ادبرضی الدین رضیلکھاری

رضی الدین رضی کی یاد نگاری : میاں مقبول ، حسین سحر اور کاپی پیسٹنگ کا زمانہ

چند روز قبل میاں مقبول احمد صاحب کی پنجابی شاعری کی کتاب” چھلّاں “ کی ڈمی کی ایک کاپی کاغذات میں سامنے آ گئی تو کئی کہانیاں بھی یاد آ گئیں میاں صاحب پنجابی کے شاعر تھے ۔ وہ محکمہ بلدیات میں چیف افسر کے عہدے پر فائز رہے ۔۔ لیہ میں تعیناتی کے دوران انہوں نے 1986 میں ایک یاد گار مشاعرہ بھی کرایا جس میں شرکت کے لیے میں لاہور سے براستہ ملتان لیہ پہنچا اور پھر مشاعرہ ختم ہوتے ہی سیدھا لیہ سے لاہور روانہ ہوا اور براہ راست ایم اےاو کالج کے گیٹ پر اترا جہاں میرا ایف اے کا امتحان تھا ۔۔
میاں مقبول صاحب کے شعری مجموعے کی ڈمی کی اہمیت یہ ہے کہ یہ پروفیسر حسین سحر کے ہاتھ کی بنی ہوئی ہے ۔ تاریخ اس پر 1982 کی درج ہے لیکن یہ در حقیقت 1983 کا سال تھا ۔ کہ یہی وہ زمانہ تھا جب میں کاپی پیسٹنگ کا بھی ماہر ہوتا تھا ۔ روزنامہ سنگ میل کے زمانے سے ہی میں نے پہلے اخبار اور پھر کتابوں کی کاپی پیسٹنگ بھی سیکھ لی تھی ۔ رفعت عباس ،خلیل بھٹی ،امتیاز روحانی ، اسلم جاوید ، اور رؤف مان سمیت جن دوستوں کے ساتھ میں نے 1980 کے عشرے میں مختلف اخبارات میں کام کیا وہ جانتے ہیں کہ اس زمانے میں نیوز ایڈیٹر اور سب ایڈیٹر حضرات کاپی جوڑنا بھی جانتے تھے ۔ بلیک اینڈ وائٹ کے علاوہ ہمیں رنگین صفحات جوڑنا بھی آتے تھے ۔ یہ مہارت اس لیے بھی حاصل کی جاتی تھی کہ اس طرح تنخواہ میں دو تین سو روپے اضافہ ہو جاتا تھا ۔ واپس حسین سحر صاحب کی بنی ہوئی ڈمی کی طرف آتے ہیں‌ ۔۔

ہمارے عہد کے لوگ جانتے ہیں کہ حسین سحر صاحب مکتبہ اہل قلم کے زیر اہتمام کتابیں اور ” اہل قلم “ کے نام سے ادبی مجلہ بھی شائع کرتے تھے ۔ایک روز اہل قلم کی اشاعت میں تاخیر کی وجہ یہ معلوم ہوئی کہ آرٹ ایڈیٹر صاحبان نخرے بہت کرتے ہیں ، سو میں نے سحر صاحب کو اپنی خدمات پیش کر دیں‌۔پھر یوں ہوا کہ سحر صاحب اہل قلم اور کبھی کبھار کسی کتاب کی پیسٹنگ میرے سپرد کر دیتے ، سحر صاحب کے ڈرائینگ روم میں ڈائیننگ ٹیبل پر مسطر لگا کر یہ کاپی جوڑی جاتی ۔۔ شاکر اس دوران قریب بیٹھ کر جمائیاں لیتے تھے اور میرے لیے چچی جان سے چائے لاتے تھے ۔ سحر صاحب کے ساتھ کام کرنا اعزاز تو تھا ہی لیکن لالچ یہ ہوتا تھا کہ اہل قلم کا شمارہ اشاعت سے پہلے ہی ہماری نظر سے گزر جائے ۔ پیسٹنگ کے دوران سحر صاحب سے نظر بچا کر کوئی ایک آدھ” نا پسندیدہ“ غزل ادھر ادھر بھی کر دیتا تھا ۔ اور پھر رسالہ تیار ہونے کے بعد سحر صاحب کو دکھا بھی دیتا اور معصومیت سے کہتا
” اوہو سحر صاحب یہ غزل تو شامل ہونے سے رہ گئی “
اور سحر صاحب مسکرا کر کہتے تھے
” کوئی بات نہیں اگلے شمارے میں لگا دیں گے یہ تو ویسے بھی” عبدالغفور “کی غزل ہے
” عبدالغفور“ وہ بسا اوقات کمزور شاعروں کو از راہ محبت کہا کرتے تھے ۔
عبدالغفور پر مجھے اظہر مجوکہ کا ”غفاری“ یاد آگیا کہ وہ اس نوعیت کے لوگوں کے لیے ” غفاری “ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں مجوکہ اس لیے یاد آ گئے کہ میں نے ان کے رسالے ”سائبان “کی بھی کاپی پیسٹنگ کی تھی ۔ اور اسی طرح جب تک میری نظر ٹھیک رہی تو 1999 تک ” انشعاب “ بھی باقاعدگی سے شائع ہوتا رہا کہ اس کی کاپیاں بھی میں ہی جوڑتا تھا ۔
خیر بات کو آگے بڑھاتے ہیں کہ یہ ساری کہانی حسین سحر صاحب کے ہاتھ کی بنی ہوئی ڈمی دیکھ کر یاد آ گئی ۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں صحافت کرنے والوں کے لیے یہ بہت سی اصطلاحات اجنبی ہوں گی اور ان میں‌سے بہت سوں نے تو مسطر اور پیلیکن سیاہی دیکھی بھی نہ ہو گی ۔ ہاں فرق صرف یہ ہے کہ کاغذ اور اس پر لکھی ہوئی تحریریں مسودوں میں کہیں نہ کہیں‌موجود رہتی ہیں اور ان کے ساتھ ہی وہ سارا زمانہ بھی محفوظ رہتا ہے ۔ اسی لیے تو ہم ای بک کے زمانے میں بھی کتاب کے عاشق ہیں‌۔۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker