تجزیےقیصر عباس صابرلکھاری

چیف جسٹس محمد قاسم خان کا تقرر اور ملتان میں عدل و انصاف کی روایت : صدائے عدل / قیصر عباس صابر

پانچ ہزار سال سے مسلسل آباد شہر ملتان اپنے جغرافیائی اور زرخیز ذہنی قوت کے سبب پورے خطے میں کامیابیاں سمیٹتا چلا آرہا ہے۔قومیت ، لسانیت اور منافقت کی تیز آندھیاں ہمیشہ ملتان کے سپوتوں کی محنت اور قابلیت کے زیر اثر رہیں 19 مارچ 2020 کو اس شہر اولیاءکے ایک اور ہونہا ر بیٹے نے تاریخ رقم کر دی ۔ لاہور ہائیکورٹ کے پچاسویں چیف جسٹس محمد قاسم خان نے جب یہ عہد ہ سنبھالا تو ایک بار پھر اہالیان ملتان کے سر فخر سے بلند ہوگئے۔ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان 1959 میں ملتان میں ہی پیدا ہوئے ۔ اسی شہر کی گلیوں میں کھیلے، تعلیم حاصل کی ، پریکٹس کرتے رہے ، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل تعینات ہوئے اور پھر بطور جج ہائیکورٹ خدمات سر انجام دینے کے بعد چیف جسٹس تعینات ہوئے۔ وہ جولائی 2021 تک ذمہ داریاں سرانجام دینگے۔
ملتان کے حصے میں ہمیشہ عزت و فضیلت آتی رہی ۔ اسلامی دور میں ملتان برہمن دور کی طرح خطے کا اہم جزو تھا۔ عربوں نے اس شہر کو اپنی سلطنت کے شمالی حصے کا صدر مقام بنا رکھا تھا۔ شمالی سندھ کے چیف قاضی کی عدالت اسی شہر میں تھی ۔ قاضی ابو محمد منصوری ، قاضی موسیٰ بن یعقوب ثقفی اور قاضی محمد بن ابو الشواربی نامور مقنن اور جج تھے ۔ امام اوزاعی اور مولانا اسلامی مشہور فقیہہ تھے۔ دور سلطانی میں ملتان سلطنت کا اہم صوبہ تھا اور یہاں صوبائی قاضی القضاة تعینات تھے ۔ اس دور کے نامور ملتانی قاضی فخر الدین ناقلہ اور شرف الدین اصفحانی تھے جن کے عدالتی فیصلوں کا شہرہ دور دور تک پھیلا ہوا تھا ۔ شیخ السلام حضرت غوث بہاء الدین زکریا ملتانی ، مولانا جلال الدین بخاری اور قطب الدین کاشانی اسی دور کے عالم اور درویش تھے۔
مغل دور حکومت میں بھی ملتان سلطنت کا سب سے بڑا صوبہ تھا جس کی سرحدیں دیپالپور سے بحیرہ عرب تک پھیلی ہوئی تھیں جس میں بلوچستان ، سندھ اور سیوستان کے علاقے بھی شامل تھے ۔ یہاں صوبہ کا چیف قاضی اور میر عدل کرتے تھے ۔اس زمانے میں ملتان کے قاضی جلال الدین نے بڑی شہرت حاصل کی انہوں نے اکبر کو اما م عادل تسلیم کیا اور دین الہی کی تائید کی جس پر ان کو ہندوستان بھر کا قاضی القضاة مقرر کیا گیا۔
اس عہدہ پر فائز ہونے کے بعد نظریہ ضرورت کے تحت اور اکبر بادشاہ کی بارگاہ میں مقبولیت کے لئے شراب کو حلال قرار دیاگیا جس کی وجہ سے اس دور میں قاضی جلال اہمیت اختیار کرگئے ان کے بر عکس اورنگزیب عالمگیر جیسا متدین شخص بھی اپنی نوجوانی کے ایام میں ملتان کا گورنر رہا ۔ جب مغلیہ سلطنت زوال پذیر ہوگئی اورپورے ہندوستان میں عدلیہ کی بدحالی کے بعد ملتان میں بھی عدلیہ تباہ ہوگئی تھی ۔ پنجاب کو ہر لحاظ سے ہندوستان کے دوسرے صوبوں کے برابر لانے کے لئے اعلیٰ عدالتوں کا قیام ضروری محسوس کیا گیا تو گورنر جنرل نے بروئے ایکٹ 4مجریہ سال 1866ءدو یا اس سے زیادہ جج صاحبان پر مشتمل پنجاب چیف کورٹ لاہور قائم کی جسے صوبے بھر کی عدالتوں کےلئے اعلیٰ عدالت کا درجہ دیا گیا ۔ اس عدالت نے جوڈیشل کمشنر کے تمام فرائض اپنے ذمہ لئے اور آخری جوڈیشل کمشنر اے اے رابرٹس اس کے پہلے چیف جسٹس مقرر ہوئے ۔ یہ عدالت ریکارڈ بھی تھی کہ اس کے تمام فیصلے تحریری شکل میں محفوظ ہونے تھے تاکہ بطور حوالہ پیش کئے جائیں اور انہیں نظائر کے طور پرتسلیم بھی کیا جائے۔ پنجاب چیف کورٹ کے قیام سے نظام عدل مربوط بنیادوں پر استوار ہوگیا۔
1884ءمیں پنجاب میں سات ڈویژنل اعلیٰ عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا جس سے پنجاب چیف کورٹ پر کام کا بوجھ تقسیم ہوگیا ۔ 1914ءمیں پنجاب کورٹس ایکٹ کے نفاذ کے ساتھ ہی ڈویژنل کورٹس کے اختیارات ڈسٹرکٹ کورٹس کے سپرد کردیے گئے اور ڈویژنل کورٹس کو ختم کردیا گیا۔
یکم اپریل1919ءکو گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ مجریہ 1919 کی رو سے جو آئینی اصلاحات نافذ ہوئیں ان کے مطابق پنجاب چیف کورٹ کا درجہ دوسرے صوبوں کی اعلیٰ عدالتوں کے برابر کرتے ہوئے پنجاب ہائی کورٹ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ مجریہ 1935ءمیں جو آئینی اصلاحات ہوئیں ان میں بھی لاہور ہائیکورٹ کے قیام کی تصدیق کی گئی اور اس عدالت کو حسب سابق عدالت ہائے ریکارڈ قرار دیا گیا اور ماتحت عدالتوں کی نگرانی اس کے سپرد کی گئی ۔1953ءمیں ہائی کورٹ مغربی پاکستان کا صدر مقام لاہور مقرر کیا گیا۔ 1956ءمیں پاکستان کا پہلا وفاقی آئین منظور ہوا تو اس میں بروئے آرٹیکل 165ہر صوبے ، مشرقی و مغربی پاکستان میں ایک ایک ہائیکورٹ کے قیام کی تصدیق کی گئی اور ہائیکورٹس کے اختیارات کی تشریح کردی گئی۔ 1962 میں ایوبی دور حکومت میں بھی 1956 کے آئین کے مطابق مشرقی و مغربی پاکستان میں ایک ایک ہائیکورٹ کے قیام کی گنجائش رکھی گئی تھی جب یحیٰ خان اقتدار میں آئے تو انہوں نے ون یونٹ کا خاتمہ کردیا اور صوبے از سر نو تشکیل پاگئے ۔ صدارتی حکم نمبر8،1970 ، 16جون1970 کو لاہور ہائیکورٹ ازسر نو قائم کردی گئی ۔ 1973 کا آئین نافذ ہوا تو اس میں آرٹیکل 198 کے تحت ہر صوبے میں الگ ہائیکورٹ کے قیام کی گنجائش رکھی گئی ۔ ملتان کے وکلاءکی کوششوں سے ، لاہور بار ایسوسی ایشن کی بھرپور مخالفت کے باوجود لاہور ہائیکورٹ کے ملتان بنچ کا قیام یکم جنوری 1981 کو پنجاب کے گورنر غلام جیلانی خان کے حکم پر عمل میں لایا گیا جس کے بعد ملتان زون کے تمام مقدمات جو لاہور میں زیر سماعت تھے وہ ملتان بینچ منتقل کردیے گئے جس سے لاہور کے چند وکلا ءکے مالی مفادات پر زد پڑی اور انہوں نے ایک وفد کی شکل میں چیف جسٹس سے ملاقات کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ملتان بینچ کا قیام روکا جائے مگر ان کا مطالبہ رد کردیا گیا۔ لاہور بار کے صدر کی طرف سے ملتان بینچ کے قیام کے خلاف رٹ پٹیشن بھی بے اثر ثابت ہوئی اور جسٹس سعید الرحمن ، جسٹس اے رحمان ، جسٹس عبداللہ اور جسٹس آفتاب فرخ نے ملتان بینچ میں فرائض سرانجام دیے۔ حیرت کی بات ہے کہ جو وکلاءلاہور میں بیٹھ کر ملتان بینچ کے قیام کی مخالفت کرتے رہے وہی ملتان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے پہلے عہدے دار بھی بنے ۔
پھر اسی ملتان بار سے متعدد ستارے آسمانِ قانون و انصاف پر کہکشاں کی طرح چمکے ۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ تصدق جیلانی کے بعد جسٹس محمد قاسم خان نے چیف جسٹس ہائیکورٹ کی ذمہ داری سنبھال کر تاریخی خطے اور ملتان کی مٹی کی عزت کے تسلسل میں اضافہ کیا ۔یوں تو سیاسی، ادبی ،تعلیمی اور تحقیقی لحاظ سے ملتان ہمیشہ سرفہرست رہا مگر عدالتی ذمہ داریوں کے حوالے سے ملتان نے بڑے نام پیدا کئے ۔اب صوبہ جنوبی پنجاب کے دارالحکومت اور سیکرٹریٹ کے قیام کے حوالے سے جب بہاولپور کا نام لیا جاتا ہے تو تاریخ کے دیمک زدہ اوراق اپنے انتظامی محافظوں کی سوچ پر قہقہہ زن ہوتے ہیں کیونکہ ملتان کی جیتی جاگتی پانچ ہزار سالہ تاریخ فیصلہ کن قوتوں کی مجبوریوں پر نوحہ کناں ہوتی ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker