کراچی :ملک بھر میں موسلا دھار بارشوں سے 10 افراد ہلاک ہو گئے اور بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے ۔ چار افراد کراچی میں جب چھے بلوچستان میں ہلاک ہوئے ۔آج کراچی اور حیدرآباد شہر میں موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے جبکہ اگلے 48 گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں کا امکان ہے۔ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضی وہاب نے بتایا کہ شدید بارشوں کی وجہ سے کل کراچی اور حیدرآباد ڈویژن کے اضلاع میں عام تعطیل ہو گی جبکہ بارشوں کا یہ سلسلہ کل تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
وزارت اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے ٹوئٹ کیا کہ کراچی اور حیدرآباد ڈویژن میں صبح 5 بجے سے موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے، حکومت سندھ نے کل کراچی اور حیدرآباد ڈویژن میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پرائیویٹ سیکٹر سے بھی درخواست ہے کہ وہ کل اپنے دفاتر بند رکھیں۔
اتوار کو جاری کردہ تازہ ترین موسمی ایڈوائزری میں محکمہ موسمیات نے کہا کہ مون سون کی تیز ہوائیں گزشتہ رات سے سندھ میں مسلسل داخل ہو رہی ہیں اور یہ 26 سے 27 جولائی تک برقرار رہیں گی۔
میرپورخاص، بدین، ٹھٹہ، سجاول، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہٰ یار، حیدرآباد، مٹیاری، سانگھڑ، نوابشاہ، خیرپور، سکھر، لاڑکانہ، جیکب آباد، دادو، جامشورو، شکارپور، قمبر شہدادکوٹ، گھوٹکی، کشمور اور کراچی ڈویژن میں آج سے 26 سے 27 جولائی تک گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارشوں کا امکان ہے۔
بالائی کوہستان کی تحصیل کندیا میں شدید بارشوں سے آنے والے سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی ہے جس کے نتیجے میں کم از کم 50 مکانات اور چھوٹے بجلی گھر بہہ گئے۔
تحصیلدار (ریونیو افسر) محمد ریاض نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ سیلاب میں 50 کے قریب مکانات بہہ گئے ہیں، ہم نے 5 ٹیمیں تشکیل دی ہیں جنہیں امدادی کاموں اور نقصانات کا اندازہ لگانے کے لیے متاثرہ علاقوں میں روانہ کیا گیا ہے۔ایک مقامی رضاکار کے اندازے کے مطابق سیلاب کے باعث اس سے کہیں زیادہ تباہی ہوئی ہے۔
کندیا سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی کارکن حفیظ الرحمٰن نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ ایک ‘زبردست سیلاب’ نے تحصیل کندیا کے دو دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جہاں ان کے اندازے کے مطابق تقریباً 100 گھر بہہ گئے اور سیکڑوں افراد بے گھر ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ خوش قسمتی سے، گاؤں میں سیلاب پہنچنے سے پہلے ہی لوگ انخلا میں کامیاب ہو گئے لیکن بڑی تعداد میں مویشی مارے گئے جبکہ چار دیہاتوں دنش، برتی، جاشوئی اور ڈانگوئی میں پانی کی فراہمی کے نظام کو نقصان پہنچا۔
حفیظ الرحمٰن نے ڈان ڈاٹ کام کو ویڈیو بھی فراہم کیں جو مقامی افراد نے جاشوئی کے علاقے میں ریکارڈ کی تھیں، جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مکانات مکمل طور پر ڈوب گئے جبکہ ایک اور ویڈیو میں سیلاب کو ایک وادی سے گزرتے دیکھا جاسکتا ہے۔
حفیظ الرحمٰن نے کہا کہ مقامی لوگوں نے ابتدائی طور پر امدادی کام شروع کردیا تھا اور متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان عبدالرحمان کے مطابق سیلاب کے باعث 20 ہائیڈل پاورز، 30 نہریں، 4 پل اور داسو ڈیم میں کام کرنے والے چائنیز کیمپ بھی مکمل تباہ ہو گئے، 12 گاڑیاں بھی ملبے تلے دب گئیں جبکہ 20 مویشی بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اوچار نالے میں شدید سیلاب کی وجہ سے شاہراہ قراقرم بند ہو گئی جس کے باعث کوہستان کا دیگر شہر وں سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔
خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر کوہستان اور بالائی کوہستان کےمضافات میں اتوارکی رات سے شدید بارشوں کا سلسلہ جاری رہا۔لوئر کوہستان کی تحصیل بنکڈ رانولیاء کے علاقہ دوبیر سناگئی اور شڑ کے مقام پربھی واحد سڑک ندی کی تغیانی کی وجہ سے ہر قسم ٹریفک کے لیے بند ہوگئی، مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ درجنوں گاڑیاں بھی پھنسی ہوئی ہیں۔
کوہستان کے علاقے دوبیر سے تعلق رکھنے والے مقامی صحافی محمد حسن جیلانی نے بتایا کہ اس طوفانی بارشوں سے فی الحال کوئی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، اس وقت علاقے میں اشیائے خورونوش و دیگر اشیا کی قلت پیدا ہوگی ہے۔
اس حوالے سے تحصیلدار محمد ریاض نے کہا کہ ابتدائی طور پر ہم نے متاثرہ خاندانوں کے لیے 45 خیمے اور دیگر ضروری اشیا بھیجی تھیں جبکہ ریونیو افسران کی ایک ٹیم امدادی سرگرمیاں شروع کرنے کے لیے ایک گھنٹے میں متاثرہ علاقوں میں پہنچ جائے گی۔

