رضی الدین رضیسرائیکی وسیبلکھاری

ملتان مرا رومان : یادیں ( 11 ) ۔۔ رضی الدین رضی

سبز پتوں والے آرائشی دروازے اور قمقموں والا مور

بازاروں میں آرائشی دروازے بنائے جاتے تھے اور وہ آج کے دروازوں جیسے نہیں ہوتے تھے۔ان میں ٹین ڈبوں یا پلاسٹک کا استعمال نہیں ہوتا تھا۔بانسوں کے گردپتے باندھے جاتے تھے اورپھر ان بانسوں کو زمین میں نصب کر دیا جاتا تھا۔یوں بہت مہارت کے ساتھ ان بانسوں کی مدد سے ایک سرسبز و شاداب دروازہ بن جاتا تھا کہ جس میں سے گزرتے تو پتوں کی خوشبو آتی تھی ، کمپنی باغ کے پتوں والی خوشبو ۔پورے بازار میں مختلف مقامات پر یہ دروازے نصب کردیئے جاتے تھے۔ان دروازوں پر قمقموں والے بورڈ لگے ہوتے تھے جو اللہ محمد کے ناموں سے جگمگاتے تھے۔کچھ بورڈ روشن ہوتے تو پھول کِھلتا تھا۔اورایک بورڈ ایسا بھی تھا کہ جس پر قمقموں والا مور اپنے پر پھیلاتاتھا اور دروازے سے گزرنے والوں کو ایک بورڈ میں روشن ہوتا ہوا لڑکا سلیوٹ کرتا تھا اور ہم سب یہی سمجھتے تھے کہ مور ہمیں دیکھ کر پنکھ پھیلاتا ہے اور وہ کیپ والا لڑکا بھی ہمیں ہی والہانہ انداز میں سلام کرتا ہے۔جھنڈیوں کی ایک چھت بنادی جاتی تھی جس میں کہیں کہیں قمقمے بھی آویزاں ہوتے تھے۔کاغذوں کے آرائشی پھول اورجھالریں اس زمانے میں عام تھیں اور سجاوٹ میں ان کا استعمال زیادہ ہوتا تھا ۔ بہت خوبصورتی کے ساتھ کاٹے گئے کاغذوں کو گتے پر چسپاں کردیا جاتا تھا اور گتے کے دونوں سروں کو جب جوڑتے تھے تو پھول یا فٹ بال بن جاتا تھا۔یہ آرائش بازار میں جا بجا دکھائی دیتی تھی ۔



چھیلو کا ہوٹل اور عزیز میاں اور غلام فرید صابری کی قوالیاں

اس دور میں بے ہنگم ٹریفک نہیں ہوتی تھی۔کچھ سائیکل ،موٹرسائیکل اور موٹرکاریں دکھائی دیتی تھیں۔بازاروں کو اس ”ٹریفک“ کے لیے بھی بند کر دیا جاتا تھا۔صدربازار میں جہاں چھیلوکا ہوٹل ہے وہاں ایک سٹیج ہوتا تھا اوراس کے سامنے دریاں بچھی ہوتی تھیں۔رات نو یادس بجے کے بعد اس سٹیج پر کبھی سیرت کا جلسہ ہوتا تو کبھی قوالی کی محفل سجتی تھی اوراس محفل میں اگر غلام فرید صابری یا عزیز میاں قوال تشریف لاتے تو تاحد نظر لوگوں کا ہجوم ہوتا تھا۔ہمیں یاد پڑتا ہے کہ عزیز میاں کی قوالی ”اللہ ہی جانے کون بشر ہے“ہم نے پہلی بار اسی محفل میں سنی تھی ۔ہم اس محفل میں تو موجود نہیں تھے کہ بچوں کو نو دس بجے کے بعد گھروں سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی لیکن قوالی کے لئے جو لاﺅڈ سپیکر نصب کئے گئے تھے ان کی قطار ہمارے گھر تک آتی تھی۔ سو ہم گھر بیٹھ کر قوالیوں سے بھی لطف اندوز ہوتے تھے اور جب یہی قوالی ایک بار ہم نے ریڈیو یا کسی ٹیپ ریکارڈر پر سنی تو اپنے دوست کو فخر کے ساتھ بتایا تھا کہ یہ وہ قوالی ہے جو عزیز میاں نے ہمارے محلے میں گائی تھی۔

ننھے منے محمد بن قاسم سے کم سن راحیل شریف تک

حسین آگاہی،دولت گیٹ، گھنٹہ گھر کے منظر کچھ اور تھے۔وہاں یہ سب آرائش اور جلسے بھی ہوتے تھے اور عید میلادالنبی ﷺکاجلوس بھی نکلتا تھا۔ وہ جلوس پہلی بار ہم نے 80ءکے عشرے میں دیکھا اور حیران ہوئے۔
عربی لباس میں بچے ،سکاﺅٹ ،اونٹوں پربیٹھے نوجوان تلواریں ،ڈھال ،ماڈلز اور جانے کیا کیا کچھ۔ یہ جلوس گزشتہ آٹھ عشروں سے انجمن اسلامیہ کے زیراہتمام نکالاجاتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں نئے لوگ شامل ہوتے جاتے ہیں۔اب اس جلوس میں بھی بہت سی تبدیلیاں آگئی ہیں۔ہم نے اپنی جوانی میں اس جلوس میں ننھے منے” محمد بن قاسم “ہی شرکت کرتے دیکھے تھے۔اب ان کے ساتھ ساتھ بہت سے کم سن ”راحیل شریف“ بھی عید میلادالنبیﷺ کے جلوسوں میں جلوہ افروز ہوتے ہیں۔فوجی وردیاں ،میڈل اورجانے کیا کیا کچھ۔ہمیں اس پر بھی اعتراض نہیں۔اعتراض تو اس بات پر ہے کہ کئی نوجوان اب ہمیں ان جلوسوں میں مختلف ٹی وی کرداروں کالبادہ اوڑھے بھی دکھائی دیتے ہیں۔



بوندی مٹر کی شیرینی اور دیگوں کا دکھاوا

جلوس کے راستے میں استقبالیہ کیمپ اب بھی لگتے ہیں لیکن ان میں وہ بوندی مٹر والا لفافہ نہیں ملتا جو ہمیں اپنے بچپن میں وہاں سے شیرینی کے طور پر ملتا تھا۔ محرم کے جلوسوں کی طرح گرمیوں کے موسم میں عیدمیلادالنبیﷺ کے جلوسوں کے راستوں میں بھی سبیل لگائی جاتی تھی۔جہاں لوگ پیاس بجھانے کی سبیل کرتے تھے۔اب تو سب کچھ لنچ باکس یا ٹِن پیک کی صورت میں تقسیم ہوتا ہے ۔وقت جو بدل چکا ہے۔اور شیرینی یا تبرک پر یاد آیا کہ ہمارے بچپن میں محرم کی طرح عیدمیلادالنبیﷺ کے موقع پر بھی گھر میں‌کچھ نہیں‌پکایا جاتا تھا کہ ان مواقع پر محلے سے نیاز جو آ جاتی تھی ۔ نیاز بلاتفریق ہرگھر میں دی جاتی تھی۔ہمارے محلے میں جو آٹھ دس گھر تھے ان میں سے ہر گھر میں کچھ نہ کچھ پکایا جاتا ۔کہیں حلوہ، کہیں پلاﺅ ،کہیں زردہ اور کہیں کوئی اور پکوان ۔ اوریہ سب کچھ دیگوں میں نہیں دیگچیوں میں تیار ہوتا تھا۔بس اتنا کہ گھر کے لوگ خود کھا لیں اور محلے کے چند گھروں میں ایک ایک پلیٹ تقسیم کردی جائے۔ مقصد ثواب کا حصول تھا،دکھاوا تو نہیں کرنا ہوتا تھا ۔نیاز پر زیادہ خرچہ بھی نہیں آتا تھا۔جو بھی حسب توفیق جو چاہتا بنا کر تقسیم کردیتا۔زردے میں کشمش ،بادام اور گریاں ہوتی تھیں۔ابھی رس گلے اور مربہ اشرفی زردے میں ڈالنے کا رواج نہیں ہوا تھا۔سو ہم کشمش اور بادام والا زردہ بہت شوق سے کھاتے تھے۔ اور اس لیے شوق سے کھاتے تھے کہ اس میں سے کبھی کڑوا بادام منہ میں نہیں آتا تھا ۔اب ہزاروں پونڈ کیک اور کئی کئی من کی دیگیں پکائی جاتی ہیں اور ان کی خبریں چینلز اور اخبارات میں آتی ہیں ۔ ممکن ہے نیت ثواب کی ہو، ممکن ہے قبولیت بھی ہو جائے لیکن پکانے والوں کے ذرائع آمدن تو ہم بخوبی جانتے ہیں ۔دوستو ہم نے جس زمانے کی باتیں آپ کو سنائیں یہ وہ زمانہ تھا جب ابھی مذہب میں دکھاوا نہیں آیاتھا۔جب ان جلوسوں اورجلسوں میں شریک ہونے والوں نے اپنے خاص حلیے نہیں بنائے تھے۔ اور یہ وہی زمانہ تھا کہ جب ان جلوسوں کے لیے سکیورٹی کے انتظامات بھی نہیں کرنا پڑتے تھے کہ خودکش بمباروں نے ابھی عیدمیلادالنبی ﷺ کے جلسوں اور جلوسوں کو نشانے پر نہیں لیا تھا۔
( جاری )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker