قیصر عباس صابرکالملکھاری

قتل گاہوں سے چن کر ہمارے بدن : صدائے عدل / قیصر عباس صابر

ناصر محمود شیخ ہمہ جہت شخصیت ہیں اور ان کی ہر جہت کا دروازہ خدمت خلق کی طرف کھلتا ہے۔گزشتہ چند ماہ سے وہ ٹریفک کی صورتحال ، حادثات اور ان کے سدباب پر کام کررہے ہیں۔ عوامی آگاہی کے لئے اب وہ شعرا کرام سے منظوم اظہار یئے لکھوارہے ہیں جن کا مقصد ٹریفک قوانین کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کرانا ہے۔ ملتان سٹی ٹریفک پولیس کے متحرک آفیسر قیصر محمود بھی اس مہم میں پیش پیش ہیں۔
ہم نے دہشت گردی کی روک تھام کےلئے الگ سے پولیس فورس قائم کررکھی ہے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالتیں اپنے الگ طرزِ سماعت کے بعد فیصلے کرتی ہیں جن پر سالانہ اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں، مقصد صرف یہ کہ لوگ زیادہ اور بلاوجہ کیوں مریں؟اسی طرح ریاست کا کام ہے کہ وہ لوگوں کو بچانے کےلئے ہر نظام پر توجہ بھی دے اور ان کے لئے اخراجات بھی مختص کرے مگر سب سے زیادہ ” قتل “ سڑکوں پر ہوتے ہیں اور ہر قتل کی ذمہ داری کسی دوسرے شخص یا ادارے پر بھی نہیں ڈالی جاسکتی،حالانکہ ہر موت کا ذمہ دار کوئی نہ کوئی ریاستی ادارے کا خدائی فوجدار ہی ہوتا ہے۔ کہیں ڈرائیونگ لائسنس کو ایک کلو مرغ کڑاہی کے عوض جاری کرنے والا، کہیں محکمہ ہائی ویز کا انجینئر ، کہیں گاڑی کو فٹنس سرٹیفیکیٹ عطا کرنے والا، کہیں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والا ، کہیں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ معاف کرنے والا، کہیں خود مرنے والا اور کہیں موت کا گھاٹ اتر جانے والے کا ناجائز منافع خور مالک ۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دہشت گردی ، خودکشی اور لڑائی جھگڑوں میں مرجانے والوں کی مجموعی تعداد سڑکوں کے مقتل سجانے والوں سے بہت کم ہے اور اس کے بالکل برعکس سب سے کم توجہ اور خرچ حادثات کی روک تھام پر کیا جاتا ہے۔ صرف 2019ءمیں صوبہ پنجاب کی سڑکوں پر 3لاکھ 44ہزار 104حادثات ہوئے جن میں 3346 افراد سڑکوں کے خونی مقتل کی خوراک بنے، یہ تعداد جنگی صورتحال میں دنیا چھوڑنے والوں سے بھی زیادہ ہے ۔وبائی امراض میں چند افراد جب زندگی کی بازی ہارتے ہیں تو ان کے علاج اور بیماری کے تدارک کے لئے قومی خزانے کے منہ کھول دیے جاتے ہیں مگر 3ہزار3 سو 46افراد کی موت پر چند لمحات کی سوگواری اور تعزیتی بیانات کے سوا کچھ نہیں کیا گیا۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ کوئی از خود نوٹس بھی ان مرنے والوں کے لواحقین کا مقدر نہیں بنتا۔
2019ءمیں سب سے زیادہ حادثات لاہور میں ہوئے جہاں 82136واقعات میں 208 افراد زندگی کی بازی ہار گئے ۔ فیصل آباد میں 253 افراد کی ہلاکت ہوئی ۔ زخمی ہوکر معذور ہونے والوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ صرف 5644افراد ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جانے کی وجہ سے وہیل چیئرپر آگئے ۔حادثات میں19177 بزرگ بھی متاثر ہوئے۔
افسوسناک بات دیکھئے کہ 53528 افراد ایسے بھی ” قتل“یا زخمی کئے گئے جو پیدل تھے مگر کسی اور کی غفلت یا لاپرواہی سے وہ لوگ زندگی ہار گئے مگر کسی ایک واقعہ میں بھی اقدام قتل کا مقدمہ ہوا اور نہ کسی کو سزا ہوئی۔ خواتین اور بچوں کی جانیں گئیں حالانکہ وہ خود نہ ڈرائیو کررہی تھیں اور نہ ہی ان کی غفلت ان کےلئے جان لیوا ثابت ہوئی بلکہ وہ کسی اور کی غلطی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ اموات کے اس وسیع ”موت کے کنویں“ کا علاج اور اس قتل گاہ کی ذمہ داری کسی حکومتی ادارے نے قبول کی اور نہ ہی پرائیویٹ ٹھیکیداروں نے ، اللہ کی رضا، اور رب کی مرضی والا قومی نعر ہ بلند کرکے ہم اپنے پیاروں کو خود سے جدا کرتے گئے مگر پھر اپنے مرحومین کی قبروں کی مٹی خشک ہوجانے سے پہلے اپنے ڈرائیونگ لائسنس کےلئے کسی کمیشن ایجنٹ کو ڈھونڈنے نکل کھڑے ہوئے ۔ ہم نے خود بھی اپنا محاسبہ نہیں کیا، گاڑی کی فٹنس ، ڈرائیور کی صحت اور اوور لوڈنگ پر کبھی توجہ نہ دی۔
نئے سال کے آغاز میں اگر ہم صرف اپنے اپنے خاندان کی جان کی حفاظت کے لئے ٹریفک قوانین پر عمل شروع کردیں اور اس وقت کا انتظار نہ کریں جب ہمارے پیارے بھی ان قتل گاہوں سے ہمارے بدن چن کے ماتمی بین کریں تو پھر آئندہ سال کے اختتام تک یہ تعداد بہت کم ہوسکتی ہے کیونکہ سڑکیں وہ واحد مقتل ہیں جس پر مرجانے والے لوگ صحت مند بھی ہوتے ہیں اور کسی مقصد کےلئے نکلے ہوئے بھی۔ قاتل اور مقتول دونوں کی پہلے کوئی دشمنی ہوتی ہے نہ مخالفت، اسی لئے یہ سارے ” قتل“ ہماری اپنی غلطی اور لاپرواہی سے ہوتے ہیں ہم ان قتل گاہوں سےاپنے پیاروں کے بدن چن کر اپنے اطمینان کے لئے ان واقعات کو بھی ”اللہ کی رضا“ کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں ۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker