رضی الدین رضیسرائیکی وسیبلکھاری

ملتان مرا رومان : یادیں ( 13 ) ۔۔ رضی الدین رضی

طاقت ورلوگ اور ایک کمزور صحافی

تنخواہ اس کی چھ سوروپے ہے اور وہ نیوزر وم میں بیٹھا تھا ۔نواب پور کے مظلوموں کی داد رسی کوئی بھی نہیں کررہاتھا ۔بستی کے لوگ ایک بس میں سوارہوکر ڈیرہ اڈا پہنچتے ہیں اور امروز کے دفتر جاکر اپنی بپتا سناتے ہیں۔اگلے روز امروز میں صفحہ اول پران کی فریاد شائع ہوجاتی ہے۔دو روز بعد اس نوآموز صحافی کے پاس کچھ تصویریں آتی ہیں جو ان ملزموں کی ہیں جنہوں نے ان عورتوں پر ظلم ڈھایا اور انہیں سربازار برہنہ کردیا۔یہ تصاویر کسی اور اخبار میں شائع نہیں ہوئی تھیں۔اس نے تصاویر آرٹ ایڈیٹر کو دیں کہ ان کے مطابق صفحہ اول کا لے آﺅٹ تیارکر لے ۔پھراس نوجوان کے ساتھ رابطے شروع ہوئے۔ چھ سوروپے کی معمولی تنخواہ پر کام کرنے والے کو کہا گیا اگرو ہ یہ تصاویر شائع نہیں کرے گا تواسے انعام دیاجائے گا۔ہزار دوہزار روپے بھی اس زمانے میں بہت زیادہ ہوتے تھے لیکن یہاں تو بولی ہی پانچ چھ ہزار روپے سے شروع ہوئی تھی۔
” یہ تصویریں ضرور شائع ہوں گی ۔“ اس نے پیشکش کرنے والے کو بری طرح دھتکار دیا۔
پیغام بر کچھ دیر بعد دوبارہ واپس آگیا ۔رقم مزید بڑھا دی گئی ۔ساتھ میں کچھ دھمکیاں بھی اس تک پہنچا دی گئیں ۔
اب وہ مشتعل ہوگیا۔” جاﺅ انہیں کہہ دو ،یہ تصویریں ہرحال میں شائع ہوں گی “
پانچ سو ر وپے تنخواہ لینے والے کو تصویریں روکنے کے عوض اس کی اوقات سے زیادہ پیشکش کی جارہی تھی ، اتنی زیادہ کہ پھر اسے عمر بھر کوئی کام کرنے کی بھی ضرورت نہ رہتی ۔ مگر وہ اصولوں پر ڈٹا ہوا تھا۔وہ خود کو طاقت ور سمجھتا تھا۔اور سمجھتا تھا کہ وہ یہ تصاویر شائع کرنے میں کامیاب ہوگیا تو انقلاب آجائے گا ۔وہ انہیں گالیاں بھی دے رہا تھا اور اخبار بھی تیارکروار ہاتھا۔مجرموں کی تصاویرکے ساتھ صفحہ اول تیارہوگیا۔وہ بہت خوش تھا کہ وہ اس چھوٹے سے اخبار کے ذریعے بہت بڑے مجرموں کو بے نقاب کرنے جارہاہے۔لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ وہ ایک معمولی سا کارکن صحافی ہے ۔پانچ سو روپے کے عوض کام کرنے والا صحافی ۔ اور صحافی بھی کہاں ابھی تو وہ سیکھنے کے مراحل میں تھا۔کچھ عرصہ ہی توہواتھا اسے صحافت سے وابستہ ہوئے۔کاپی پریس میں جانے ہی والی تھی کہ فون کی گھنٹی بجی ۔دوسری جانب سے اخبار کے مالک کی آواز سنائی دی ۔” تصویریں اتاردو۔“
” سر یہ بہت اہم تصویریں ہیں اور کسی اور اخبار کے پاس بھی موجودنہیں۔“
” اگر کسی کے اور کے پاس موجودنہیں تو کیا ہمارا دماغ خراب ہے کہ ہم یہ شائع کریں“ ۔
اس نے تصویریں اتاردیں اور بوجھل قدموں کے ساتھ گھر کی جانب روانہ ہوگیا۔
رات بھر وہ جاگتارہا۔پانچ سوروپے تنخواہ والے کو باربار یاد آتا تھا کہ اسے کتنی بڑی رقم کی پیشکش کی گئی تھی۔وہ باربار سوچتاتھاکہ تصویریں تو وہ پھربھی شائع نہ کرسکا۔ اگرپیسے ہی وصول کرلیتا تو کم ازکم پانچ سوروپے والی نوکری کی تو ضرورت باقی نہ ر ہتی۔

آموں کے باغات، کوڑے اور تالیاں

پھراسی نواب پور میں اقبال شیخانہ اوراس کے ساتھیوں کو کوڑے مارے گئے ۔سارا شہر تماشائی تھا ۔ شہر سے لوگوں کی بڑی تعداد سائیکلوں اور تانگوں پر وہاں پہنچی تھی اور وہ نوجوان صحافی بھی وہاں موجود تھا ، وہ ان طاقت ور لوگوں کی رسوائی دیکھنے گیا تھا جن کی تصاویروہ شائع نہیں کر سکا تھا لیکن اب وہ تصویریں سب اخبارات میں شائع ہونے والی تھیں ۔اقبال شیخانہ اور اس کے ساتھی چیختے تھے اور شہر والے تالیا ں بجاتے تھے اور یہ کوڑے نہر کے پاس ایک میدان میں لگائے گئے تھے اور کچھ ہی فاصلے پر آموں کے باغات تھے وہی آم جو اس شہر کی پہچان ہیں اور اس وقت سے پہچان ہیں جب اسے مینگو سٹی بھی نہیں کہا جاتا تھا ۔ اور وہ آم جب شہروالے کھاتے ہیں تو ان کے لہجے میں بھی مٹھاس آتی ہے۔ اتنی مٹھاس آتی ہے کہ وہ حملہ آوروں کوبھی ”آئے وے سائیں“ کہہ کر اپنے سرجھکا دیتے ہیں۔ اپنی گردنیں انہیں پیش کردیتے ہیں۔

( جاری )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker