قیصر عباس صابرکالملکھاری

مائنس ون فارمولے کا راگ درباری ۔۔ صدائے عدل/قیصرعباس صابر

 ہم جس بت کو تراشتے ہیں،رنگ و روپ کا لبادہ دیتے ہیں اور پھر اس سے اپنے عقیدے وابستہ کرلیتے ہیں کیونکہ بت تراشی کا فن ہم سے بہتر بھلا کون جانتا ہے۔سنگ کے ٹکڑے کو مذہب،دین اور معاشیات کے ساتھ ساتھ امور زندگانی اور علوم عمرانی کا ماہر سمجھتے ہیں ۔ہم اس پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں،منتیں مان لیتے ہیں اور امیدیں وابستہ کرلیتے ہیں کیونکہ اپنے ہی شاہکار کو کہیں مات کھاتا ہم نہیں دیکھ سکتے،مگر ہماری کوئی امید جب بر نہ آئے تو پھر بت شکنی کا فن بھی کوئی ہم سے سیکھے۔اک گرز اٹھا لاتے ہیں اور اپنے ہی تراشیدہ فن کو پاش پاش کر دیتے ہیں کہ بت شکنی بھی تو کوئی ہم سے سیکھے۔
  وہ بت جسے تراشنے میں ایک زمانہ صرف ہوا ہو،انگلیاں اٹھی ہوں، ہمارے ذوق جمال پر تنقید ہوئی ہو،ہم اسے ہر حال میں کامیاب دیکھنے کی خواہش میں خود رسوا ہوئے ہوں اگر وہ کوئی امید بر نہ لا سکے تو پھر بت خانے سے اسے مائینس کرتے دیر نہیں لگاتے۔بے شک سارا بت کدہ اسی ایک بت کے لئے بسایا گیا ہو،چاہے ساری گرد سنگ کے ٹکڑے کی دلجوئی کےلئے اڑائی گئی ہو ہم رسوائی کی دھول اڑانے میں بھی دیر نہیں لگاتے کیونکہ بت شکنی بھی تو ہم بہتر جانتے ہیں۔
 ہم پرانے بتوں کو زائد العیاد کرتے ہوئے آہستہ آہستہ اس کی مخصوص جگہ سے ہٹاتے ہیں،بعض اوقات رسوائی اس کا مقدر کرکے ننگ وطن و ننگ مذہب ثابت کرتے ہیں پھر اس کے خلاف مہم چلانے کے لئے صوابدیدی فنڈز کا رخ موڑ دیتے ہیں،اپنے ہی تراشیدہ بت جب بھگوان بن کر جمہور میں پوجے جانے لگیں،مقدس ہونے لگیں یا دلوں میں جگہ بنانے لگ جائیں تو ہم سے برداشت نہیں ہوتا پھر ہم اسے مائینس ون کے راگ درباری کی بھینٹ چڑھاتے ہیں۔راگ کے سارے سر آخری تاروں کو چھونے لگتے ہیں تو ہمیں پتھر کے نئے ٹکڑے خود بخود ہاتھ لگ جاتے ہیں۔
 ہم نے اپنے تراشیدہ بتوں کو زہر دے کر،پھانسی چڑھا کر اور کبھی گولیوں سے چھلنی کرکے بت کدے سے نکالا ،تاریخ گواہ ہے کہ مائینس ون پر عمل کرتے ہوئے ہم نے اپنے ہی رنگ کے پتھر کے بت کو جہاز سی ون 30 کی قربانی دے کر راستے سے ہٹایا تھا کیونکہ بت شکنی کا فن ہم سے زیادہ کون جانتا ہے؟
 اب کی بار مائینس ون کی بھینٹ جس بت کو چڑھایا جائے گا اس ستم گر کےلئے ہم نے اپنے ہی اصولوں سے انحراف کیا ،الزام برداشت کئے ۔سارا میلہ اسی صنم کے لئے سجایا مگر افسوس اس سجے سجائے میلے میں اسی بت کو اٹھایا جائے گا جو شمع محفل تھا،صاحب شام تھا اور قصہ تمام تھا۔ہم جانتے ہیں کہ مائینس ون ہوتے ہی سارا صنم کدہ برباد ہوجائے گا،اجڑ جائے گا ۔ہم سے بہتر کون جانتا ہے کہ اصنام گری کی روایت میں بت تراشی سے بت شکنی کا سفر کیسے تمام کرنا ہے۔
فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker