جب رات گئے سناٹا چیختے ہوئے آہ و زاری کرتا تھا اور شہر بھر کی بتیاں بجھا دی گئیں تھیں ۔ نصف شب کی اذانوں سے بے بسی سماعتوں تک آتے آتے خوف کے وجود میں ڈھلتی جاتی تھی اور میں خود سے نظریں چراتا ہوا،اپنی کم ہمتی چھپاتا ہوا آسمان پر موجود ستاروں کو گھورتا تھا جو روز اوّل سے انسان کے خدا بننے کی کوشش کے سفر کی جیتی جاگتی گواہی تھے۔وہ فرعون،نمرود،شداد یزید،شمر،ہلاکو خان اور ہٹلر کا انجام اپنی روشن ہوتی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے.میں ان ستاروں کی غیر مبہم کرنوں کی چکا چوند میں گم تھا کہ اس سے پہلے کبھی ایسے چمکدار ستارے نہیں دیکھے تھے وہ ہمیشہ انسان کی پیدا شدہ آلودگی میں دھندلے ہوتے تھے۔جب رات کا سناٹا قہقہے لگاتا تھا عین اسی وقت میرے سامنے ایک بے شکل سایہ رینگتا ہوا محسوس ہوا، میں جو پہلے ہی ڈرا ہوا بے بس انسان تھا مزید سہم گیا اور مشکل سے اتنا ہی پوچھ سکا کہ تم کون ہو؟
میں ایک وائرس ہوں جسے میری مرضی کے برخلاف کورونا کا نام دیا گیاہے۔۔۔
میرے دل کی دھڑکن تیز ہوئی جاتی تھی اور اس بے شکل کی کئی شکلیں میرے ذہن میں دائرے بناتی تھیں۔”ڈرو نہیں اگر تم خود میرے قریب نہیں آؤ گے تو میں بھی نہیں آؤں گا“
مجھے کورونا کی بات پر یقین سا آگیا تو میں نے چند سوالات کی اجازت چاہی !
”اجازت ہے، مگر خیال رکھنا کوئی جاہلانہ سوال نہ پوچھنا،میں جدید دور کے تمام علوم سے واقف ہوں اور تمہاری ایجادات کو ٹھوکر مارتا ہوا قطب شمالی سے قطب جنوبی تک پہنچا ہوں۔۔“
میں اس قدر عالم و فاضل وائرس کی باتوں کے رعب تلے دب سا گیا مگر کورونا کے نسوانی نام کی وجہ سے اس پر نفسیاتی برتری نے بات کرنے کا حوصلہ دیا۔
تم ایک وائرس ہو جیتا جاگتا وائرس،تمہارا مقصد کیا ہے ؟ کہ اک بے شکل سایہ ہوکر تم نے انسان کے قدموں میں وہ زنجیر ڈال دی جو مطلق العنان بادشاہ اور انسانی کھوپڑیوں کے میناروں پر بیٹھ کروقت کی تقدیر لکھنے والے حکمران نہ ڈال سکے،نمرود کےلئے ابراہیم،فرعون کےلئے موسی پیدا ہوئے مگر تم تو بلا مقابلہ اپنے حریفوں کو اکھاڑے سے باہر پھینکتے جارہے ہو؟ بکواس بند کرو۔جاہلانہ باتیں نہ کرتے چلے جاؤ۔۔۔”سنو جب انسانی تکبر کا غبارہ ہوا میں اڑتا پھرتا ہے تو اس کو اصلیت سے روشناس کروانے کےلئے فضا میں سے کوئی وائرس سوئی بن کر اس غرور کے غبارے میں چھید کرتا ہے اور وہی غبارہ تڑپتا ہوا زمیں بوس ہو جاتا ہے۔وہ وائرس کورونا نہ سہی مگر ہماری ہی نسل سے تعلق رکھتا ہے“
کورونا کی باتوں نے میرے اوپر چڑھی خوف کی چادر کو اتار پھینکا۔۔۔وہ بولتا چلا گیا
” مجھے بھی انسانی جانیں لینے اور آباد شہروں کو ویران کرنے کا دکھ ہے مگر میں اک نئے نظام عدل ،معیشت،شہریت،طب،سائنس اور انسانیت کی بنیاد ڈالے بغیر نہیں جاؤں گا۔تم سمجھتے ہو کہ ماسک،سینیٹائزر اور ہاتھ دھونے سے تم مجھے مات دے رہے ہو،ہرگز ایسا نہیں ،میرا ہدف ہی وہی لوگ ہیں جو ملکوں ملکوں اُڑتے پھر رہے ہیں اور خود کو آفاقی مخلوق سمجھتے ہیں“
کورونا نے مجھے بولنے کا موقع ہی نہ دیا اور بولتا چلا گیا،میں نے ناک اور منہ پر چڑھایا ہوا ماسک اتار پھینکا اور پوچھا، کہ تمہارے اہداف کیا ہیں؟
“دیکھو اے خبطی انسان ،میرے لئے سب انسان برابر ہیں اورسرحدوں کی بھی کوئی قید نہیں،میرے سامنے جو کچھ ہوتا رہا میں دیکھتا رہا اور اپنے منصوبے ترتیب دیتا رہا ،میں نے تم جیسے بے بس آدمی کو رب بنتے ہوئے دیکھا،بارود سے اپنے ہم نسلوں کو ختم کرنے کے سارے فتنے میرے سامنے ایجاد ہوئے۔طوفان نوح میں ڈوبنے والوں کی موت بھی بے بسی سے لبریز تھی مگر وہاں عبرت پکڑنے کےلئے کوئی تھا بھی نہیں،سب ڈوب چکے تھے،فرعون کی حنوط شدہ لاش بھی تمہیں سبق نہ دے سکی۔نمرود کی ناک میں گھسنے والا مچھر بھی تمہارے لئے صرف ایک کہانی کا کردار تھا۔
کربلا میں جب سب سے بڑی الہامی کتاب کے حافظوں اور قارئیوں نے صاحب کتاب کے بچوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے گرم ریت پر تڑپنے کےلئے چھوڑ دیا اور خود نماز عصر کی ادائیگی میں مصروف ہوگئے تو تب بھی مجھے جلال آیا،جب دنیا کے طاقتور ملک نے ترقی پذیر قوموں کو مفادات کا ایندھن بنا کر رکھا اور اسرائیل نے فلسطین میں ،بھارت نے کشمیر میں جو کھیل کھیلا تو میں بمشکل خود پر قابو رکھ پایا۔امریکا کے بیان”مسلم دنیا کو عبرت کی مثال بنا دینگے “ مجھے میدان میں اترنے کےلئے اکساتے رہے”۔
“شامی بچوں کے خون آلود معصوم چہرے مجھے سونے نہیں دیتے تھے،فلسطین کی عورتوں کی بے بسی مجھے حوصلہ دیتی تھی کہ میں سائینس اور ٹیکنالوجی کے سارے غرور خاک میں ملا دوں،میڈیکل سائینس کے ریسرچ پیپر جلا کے رکھ دوں جو انسان کو خدا ہونے کا احساس دلاتے ہیں”۔
“اور تم جو امن و سلامتی کا دین رکھتے ہو۔ تم بتاؤ کہ مجھے کیونکہ تفرقوں میں بانٹ رہے ہو؟کوئی مجھے زائرین کا نام لے کر چھیڑتا ہے اور کوئی مجھے تبلیغی جماعت کا طعنہ دیتا ہے،تم تو میرے قابو میں آکر بھی میرے قہر کو ہوا دیتے ہو،میرے نام پر لوٹ مار اور ذخیرہ اندوزی کر تے ہو،تمہارے حاکم اب میرے نام پر چندہ مانگ رہے ہیں،بھلا میں کیسے جاؤں؟ یہ اذانیں جو تم سن رہے ہو ان میں روح بلالی کہاں ہے؟یہی لوگ جو رات کو اذانیں دیتے ہیں دن چڑھتے ہی انسان کو انسان سے فاصلہ اور نفرت بڑھانے کا درس دیتے ہیں،امن و محبت کے مذہب کو اس قدر خون آلود کرتے ہیں کہ مساجد و عبادت گاہیں بھی سرخ ہوئی جاتی ہیں۔اور تم نے جب سکول میں پڑھتے ہوئے بچوں پر کلمہ شریف کے ورد کے ساتھ گولیاں برسائی تھیں تو بچے مسکراتے تھے کیونکہ ان کو تو پتہ ہی نہ تھا کہ مرنے سے پہلے روتے ہیں یا مسکراتے ہیں”۔
“تم بتاؤ جب اپنے ملک میں بسنے والی اقلیتوں پر ،اپنی ہی مقدس کتاب کو خود جلا کر الزام دھرتے ہو اور بھٹے پر کام کرنے والے عیسائی مزدور میاں بیوی کو ان کے سات سالہ بچے کے سامنے آگ کے سپرد کرتے ہو،تم تو چلاس کے پہاڑی راستے سے گزرنے والی بس کے مسافروں کو اتار کر شناختی کارڈ دیکھ کر گولیوں سے چھلنی کردیتے ہو پھر کس منہ سے وائرس سے بچنے کےلئے اذانیں دیتے ہو؟”
کورونا کی باتوں نے مجھے پسینے میں نہلا دیا اور میں نے بھاگنے کی کوشش کی تو مجھے چاروں اطراف سے کورونا کے ساتھیوں نے گھیر رکھا تھا۔میں پہچاننے کی کوشش کررہا تھا کہ مجھ سے مخاطب کورونا ایران سے آیا ہے،اٹلی سے درآمد ہوا ہے یا اس کا تعلق بیت الللہ شریف کو تالے لگوانے والی نسل سے ہے؟مگر وہ ایک لبرل اور یہودی کورونا تھا، وہ سرا سر کافر کورونا تھا جو مساجد میں نماز کی ادائیگی سے روکتا تھا۔
“سنو،گھبرانا نہیں،میں صرف آلودگی کے خاتمے اور دولت کی مساوی تقسیم کےلئے کوشاں ہوں کہ نئے سرے سے طرز معاشرت رکھی جائے۔مگر تم ایک وکیل ہو ،دیکھو تم کالے کوٹ زیب تن کرکے ایک محافظ کے ہاتھوں قتل ہونے والے گورنر کی لاش پر جشن مناتے ہو اور قاتل جس کے پاس قتل کا جواز بھی نہ تھا اور وہ عدالت کے نرم گوشے کے باوجود بے گناہی ثابت نہ کر سکا تھا اس کے گلے میں ہار ڈالتے ہو،ابھی کل کی بات ہے جب بے گناہوں کو ان کے بچوں کے سامنے گولیوں سے بھون ڈالا گیا کیمرے کے سامنے وہ قسمیں اٹھاتے رہے اور پھر قاتل باعزت بری ہوگئے،تم کتنی سات سالہ زینبوں کو درندوں کی طرح نوچ کھاتے ہو،جاؤ تم بڑے منافق ہو کسی ایک کو بے گناہ اور گناہ گار قرار دینے کی بھی جرات نہیں رکھتے،وہ جو ساری زندگی ایک دوسرے کے خلاف تلواریں چلاتے رہے وہ دونوں ہی تمہارے لئے ایک صف میں کھڑے ہوئے محمود و ایاز ہیں دونوں سچے ہیں۔ قاتل بھی معتبر اور مقتول بھی برگزیدہ۔چھوڑو تاریخ کو ،تم اب دیکھو تمہارے عالم بھی سرکاری طلبہ نوازی کرنے میں ماہر ہیں،خیر چھوڑو صبح ہونے والی ہے اور سورج کی گرم کرنوں سے پہلے مجھے اپنے ہدف تک پہچنا ہے۔تمہارے جیسے باتونی اور بے عمل شخص کیا مجھے شکست دینگے تم تو خود ایک بڑے وائرس ہو بس تمہارا نام کورونا نہیں”۔
فیس بک کمینٹ

