حکومت اور عالمی اداروں کے اشتراک سے کئے جانے والے سروے اور جاری رپورٹ کے مطابق جنوبی پنجاب سمیت ملک بھر میں آنے والے سیلاب سے 94اضلاع کے 7لاکھ 80ہزار مکان مکمل طور پر تباہ ہوئے جبکہ 12لاکھ 70ہزار مکانوں کو جزوی نقصان پہنچا، ہاؤسنگ کی بحالی اور تعمیر نو کیلئے ابتدائی طور پر 592ارب کی ضرورت، سیلاب سے 17ہز ار 205تعلیمی ادارے متاثرہوئے، ان میں پرائمری اور ہائی سکول، کالج، یونیور سٹیا ں، خصوصی تعلیمی ادارے، ٹیکنیکل ادارے شامل ہیں، ان میں 6225 تعلیمی ادارے مکمل طور پر تباہ ہوئے اور 10980 کو جزوی نقصان پہنچا،اس سے 94478اساتذہ، 26لاکھ طلباو طالبات متاثر ہوئے ان میں 10لاکھ طالبات ہیں، تعلیمی اداروں کی بحالی اور تعمیر نو کیلئے 197ارب روپے کی ضرورت ہے۔
اسی طرح سیلاب سے ملک کے 13فیصد صحت کا شعبہ متاثر ہوا اور ہسپتالوں، بنیادی مراکز صحت سے سہولیات کی فراہمی ممکن نہ رہی اس سے 6لاکھ50ہزار حاملہ خواتین کو علاج، ادویات اورزچہ بچہ کی بنیادی سہولیات کی فراہمی بری طرح متاثر ہوئیں، 40لاکھ بچوں کو صحت کی سہولیات فراہمی میں شدید دشواری کاسامنا ہے اور ان علاقوں میں بہت سی بیماری پھیلنا شروع ہو گئی ہیں،رپورٹ کے مطابق صحت کی سہولیات کی بحالی کیلئے فوری طور پر 40ارب روپے کی ضرورت ہے،حالیہ سیلاب سے زراعت، لائیو سٹاک کے شعبے کو 2788ارب روپے کا نقصان ہوا اس میں سیلاب سے ہونیوالی تباہی سے 800ارب روپے کانقصان ہوا جبکہ 1986 ارب روپے کا معاشی نقصان ہوا، زراعت کے شعبے کے مجموعی نقصان میں فصلوں کی تباہی اور نقصان کا حصہ 82فیصد ہے جبکہ مویشیوں کانقصان 17فیصد ہے،چار ارب 41کروڑ ایکڑ زرعی زمین متاثر ہوئی اور 8لاکھ مویشی ہلاک ہوئے۔
ادھر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت پاکستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں وزیر اعظم کیش ریلیف کے تحت 27لاکھ خاندانو ں میں 70ارب روپے تقسیم ہونے کی اطلاعات ہیں جو کل تقسیم کا 97 فیصد سے زائد ہے۔بی آئی ایس پی بلوچستان،سندھ،خیبر پختونخوا،پنجاب اور گلگت بلتستان کے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں میں 25ہزار روپے فی خاندان کی مالی امداد کررہا ہے جبکہ دوسری جانب رقم کی تقسیم کے حوالے سے کرپشن اور لوٹ مار کی شکایات بھی موصول ہو رہی ہیں اس حوالے سے ایف آئی اے سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے کارروائیاں بھی کررہے ہیں مگر اس کے باوجود لوٹ مار کا سلسلہ زور و شور کے ساتھ جاری ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت امدادی رقوم میں کٹوتی کرنے والے افراد کیخلاف موثر کارروائی کرتے ہوئے سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے عملی اقدامات کوجنگی بنیادوں پر یقینی بنائے تاکہ خیموں میں مقیم افراد اپنے گھروں میں آباد ہوسکیں اگر اس میں لیت و لعل سے کام لیا گیا تو تیزی سے سرد ہوتا موسم انہیں مزید پریشانی میں مبتلا کردے گا؟
صوبائی دارالخلافہ لاہور سے شروع ہونے والے پاکستان تحریک انصاف کے حقیقی آزادی مارچ میں شمولیت کیلئے جنوبی پنجاب کے 27ایم این ایز اور55ایم پی ایز کے قافلے 11نومبر بروز جمعہ کو اسلام آباد پہنچنے کی اطلاعات ہیں اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کی ارکان اسمبلی اور قائدین مشترکہ طور پر 50ہزار بندوں کو اسلام آباد لے جانے کے دعوئے کررہے ہیں اب وہ اس میں کس حد کامیاب ہوتے ہیں اس بارے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مطلوبہ تعداد پوری بھی ہوپائے گی یا پھر نہیں کیونکہ اس حوالے سے مئی میں ہونے والے”امربالمعروف مارچ“ میں بھی کچھ اسی طرح کے دعوئے اور وعدے کئے گئے تھے مگر اُس میں متعدد مرکزی رہنماؤں کے ساتھ ارکان اسمبلی مختلف حیلے بہانوں سے شرکت سے انکاری ہوئے تھے اور بعض نے تو ازخود گرفتاریاں دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ تو آرہے تھے مگر پولیس نے گرفتار کرلیا جس کی وجہ سے شریک نہیں ہوسکے تھے اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ ماضی کی روایات کو برقرار رکھیں گے یا پھر اعلان کردہ افراد کو لے کر حقیقی آزادی مارچ میں شریک ہوں گے اب کی بار تو ان کے پکڑ دھکڑ کے حیلے بہانے بھی نہیں چلیں گے کیونکہ پنجاب میں ان کی اپنی حکومت ہے اور اس حوالے سے انہیں کوئی ڈر،خوف بھی نہیں۔
سائفر آڈیو انکوائری میں جہاں وائس چیئرمین و سابق وزیر خارجہ پاکستان تحریک انصاف شاہ محمود قریشی ایف آئی اے کے ریڈار پر آگئے ہیں وہاں روجھان سے منتخب ہونے والے منحرف ایم پی اے و سابق ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری کو اینٹی کرپشن نے کی ٹیم نے سرکاری زمین پر قبضے کے الزام میں اس وقت گرفتار کیا جب وہ لاہور کے نجی ہسپتال میں اپنے دادا اور سینئر سیاستدان و سابق وزیر اعظم بلخ شیر مزاری کی عیادت کیلئے آئے ہوئے تھے۔اینٹی کرپشن نے انہیں 11اکتوبر کو طلب کررکھا تھا مگر وہ پیش نہیں ہوئے تھے جس پراینٹی کرپشن نے سمن کی تعمیل کے بعدان کیخلاف مقدمہ درج کرکے گرفتار کرنے کے بعد دو روزہ جوڈیشل ریمانڈ بھی لیا تھا جوکہ گزشتہ روز ختم ہوگیا تھا تادم تحریر وہ اینٹی کرپشن کے حراست میں ہی تھے جبکہ اس حوالے سے روجھان کے عوام نے ریلیاں نکالیں اور احتجاج کیا۔ریلی میں شریک شرکاء نے پنجاب حکومت اور وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف نعرے بازی کی اور موقف اپنا یا کہ سردار میردوست محمد مزاری کے خاندان نے غریبوں میں زمینیں تقسیم کی ہیں وہ جدی پشتی نواب ہیں ان کو کیا ضرورت ہے کہ سرکاری اراضی پر قبضہ کریں یہ جھوٹا الزام لگا کر انتقامی کارروائی کی گئی ہے انہیں آئین کی پاسداری کی سزا دی جارہی ہے، رہا نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ کار بڑھا دیا جائے گا۔
فیس بک کمینٹ

