عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

عطاء الحق قاسمی کا کالم : پے در پے صدمات

ایک دکھ ہو تو کوئی اس کا مداوا بھی کرے۔ میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پے در پے صدمات سےگزر رہا ہوں، پہلے میری بڑی بہن ہم خاندان والوں کو روتا ہوا چھوڑ کر اپنے رب کے ہاں چلی گئی۔ ان کے بعد ان سے بے حد محبت کرنے والا بیٹا اور میرا بہت زندہ دل بھانجا سید مظہر بخاری ایک دن اچانک ﷲ کو پیارا ہوگیا اور پھرگزشتہ ہفتے ایک ہی وقت میں اپنے عزیز دوست اور صف اول کے صحافی رئوف ظاہر کے اچانک انتقال کی خبر سننے کو ملی۔ میں ابھی عزیزی اجمل شاہ دین سے جنازے کا وقت پوچھ رہا تھا کہ کراچی سے کال آئی میرے بھائی جان مرحوم ضیاء الحق قاسمی کا جواں سال بیٹا اور میرا بھتیجا پیرزادہ ظفیر الحق قاسمی بھی کار چلاتے ہوئے ہارٹ اٹیک سے انتقال کرگیا۔ میں نے وقت کی کمی اور ٹکٹ کی کمیابی کی وجہ سے عزیزم اطہر عبدالقادر حسن کو کراچی کے ٹکٹ کے حصول کے لئے فون کیا۔ میرے غم خوار دوست عذیر احمد کو پتہ چلا تو اس نے کہا آپ کے ساتھ میں بھی جائوں گا چنانچہ افراتفری کے عالم میں دوٹکٹوں کا انتظام ہوا اور ہم اس شام کراچی پہنچ گئے اور کل ہماری واپسی ہوئی۔ ان ذاتی صدموں کے علاوہ منفی دس ڈگری کے جما دینے والے موسم میں ہزارہ قبیلے کے مزدوروں کی شہادت کے سوگ اور احتجاج کے لئے کوئٹہ میں دھرنا دیا جا رہا ہے۔ شہید ہونے والے بھی رسولؐ ﷲ کے امتی اور شیعہ مسلک کے پیروکار تھے ، سو احتجاج میں اہل سنت، اہل حدیث اور دوسرے مسالک کے مسلمان بھی صدمے کا شکار ہیں مگر میرے نزدیک اس کا مزید بھرپور اظہار ہونا چاہیے۔
الحمد للہ میرے تینوں بیٹے خاندان کا پرائوڈ ہیں، یاسر پیرزادہ کالم نگار بھی ہے اور بہت کم عرصے میں اس نے اس صنف میں بھی اونچا مقام حاصل کرلیا ہے۔ یاسر، رئوف طاہر اور ظفیر قاسمی پر بہت پراثر بھرپور کالم لکھ چکا ہے، اور اس میں وہ سب باتیں بیان کر چکا ہے جو میں نےکرنا تھیں، بہرحال میری نظروں میں رئوف طاہرکی قدر و منزلت اس لئے بھی بہت زیادہ تھی کہ قلم فروشوں کے جمعہ بازار سے باہر وہ ان اہلِ قلم میں سے تھا جس نے وہی لکھا جو اس نے سچ جانا۔ ان دنوں جھوٹ بولنے اور جھوٹ لکھنے کے نرخ بہت زیادہ ہیں اور سچ بولنے اور سچ لکھنے والوں کے لئے مقدمات اور الزامات کے خزانوں کے منہ کھول دیئے جاتے ہیں۔ رئوف طاہر اگرچہ کھانے پینے کا بہت شوقین تھا، مگر رزق حرام کا کوئی لقمہ اس کے حلق سے نیچے نہیں اترا، چنانچہ اس نے ساری عمر درویشی کے عالم میں بسر کی۔ وہ سچ مچ درویش تھا۔ہر وقت سنجیدہ نظر آنے والا بس ہماری جگتوں پر ہی ہنستا تھا جو اس کی بسیار خوری کے حوالے سے ہوتی تھیں۔ وہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا حافظ تھا، اسے قیام پاکستان سے اب تک کے تمام سیاسی اتار چڑھائو اور اس حوالے سے مختلف واقعات پوری جزئیات سال، مہینہ اور دن تک یاد تھے، چنانچہ مجھے جب کبھی اس حوالے سے کچھ لکھنا پڑتا تو میں اپنے سیاسی انسائیکلوپیڈیا رئوف طاہر کو فون کرکے اس سے معلومات حاصل کرتا۔ اگر سیاسی بدگمانی سے کام لیں تو کہا جا سکتا ہےکہ واپڈا ٹائون میں رہائش کے دوران دو دفعہ اس کے گھر ڈاکہ پڑا، چنانچہ وہ وہاں سے لیک سٹی شفٹ ہوگیا، مگر ڈاکو وہاں بھی پہنچ گئے اور سعودی عرب میں طویل عرصہ تک ایک اخبار میں ملازمت کے دوران اس نے جو کمایا تھا، ڈاکو اس کا بچا کھچا بھی لے گئے۔ ﷲ تعالیٰ پاکستان کے اس دوست، میرے دوست اور صحافت کی آن رئوف طاہر کو اپنے دامانِ رحمت میں جگہ دے اور اس کے درجات بلند کرے!
اپنے بہت لاڈلے اور زندہ دل بھانجے مظہر بخاری کے بعد جس ناقابل برداشت صدمے سے دوچار ہونا پڑا وہ ظفیر کی وفات تھی، ہارٹ اٹیک کے نتیجے میں اس کی کار فٹ پاتھ کے ساتھ جا لگی اور راہگیروں نے دیکھا کہ اس کی گردن ڈرائیونگ سیٹ کے ایک طرف لڑھکی ہوئی تھی اور ہسپتال پہنچائے جانے سے بہت پہلے وہ انتقال کر چکا تھا، ظفیر کے ساتھ میرا ایک نہیں کئی رشتے تھے، وہ میرے اکلوتے بھائی کا بیٹا تھا، میری بہن راشدہ قاسمی اور میرے فرسٹ کزن سید عذیر شاہ کا داماد تھا، چنانچہ مظہر بخاری کی طرح اس کی وفات بھی پورے خاندان کے لئے شدید صدمے کا باعث بنی۔ اس کی بیوی اور بہنوں کے بین سنے نہیں جاتے تھے اور بھائی فہیم قاسمی اتنا رو رہا تھا کہ اس کی حالت دیکھ کر مجھے اس کی فکرلاحق ہوگئی تھی، یہی حال عذیر شاہ اور میری بہن کا بھی تھا۔
مگر یہ تو ذاتی احوال ہے۔ رئوف طاہر اور ظفیر قاسمی میں ایک قدر مشترک بھی تو تھی، دونوں رزق حلال پر یقین رکھتے تھے۔ ظفیر بیٹا ایف آئی اے میں گریڈ سترہ کا ملازم تھا اور اس محکمے کے نچلے درجے کے ملازمین کو بھی میں نے شاہانہ زندگی بسر کرتے دیکھا، جبکہ ظفیر نے ساری عمر عسرت میں بسر کی۔ وہ بہت ذہین تھا، مجھ سے نئے نئے منصوبے ڈسکس کیا کرتا تھا، میں اسے کہتا یار خوابوں کی دنیا سے نکل آئو، زندگی کی حقیقتیں بہت تلخ ہیں، مگر اتنے طباع لوگ اپنے خیالوں کی دنیا سے باہر نہیں آسکتے۔ میں نے رئوف طاہر کے لئے بھی مغفرت کی دعا مانگی، اپنے بھانجے مظہر بخاری اور اپنے بیٹوں جیسے بھتیجے ظفیر قاسمی کے لئے دعائے مغفرت ہی کرسکتا ہوں حالانکہ میں ان کی نیک باطنی سے واقف ہوں،مگر ہمیں ہر حال میں دعا کا حکم دیا گیا ہے۔

( بشکریہ : روزنامہ جنگ )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker