رضی الدین رضیسرائیکی وسیبعلاقائی رنگکالملکھاری

تخت ملتان کی میٹرو ۔۔ رضی الدین رضی

۔”وابستگان ملتان“ کے ایک مضمون میں ہم نے لکھا تھا کہ پانچ ہزار سال پرانے شہر میں سانس لینا ایک خوشگوار تجربہ ہے ۔قدم قدم پر آپ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ تاریخ آپ کے ساتھ سفر کر رہی ہے اور پھر جب آپ کسی راستے پر کسی گلی،کسی سڑک یا کسی چوراہے سے گزرتے ہیں تو ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ وہ کون شخص ہو گا جس نے پہلی بار ہر خوف کو بالائے طاق رکھ کر ویرانے میں یہ راستہ بنایا ہو گا۔جس نے پہلی بار کوئی ر ہ گزربنائی ہو گی جو آج کسی گلی،سڑک یا شاہراہ کی صورت میں موجود ہے۔اور ہم وہاں سے گزرتے ہیں تو کبھی نہیں سوچتے کہ ان راستوں سے کون کون کس حال میں گزرا ہو گا۔کوئی ہنستا مسکراتا دھمال ڈالتا اور کوئی آہ وفغاں اور ماتم کرتا کہ راستہ جو بھی ہو ،زندگی جیسی بھی ہو ،خوشی اور غم تو ہمیشہ ساتھ ساتھ ہی چلتے ہیں۔یہ شہر ہم سے پہلے ہمارے بزرگوں اور ان سے پہلے ان کے بزرگوں نے جیسا دیکھا اب ویسا نہیں ہے۔خود ہم نے 70ءکے عشرے (اپنے بچپن) اور اس کے بعد کے دنوں میں اس شہر کو جیسا دیکھا اس کا تذکرہ کرنے بیٹھیں تو یہ ایک طویل کہانی ہو گی۔یوسف رضاگیلانی نے اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دوران جب نئی شاہراہیں اور فلائی اوورز تعمیر کئے تو شہر کا پورا نقشہ تبدیل ہو گیا تھا۔خود ہمارا بچپن اور لڑکپن جس علاقے میں گزرا اور جو گھر ہم نے اپنے بچپن میں دیکھے وہ یا تو اب موجود ہی نہیں یا ان کا نقشہ بدل چکا ہے۔ نئے پلازے اور شاپنگ مال تعمیر ہو چکے ہیں ۔چھاﺅنی کے علاقے میں نصرت الاسلام گرلز سکول کے قریب سے عزیز ہوٹل کے راستے ریلوے سٹیشن تک کا سفر ہم نے اپنے بچپن میں اپنے دادا کی انگلی تھام کر بارہا کیا۔جب یہاں فلائی اوور اور پھرچوک عزیز ہوٹل میں ایک خوبصورت چوراہا تعمیر ہوا تو اس سارے علاقے کا منظر ہی بدل گیا۔اگر کوئی دس پندرہ سال کے بعد ملتان آئے تو حیرت سے ان شاہراہوں اور راستوں کو دیکھتا ہے اور جن راستوں پر کبھی وہ آنکھیں بند کر کے سفر کرتا تھا اور راستے میں آنے والے گڑھوں کو بھی بند آنکھوں سے پہچانتا تھا اب انہی راستوں پر وہ بھٹک جاتا ہے اور پھرہمیں فون کرتا ہے ”بھائی ،میں فلاں جگہ موجود ہوں اور مجھے فلاں راستے پر جانا ہے ۔مجھے تو سمجھ ہی نہیں آ رہی کہ کہاں اور کیسے پہنچوں۔ تمہارا ملتان تو یکسر بدل چکا ہے۔“
دو سال قبل جب ملتان میں میٹرو بس کے منصوبے کا اعلان ہوا تو ہمارے بہت سے دوستوں نے اس کی بھرپور مخالفت کی تھی۔ملتان کے اراکین اسمبلی بھی اس کے حق میں نہیں تھے۔کہا یہ جا رہا تھا کہ یوسف رضاگیلانی نے جو فلائی اوور اور کشادہ سڑکیں تعمیر کروا دی ہیں ان کے بعد ملتان میں میٹرو بس کا کوئی جواز نہیں۔اور یہ ویسی ہی مخالفت تھی جو مجھ سمیت بہت سے لوگوں نے 90ء کے عشرے میں پہلے موٹروے کی تعمیر کے موقع پر کی تھی۔اس وقت ہمیں یہ رائے ونڈ فارم کا منصوبہ دکھائی دیتا تھا ۔اور ہم سمجھتے تھے کہ پاکستان میں تعلیم ،صحت اور سیوریج جیسے مسائل کی موجودگی میں موٹروے کی تعمیر غیر ضروری ہے۔اور یہ موٹروے صرف حکمران کمیشن کھانے کے لئے تعمیر کرا رہے ہیں۔پھر موٹروے جب تعمیر ہو گیا اور سفر آسان ہوا تو ہمیں اس کی افادیت کا اندازہ ہوا اور پھر خود پیپلزپارٹی نے جو موٹروے کی سب سے بڑی مخالف تھی اپنے دور اقتدار میں نئے موٹرویز تعمیر کروائے ۔کچھ ایسی ہی صورت میٹرو کی ہے جسے عرف عام میں” جنگلہ بس“ کانام دیا جاتا ہے۔ہمارا مؤقف دوسال پہلے بھی یہی تھا کہ ہمیں اس منصوبے کی مخالفت نہیں کرنا چاہیے ۔اگر فلائی اوورزکی تعمیر اور سڑکوں کی توسیع میں اقربا پروری بھی کی گئی ۔اپنے دوستوں کو نوازا اورکمیشن بھی کھایا گیا تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ وہ اس منصوبے کے علاوہ بھی تو بہت کچھ کھا رہے تھے۔اور اگر میٹروبس میں بھی حکمران اپنے کھانے پینے کا اہتمام کر رہے ہیں تو اس پر معترض نہ ہوں کہ اس بہانے شہریوں کو بھی تو کوئی سہولت میسر آ جائے گی۔یہ تو ایک طے شدہ بات ہے کہ حکمران عوامی فلاح کا جو بھی منصوبہ بناتے ہیں اس میں ان کی اپنی کوئی غرض ضرور شامل ہوتی ہے۔ برصغیر میں بادشاہوں نے جتنی بھی سڑکیں تعمیر کروائیں ان کامقصد بھی کوئی عوام کو سہولت دینا تو نہیں تھا وہ سڑکیں تو بادشاہوں نے اس لیے بنائی تھیں تاکہ وہ اپنے اقتدار کو مستحکم رکھ سکیں اور کسی بھی شورش کو کچلنے کے لئے تیزی سے اپنی فوجوں کو حرکت میں لا سکیں۔اسی طرح برطانوی دور میں ہم نے اس خطے میں مواصلات کے نظام میں بہت ترقی دیکھی ۔ہم مثال دیتے ہیں کہ انگریز اگر برصغیر پر قبضہ نہ کرتے تو یہاں عوام کو ریل کی سہولت میسر نہ آتی۔حقیقت تو یہی ہے کہ ریلوے لائن برصغیر میں عوام کی سہولت کے لئے نہیں برطانوی فوج کی نقل وحرکت آسان بنانے کے لئے تعمیر کی گئی تھی اور خود ملتان میں بھی جب ٹرین آئی تو سب سے معتبر ریلوے سٹیشن ملتان چھاﺅنی کا ہی قرار پایا جو شہر سے تو آج بھی دور ہے ۔ہوائی جہاز بھی ملتان میں فوجی مقاصد کے لئے اتارے گئے اور اس کے لیے ایک چھوٹا سا ہوائی اڈہ برطانوی دور میں ہی تعمیر ہوگیا تھا جو اَب انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
ہمارے لیے تو اہم بات تو یہی ہے کہ ملتانی اب اونٹوں،بیل گاڑیوں ،تانگوں ،رکشوں کے دور سے آگے نکل آئے ہیں۔جن راستوں پر ہمارے آباءواجداد پیدل یا بیل گاڑیوں پر سفر کرتے تھے انہی رستوں پر ہمیں اب میٹرو بھاگتی دوڑتی دکھائی دے گی اور یہ تخت لاہور کی نہیں تخت ملتان کی میٹرو ہے کیا ہوا اگر اسے تخت لاہور والوں نے تعمیر کرایا ۔ ہے تو یہ ملتان کی میٹرو ۔ ہماری میٹرو ہے ۔ہمارے لیے یہی بہت ہے کہ ہم میٹرو کے دور میں داخل ہو گئے ہیں۔مانا کہ شہر فلائی اوورز ،شاہراہوں اور میٹرو جیسے منصوبوں کی وجہ سے نہیں پہچانے جاتے ۔شہروں کی پہچان وہ ہستیاں ہوتی ہیں جو خوبصورت روایات قائم کرتی ہیں۔جو امن محبت اور رواداری کا درس دیتی ہیں۔اگرچہ ایسی ہستیوں کا اب کوئی پرسان حال نہیں ۔اگرچہ ایسی ہستیوں کو ہم فراموش کرتے جارہے ہیں اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایسی ہستیوں کو عزت و تکریم دینا کبھی بھی حکمرانوں کے ایجنڈے کاحصہ نہیں ہوتا لیکن ہمیں یہ توقع تو رکھنی چاہیے کہ میٹرو کے ساتھ ساتھ شعور کی ترقی کا سفر بھی تیزی سے آگے بڑھے گا اور جب ہم شعور کی منزلیں طے کریں گے تو پھر ہمیں یہ خیال بھی آئے گا کہ یہ جو کیڑے مکوڑے ہسپتالوں میں، کچہریوں میں اور چوراہوں پر ذلت آمیز سلوک کا شکار ہوتے ہیں ہمیں ان کی زندگیوں میں بھی آسانی پیدا کرنی چاہیے۔ان کے بچوں کو تعلیم اور صحت کی سہولتیں دینی چاہیں۔اورجیسے میٹرو کے منصوبے کو ہم نے ہر صورت مکمل کیا ہے اسی طرح صحت،تعلیم اور انصاف کی فراہمی کے وعدے بھی پورے کیے جائیں گے ۔سو ملتان والو وسیب والو حکمرانوں سے تم اپنے حقوق چھین تو نہیں سکتے لیکن جو کچھ وہ تمہیں دیتے ہیں وہ تو ہنس کر قبول کر لیا کرو ۔ تم کہتے ہو ملتان ٹی ہاﺅس پنجابیوں نے بنوایا تھا ، زاہد سلیم گوندل نے بنوایا تھا ، ۔ تو بھائیو انہوں نے ملتان ٹی ہاﺅس ملتان میں ہی بنوایا ۔ انہیں کریڈٹ بے شک نہ دو لیکن ملتان ٹی ہاﺅس کی مخالفت تو نہ کرو ۔ ملتان میٹرو کی مخالفت تو نہ کرو ۔ صوبہ بننے سے پہلے ہی تمام سہولتیں حاصل کرنے میں بھلا کیا مضائقہ ہے ۔ آخری بات یہ ہے کہ جس طرح ہم نے ٹی ہاﺅس کی تعمیر پر زاہد سلیم گوندل کا شکریہ ادا کیا تھا اسی طرح میٹرو کے افتتاح پر ہم آج وزیر اعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ شہباز شریف کا شکریہ ادا کر رہے ہیں کہ ملتان والے اپنا حق بھی دھمکی کے ساتھ نہیں شکریئے کے ساتھ وصول کرتے ہیں کہ یہی اس قدیم شہر کی روایت ہے ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker