گاہکوچ میں روشن صبح ہمارا استقبال کرتی تھی۔سرد ہوائیں دریائے غذر سے نمی اٹھا لائی تھیں اور پھر وہ ہوائیں ہمیں اپنے ساتھ پھنڈر کی طرف اڑا کر لے جانے والی تھیں۔میٹروپولیٹن ہوٹل کے ڈائیننگ ہال میں ایک ایسا ناشتہ جو تادیر بھوک روکے رکھے گا،کی نیت سے کیا گیا۔ہال کے دو اطراف کی دیواروں پر لگیں کھڑکیاں دریائے غذر کی طرف کھلتی تھیں اور یہ پانی کہاں سے آتے ہیں؟
غذر سے،پھنڈر سے اور شیندور سے آتے ہیں ۔۔۔
اور پھر دریائے غذر ،دریائے گلگت میں اپنے رنگ پروتا ہے۔سب وادیوں کے دریا،سندھ سائیں کا رزق بنتے ہیں۔سندھ میں شیندور اور پھنڈر کے رنگ دریائے غذر کی وجہ سے شامل ہوتے ہیں۔دیوسائی میدان کے برف رنگ اور نانگا پربت کے روپل قطرے ترشنگ نالے سے ہوتے ہوئے دریائے استور کا قد بڑھاتے ہیں اور بونجی کے مقام پر غرق دریائے سندھ ہوتے ہیں اسی طرح دریائے سندھ میں رائے کوٹ کے سلیٹی رنگ شامل ہوتے ہیں پھر کہیں جاکر سندھ کو شیر دریا کا نام ملتا ہے۔
ہم ناشتہ کرکے اٹھے ہی تھے کہ ہوٹل کا باورچی نادر ولی ملا جس نے بتایا کہ وہ تلاش رزق میں ملتان کے تاج ہوٹل میں بھی کچن آباد کرتا رہا۔”
کئی شہروں میں چلہ کاٹا پھر یہ ذائقہ اور ہنر ہاتھ آیا کہ مہمانوں کا آبائی علاقہ پوچھ کر کھانا تیار کرتا ہوں” نادر ولی نے وادئ یسین اور پھنڈر کے کچھ تعارفی نام اور رابطہ نمبر دئیے ،سراج الدین نے محبت کے ساتھ ہمیں رخصت کیا ۔
ہم اب غذر روڈ پر رواں تھے اور حیرتوں کے جہان دونوں اطراف میں ہماری گردنوں کو گراری بنائے ہوئے تھے۔ایک سے بڑھ کر ایک وادی اور نیا منظر ہمارے قدم جکڑ رہا تھا۔کیمروں کی میموری جواب دیتی جارہی تھی حالانکہ پھنڈر اور غذر کے جنت مثال علاقے ابھی دور تھے۔گاہکوچ شہر سے نکلتے ہی شادابی اور درختوں کی بلندی ہمیں حیران کرتی جارہی تھی۔دائیں جانب دریائے غذر بہتا تھا بلکہ رقص کرتا تھا۔دریا کے دوسرے کنارے پر بستیاں آباد تھیں جنہوں نے شائد پچھلے جنم میں کچھ ثواب کمائے تھے،نیک عمل کئے تھے اور اب اپنی جنت جیسی بستیاں آباد کئے ہوئے تھے۔گاہکوچ سے غذر جاتے ہوئے ایک مقام ایسا آیا جب دریائے غذر اور ہمارے درمیان حائل سارے پردے ہٹ گئے اور سڑک دریا کے اس قدر قریب آگئی کہ ہم پانی کو چھو سکتے تھے ،برف دریا کی قربت میں منجمد ہوسکتے تھے۔
یہ مقدس مقام مشک کہلاتا تھا،ایک با معنی نام جو ایسی آبادی کا ہونا بھی چاہئیے تھا۔بے ضرر روانی میں بھی بڑا خوف تھا کہ دریا پر ایستادہ پل جو آہنی رسوں سے جکڑا ہوا تھا وہ مشک کی بستی اور سڑک کا واحد رابطہ پل تھا۔ہم نصف گھنٹے تک پل کے قریب کھڑے رہے اور اس منظر کو یاداشت میں محفوظ کرتے رہے مگر یہ مشک گاؤں ہماری منزل نہ تھا۔مشک کی پوری بستی گلابی رنگت اوڑھے درختوں سے لدی اور ڈھکی ہوئی تھی۔گلابی رنگ اس پوری وادی پر نمایاں تھا۔اس کے علاوہ ہم نہیں جانتے تھے کہ ان پھولوں جیسے پتوں یا پتوں جیسے پھولوں کا نام کیا تھا؟کوئی نام تھا بھی یا نہیں ۔۔۔ کہ “آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے” والی بات تھی۔مشک نے وادی میں چنگھاڑتے، پتھروں کا سینہ چیرتے دریائے غذر کو ہمارے لئے مسخر کردیا تھا کہ ہم اب گفتگو کرتے تھے اور غذر دریا میں رقص کرتی ٹراؤٹ کو دیکھ سکتے تھے۔یہ اگر غذر کا دیباچہ تھا تو پھر وادی کا متن کیسا ہوگا؟ یہ تصور بھی ایک جاگتا خواب تھا۔
جابجا فطرت کی مے ٹپکتی تھی اور مشک کے بعد وادئ گوپس کا چھوٹا سا شہر تھا جہاں یسین،گوپس اور پھنڈر کی عدالتیں تھیں چند کلومیٹر کے فاصلے پر ایک مضبوط اور خوبصورت معلق پل تھا جو وادئ یسین کی طرف سڑک کو لئے جاتا تھا۔دائیں جانب بڑے سے بورڈ پر یسین اور در کوٹ تک سفر کی نشاندہی کی گئی تھی ۔سکولوں کی تفصیلات والے بورڈ پر بیس سکولوں کے نام درج تھے اور یہی بات اہم تھی کہ گاہکوچ اور غذر کے لوگ خوشحال تھے،برانڈڈ لباس اور اچھی رہائش یہاں نظر آتا تھا،سکولوں کی تعداد شہری علاقوں سے زیادہ نہیں ،بہت ہی زیادہ تھی۔کسی سکول میں مویشی بندھے نظر نہیں آتے تھے۔ہم اب وادئ یسین نہیں جاسکتے تھے اس لئے ہم گوپس ویلی کی طرف بڑھتے گئے اور مدہوش ہوتے گئے۔
فیس بک کمینٹ

