2018 انتخاباترضی الدین رضیکالملکھاری

زعیم قادری اور جمال لغاری کا زعم : ڈرتے ڈرتے / رضی الدین رضی

دو تین روز سے مختلف محفلو ں میں محترم زعیم قادری اور سردار جمال خان لغاری کا زعم گفتگو کا موضوع ہے۔ یہ وہی زعیم قادری ہیں جو شریف خاندان کی بدعنوانیوں کابھرپور دفاع کیاکرتے تھے۔ پنجاب مسلم لیگ کے عہدیدار اور پارٹی ترجمان کی حیثیت سے نوازشریف،شہبازشریف سمیت پورے خاندان کا پوری یکسوئی اور خشوع وخضوع کے ساتھ دفاع کرنا زعیم قادری صاحب کے فرائض منصبی میں شامل تھا۔ ہم تو آج تک اسی غلط فہمی میں رہے کہ زعیم صاحب بھی بدعنوان ٹولے کے رکن ہیں اور وہ نوازشریف ،شہبازشریف اور خاندان کے دیگر افراد کے بارے میں جو کچھ کہتے ہیں سچے مسلمان اور پکے مسلم لیگی کی حیثیت سے ہی کہتے ہیں۔وہ گفتگو کے دوران اتنے پرجوش اور سچے نظرآتے تھے کہ کبھی شائبہ بھی نہیں ہوا تھا کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں صدق دل سے نہیں کہہ رہے ۔اس تمام عرصے میں انہوں نے کبھی بھی یہ ظاہر نہیں ہونے دیاتھا کہ وہ حمزہ شہباز کے بوٹ پالش کررہے ہیں۔ زعیم قادری 2008ءسے 2018ءتک پنجاب اسمبلی کے رکن رہے۔وہ مسلم لیگ(ن) کے ٹکٹ سے دومرتبہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے جس کے بعدشادیوں کے شوقین شہبازشریف نے انہیں اوقاف اور مذہبی امور کا صوبائی وزیر بھی بنادیا۔اوقاف اورمذہبی امور کے وزیر کی حیثیت سے زعیم قادری نے بہت تندہی کے ساتھ پنجاب میںعلماءو مشائخ کو مسلم لیگ (ن) کے ساتھ یکسو رکھا۔زعیم قادری کی اہلیہ سیدہ عظمی قادری بھی 2013ءمیں مسلم لیگ(ن) کی جانب سے مخصوص نشستوں پر پنجاب اسمبلی کی رکن رہیں۔ حال ہی میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے مخصوص نشستوں کے لیے خواتین کی جو فہرست جاری کی گئی ہے اس کے تناظر میں مخصوص نژستوں کے ٹکٹ کا جو معیار اور میرٹ سامنے آیا ہے اس سے تو یوں لگتا ہے کہ جیسے خود زعیم قادری اوران کی اہلیہ محترمہ عظمی قادری کو شریف خاندان کے فرد کا درجہ حاصل تھا۔جس طرح اس مرتبہ شریف خاندان نے اپنے گھر کے افراد کوہی مخصوص نشستوں کے ٹکٹ دیئے ہیں ، ماضی میں بھی اسی سطح کے قابل اعتماد افراد کو ہی اسمبلیوں میں بھیجا جاتاتھا۔شریف خاندان کے دور حکومت میں محترمہ عظمی قادری اور خود زعیم قادری نے بارہا ٹی وی پروگراموں اور پریس کانفرنسوں میں مسلم لیگ(ن)اور شریف خاندان کا بھرپور دفاع کیا۔21جون کو خدا معلوم کیا ہوا کہ زعیم قادری نے یک دم نہ صرف یہ کہ مسلم لیگ کے خلاف بغاوت کردی بلکہ پریس کانفرنس میں یہ بھی کہہ دیا کہ میں اب حمزہ شہباز کے بوٹ پالش نہیں کروں گااور یہ بھی کہا کہ لاہور حمزہ شہبازاور اس کے باپ کی جاگیر نہیں۔بوٹ پالش کی اصطلاح ان انتخابات میں کچھ اس انداز میں استعمال ہورہی ہے کہ اس کے نتیجے میں دھیان کسی اور جانب ہی چلا جاتا ہے۔ زعیم قادری کے اعتراف نما انکار نے سوشل میڈیا پر بحث کے نئے در وا کردیئے ہیں۔لوگ یہ سوال کررہے ہیں کہ زعیم قادری نے اگر حمزہ شہباز کے بوٹ پالش کرنے سے انکار کیا ہے تو اس انکار کے پیچھے چھپا اقرار کس جانب ہے۔یہ بھی پوچھا جارہاہے کہ کیا وہ صرف حمزہ شہباز کے بوٹ ہی پالش کرتے تھے یا حمزہ کے ساتھ انہیں ان کے بزرگوں کے بوٹ بھی چمکانا پڑتے تھے۔اور 2018ءکے انتخابات کی نئی حکمت عملی میں اگر انہوں نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے تو کیا اب وہ شریف خاندان کے کسی بھی فرد کے بوٹ پالش نہیں کریں گے؟ اور کیا انہیں اپنے 10سالہ تجربے کی بنیاد پر یہ کام کسی اور جگہ سونپ دیاگیا ہے۔ اورکیا انہوں نے نوکری فراہم کرنے والوں کی آوازپر واقعی لبیک بھی کہہ دیا ہے۔بعض لوگ اسے شریف خاندان کے داخلی انتشار کا شاخسانہ قراردے رہے ہیں اور دوسری جانب کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ زعیم قادری کو انکار کا حوصلہ کسی اور نے دلایا ہے۔یہ کوئی اور کون ہے اس بارے میں تاریخ بھی خاموش ہے اورراوی بھی کچھ نہیں کہتا۔ راوی بے چارہ تو صرف یہ کہتاہے کہ ان ا نتخابات میں ابھی بہت سے کرتب ہونا باقی ہیں۔ان انتخابات میں تخت بھی گرائے جائیں گے اور تاج بھی اچھالے جائیں گے۔ اوراس عمل میں سب کچھ کہیں اور سے نہیں ہوگا۔ کچھ نہ کچھ تو لوگ اب خود بھی کرنے جارہے ہیں۔بالکل اسی طرح جیسے ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقے میں ایک نوجوان نے دہشت کی علامت سمجھے جانے والے سردارجمال خان لغاری کو روک کر ان سے ایک سوال کر دیا اور پھر یہ سوال اور اس کا جواب مکمل ہونے سے پہلے ہی بہت سے نئے سوالات سامنے آگئے ۔عزت مآب لغاری قبیلے کے تمن دار سردارجمال خان لغاری نے کب تصورکیا ہوگا کہ یہ میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس ان کے غلام کبھی ان سے سوال کرنے کی جرات بھی کرلیں گے۔اور جب سردار نے پوری رعونت کے ساتھ کہا کہ پہلے میرے سوال کا جواب دو۔”یہ 40کلومیٹر سڑک تمہیں کس نے دی ہے ؟“ اور ایک سادہ لوح نوجوان نے اونچی آواز میں سردار کوجواب دیا ”جمہوریت نے دی ہے “۔تو گویا جمال خان لغاری کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ ”جمہوریت جمہوریت جمہوریت ۔میں سب جانتاہوں کیا ہے جمہوریت۔ووٹ کی ایک پرچی وہ بھی قبیلے کے سردار کے لیے اوراس پر اتنا ناز ۔“جمال خان لغاری کی بے بسی ان کے ایک ایک لفظ سے جھلک رہی تھی۔وہ علاقہ جہاں سے ان کے والد سردار فاروق خان لغاری بھاری اکثریت سے کامیاب ہواکرتے تھے اورجہاں کسی مہمان پرندے کو بھی پرمارنے جرات نہیں ہوتی ۔اور جہاں سردار جمال خان لغاری تلور کا شکارکرکے اپنی تصویریں سوشل میڈیا پرلگاتے ہیں اور کمزور پرندوں کومار کر لوگوں کو بتاتے ہیں کہ میں کتنا طاقت ور ہوں۔اور وہ علاقے کہ جہاںکوئی قانون بھی نافذ نہیں۔جہاں کوئی سکول بھی نہیں۔ہسپتال اور پینے کا صاف پانی بھی نہیں۔اس علاقے کے نوجوانوں کو تعلیم حاصل کرنے کے بعد انگریزی بولنا بھی آگئی اور وہ انگریزی بھی اپنے سردار کے سامنے بولتے رہے۔ اورجب سردار بے بس ہو کر وہاں سے روانہ ہوا تو نوجوانوں نے اس کا مذاق بھی اڑایا ۔سردار نے کہاکہ میں اب تمہارے سوال کا جواب 25جولائی کو دوں گا۔اور پڑھے لکھے گستاخ نوجوان نے جواب دیا کہ سر ہم بھی 25جولائی کوہی آپ کو جواب دیں گے۔25جولائی کو کسے کیا جواب ملے گا اس کا ہمیں بھی انتظار ہے۔زعیم قادری کو بھی۔جمال لغاری اور اس پڑھے لکھے گستاخ نوجوان کوبھی ۔
( بشکریہ : روزنامہ نئی بات )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker