قصور : گلی میں کمسن بچی کے ساتھ نازیبا اورغیراخلاقی حرکات کرنے والا ملزم اپنے جسم کے جنسی اعضا پرگولی لگنے سے زخمی ہوگیا۔
مقامی پولیس نے دعوی کیا ہے کہ اس واقعہ میں بھی ملزم نے اپنی شلوار کے نیفے میں سے پستول نکالتے ہوئے جلد بازی میں ٹریگر دبا دیا جس سے گولی چل جانے سے اس کا جنسی عضو (عضوتناسل) زخمی ہوگیا۔
یاد رہے کہ تین ہفتوں کے دوران پیش آنے والے یہ دوسرا واقعہ ہے۔
قصورپولیس ترجمان نے اس حوالے سے بتایا کہ تھانہ سٹی چونیاں کے علاقہ ظہیر آباد کالونی میں 10 سالہ بچی اپنی پھوپھو کے گھر جا رہی تھی اور وہ جونہی گھر سے باہر نکلی تواسی محلے کے رہائشی ملزم ریاست نے بچی کو گلی میں اکیلا پا کر غیر اخلاقی حرکات شروع کر دیں۔
بچی کے شور مچانے پر ملزم موقع سے فرار ہوگیا۔
تھانہ سٹی چونیاں پولیس نے بچی کے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کیا اورملزم کی سی سی ٹی وی کیمروں اور دیگر جدید ذرائع سے تلاش شروع کردی۔
پولیس کو اطلاع ملی کہ ملزم ایک جگہ پر چھپا ہوا ہے جس پر ایس ایچ او قربان نواز پر مشتمل ٹیم نے ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تو ملزم نے جلد بازی میں نیفے سے پستول نکالنے کی کوشش کی جس سے اس سے فائر ہوگیا اور گولی اس کے جنسی اعضا (عضوتناسل) کے پار ہوگئی۔
پولیس ٹیم نے ملزم کو زخمی حالت میں حراست میں لے لیا اور ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور داخل کروادیا جس اس کا علاج شروع کردیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے 27 اور 28 جولائی کی درمیانی شب ضلع قصور کے علاقہ شاہ عنایت کالونی میں ایک کمسن بچی کے ساتھ نازیبا حرکات کرنے والا ملزم بھی اپنے جنسی اعضا سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔
ملزم کی شناخت ناصر وٹو نام سے ہوئی تھی جوکہ ضلع اوکاڑہ کا رہائشی تھا اور کھارہ روڈ پر گھر کی تعمیر پر مزدوری کر رہا تھا جوکہ اس گلی کے قریب ہی تھا جہاں اس نے یہ نازیبا حرکت کی تھی۔
قصورکے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد عیسیٰ خاں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پولیس کے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ اور نادرا کی مدد سے فوٹیجز سے ملزم کا فوری پتہ چلا لیا جاتا ہے اس کے علاوہ اس علاقے میں مخصوص اوقات میں استعمال ہونے والے موبائل فونز سے بھی ملزم کو پکڑنا ممکن ہو جاتا ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو)
فیس بک کمینٹ

