2018 انتخاباتاختصارئےرضی الدین رضیلکھاری

خیر مبارک بھائی خیر مبارک ۔۔ رضی الدین رضی

خیر مبارک بھائی خیر مبارک ۔۔ یار ان کی حرکتیں تو دیکھو ۔ گاؤں آبادنہیں ہوا محب وطن لٹیرے نئے چولے پہن کر” دے جا سخیا راہ خدا “ کی صدا بلند کرتے پہلے پہنچ گئے ہیں ۔ کچھ تو ان سے بھی پہلے وہاں ہڈی چوس رہے تھے اور کچھ جو دور کھڑے دم ہلاتے تھے اپنی ایمانداری کا راگ الاپتے ہوئے رقص کناں ہیں ۔ مشرف سے لے کر زرداری اور یوسف رضا تک ہر حاکم کے تسمے باندھنے والوں کو اصل پاکستان تو اب نظر آنے لگا ۔ اس میں سے انہوں نے نئے عہدے بھی تلاش کرنے ہیں اور غیر ملکی دوروں پر بھی جانا ہے ۔ امن اور رواداری کے لئے مزارات پر رقص کرنے کے ساتھ ساتھ مخدوموں کو گالی بھی دینی ہے اور کوئی نیا ہیلی کاپٹر اور طیارہ بھی تلاش کرنا ہے ۔ ترقی پسندی بھی سلامت رہے کچھ روشن خیالی بھی آ جائے اور جناب ہم مسلمان تو ویسے بھی ہمیشہ سے ہیں ۔ ذرا سی کوئی این جی او اگر پناہ دے دے تو یہ جو دو چار کام ادھورے رہ گئے تھے اُس ” بدمعاش“ دور میں وہ بھی پورے ہو جائیں گے ۔ چیزوں کو سمجھنا بہت ضروری ہوتا ہے ۔ ملازمت کے بھی آداب ہوتے ہیں ۔ اور ہم تو ہمیشہ سے سیلف میڈملازمت پیشہ لوگ ہیں‌جناب ۔ کرکٹ کے تو اتنے دیوانے ہیں کہ مت پوچھیں ۔ عمران خاں نے جب ورلڈ کپ جیتا تو ہم نے روزہ رکھنے کی منت مانی تھی ۔ وہ دن اور آج کا دن مسلسل روزے رکھ رہے ہیں ۔ اور یہ جو ہر کالم نگار متوقع وزیر اعظم کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلق کا ڈھنڈورا پیٹ رہا یہ بہت اوچھی حرکت ہے ۔ ہمارے ساتھ میانوالی کے نیازیوں اور خان کے اجداد کا دیرینہ تعلق ہے لیکن ہم نے کبھی باور کرایا ؟ ۔۔ ہم نے تو آج تک لغاریوں ، کھوسو ں ، دریشکوں اور جرنیلوں کے ساتھ اپنے مراسم ظاہر نہیں ہونے دیئے ۔ بھئی ہم لکھنے پڑھنے والے لوگوں کا سیاست سے کیا تعلق ۔ ہم تو ویسے بھی بلا وجہ بدنام ہو گئے ۔ ایوارڈ کی کوشش کون نہیں کرتا ؟ بھئی اگر ہم نے کر لی تو کیا فرق پڑ گیا۔ عطاء الحق قاسمی نے اگر پی ٹی وی پر ہمیں پروگرام اورمشاعرے دیئے تو کوئی احسان تو نہیں کیا یہ ہمارا حق تھا بھائی ۔دیکھو یہ نیا پاکستان ہے اگر کوئی لیڈر مل ہی گیا ہے بھٹو صاحب کے بعد تو اس کی قدر کرو ۔ ہمیں اصل میں گریہ کی عادت پڑ گئی ہے ۔ہر لیڈر کے عیب گنتے ہیں‌۔ کوئی آسمان سے فرشتہ بھی آ گیا تو اسے فرشتہ ہونے کا طعنہ دے دیں گے ۔ نیا پاکستان ہے تو روئیے بھی نئے ہونے چاہیئں ۔ انگریزوں کے کتے نہلانے والے بھلا کتوں پر اعتراض کیوں کرتے ہیں ۔ رہ گئی دھاندلی تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ دھاندلی کے بغیر انہوں نے جانا بھی نہیں تھا ۔ دھاندلی ہی کی ہے نا ماڈل ٹاؤن میں بندے تو نہیں مارے ۔؟ کیا کہا ۔۔ ہم پاکستان کیوں نہیں آتے ؟ کیا کرنا ہے یہاں آ کر۔ لوگ طعنے دیں گے کہ باپ کی موت پر تو آیا نہیں اب لیڈر کو مبارک دینے آ گیا ہے ۔ بس ہم یہیں ٹھیک ہیں ۔ ویسے بھی وہاں گرمی بہت ہے پِت نکل آئے گی ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker