لئے اللہ کے گھر کا دروازہ نہ کھلتا ۔ سعودی سفارت خانے میں تعینات میرا بھانجا تو بس ایک بہانہ تھا اصل فضل تو مجھ پر تھا ۔ اللہ تعالیٰ جن کو اپنے گھر بلاتا ہے وہ کبھی گناہ گار نہیں ہوسکتے اور مجھے تو ہر سال بلاوا آجاتا ہے ۔
اب اللہ پاک نے مجھ سے صرف یہی کام لینا ہے کہ میں تعلیمی اداروں میں ہونے والے فن فیئر ، موسیقی کے پروگرام اور مخلوط تعلیم کے خلاف جہاد کروں چاہے اس کے لئے مجھے اپنے استاد کی جان ہی کیوں نہ لینی پڑے ۔
فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker