سرخ و سفید رنگ، چھریرا بدن، خوش لباس، خوش گفتار، وضعدار اور انتہائی نفیس انسان۔ جی ہاں آپ نے صحیح پہچانا ہم آج ڈاکٹر مقصود زاہدی کو یاد کررہے ہیں جو26برس قبل 6نومبر کو ہم سے جدا ہوئے تھے۔ مقصود زاہدی کا شمار ان قلمکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے ملتان کے ادبی خدوخال نکھارنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ صدر بازار میں جہاں دہی بھلوں کی دکانوں کے سامنے اب جوتوں کی ایک دکان ہے اسی جگہ پر ڈاکٹر مقصود زاہدی کا کلینک ہوا کرتا تھا۔ یہاں شعروادب کی باتیں ہوتی تھیں۔ علمی بحثیں ہوتی تھیں۔ فارغ بخاری، وزیر آغا، انور سدید، عرش صدیقی، جابر علی سید جیسی شخصیات اسی کلینک پر ڈاکٹر مقصود زاہدی کو ملنے آتی تھیں۔ یہ کلینک شہر کی ادبی سرگرمیوں کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ مقصود زاہدی شاعر بھی تھے اور نثر نگا ر بھی۔ شاعری میں انہوں نے رباعی جیسی مشکل صنفِ سخن کو اپنایا اور اس صنف میں انتہائی مشکل موضوعات کو بھی بڑی آسانی کے ساتھ سمودیا۔ نثر میں انہوں نے آغاز افسانہ نگاری سے کیا۔ اس کے بعد تنقید لکھی اور بہت رواں دواں انداز میں خاکے بھی تحریر کئے۔ ان کے افسانوں کا مجموعہ 1942ءمیں ”ذکر وفکر“ خاکوں کا مجموعہ 1975ءمیں ”یادوںکے سائے“ اور رباعیات کا مجموعہ 1992ءمیں ”چہارسو“ کے نام سے شائع ہوا۔
ڈاکٹر صاحب سے پہلی ملاقات 1978ءمیں ہوئی جب ہم آٹھویں جماعت کے طالب علم تھے۔ ان کی بارعب اور پروقار شخصیت کو دیکھ کران کے ساتھ ملاقات کا حوصلہ ہی نہ پڑتا تھا پھر ایک روز ہمت کرکے ہم ان کے کلینک میں داخل ہوئے، انہیں سلام کیا اور آٹو گراف بک ان کے سامنے رکھ دی ۔یہ آٹو گراف بک ہم نے خریدی ہی اس لئے تھی کہ آٹو گراف کے بہانے زاہدی صاحب سے ملاقات کر سکیں ۔ مقصود زاہدی نے مسکرا کر اس پر ایک مصرع لکھ دیا۔” صبر و محنت میں ہے سرافرازی“۔
یہ کسی بزرگ کی پہلی نصیحت تھی جوہمیشہ کیلئے ہمارے دل پر نقش ہوگئی۔ اس کے بعد ان کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب 1990ءمیں وہ ملتان سے اسلام آباد منتقل ہوگئے۔ زاہدی صاحب ہومیو ڈاکٹر تھے۔ مریضوںکا علاج بھی جاری رکھتے اور شعروادب پر گفتگو بھی جاری رہتی۔ فارغ بخاری کو ہم نے پہلی بار ڈاکٹر صاحب کے کلینک پر ہی دیکھا تھا۔ ڈاکٹر انور سدید ان دنوں ملازمت کے سلسلے میں کوٹ ادو میں مقیم تھے۔ وہ جب بھی ملتان آتے زاہدی صاحب کے کلینک پر ان کی نشست ہوتی۔ تنقید، شاعری اور افسانے کے نئے رجحانات پر ان کے درمیان ہونے والی گفتگو ہم خاموشی سے سنتے رہتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب کا انداز گفتگو بہت محبت بھرا اور لہجہ بہت دھیما تھا۔ مصافحہ بہت گرمجوشی سے کرتے۔ ہاتھ ملاتے ہوئے بہت محبت کے ساتھ ہاتھ کو ایک باردائیں اور پھر بائیں طرف کرتے اور پھر اسی طرح ہاتھ کو تھامے ہوئے ساتھ والی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کردیتے۔ ہاتھ کی گرفت سے ہی ملنے والے کو ان کی گرمجوشی اور والہانہ پن کا اندازہ ہوجاتا تھا۔
زاہدی صاحب ایک سیلف میڈ انسان تھے۔ جوانی میں صحافت سے بھی وابستہ رہے۔ ہمیں بتایا کرتے تھے کہ قیام پاکستان سے قبل وہ اداریہ نویس کے طور پر بیک وقت دو اخبارات کے ساتھ منسلک رہے۔ صبح ایک اخبار میں جاتے اور شام کو دوسرے میں۔ دونوں اخبارات کی پالیسی یکسر مختلف تھی ایک کانگریس اور دوسرا مسلم لیگ کا ترجمان اور زاہدی صاحب دونوں کی پالیسی کو مدنظر رکھ کر روزانہ دو مختلف اداریے تحریر کرتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب ترقی پسند تحریک سے بھی وابستہ رہے، وہ واضح ترقی پسند نظریات رکھتے تھے۔ ادب کے ساتھ ان کی کمٹمنٹ بھی غیر مشروط تھی۔ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے، ان کی رہنمائی کرتے، کسی شرارت پر ہمارے کان بھی مروڑتے اور اس سمے ایک شرارت بھری مسکراہٹ خود ان کے چہرے اور آنکھوں سے بھی عیاں ہوتی تھی۔ مقصود زاہدی صاحب کے پاس ہر مکتبہ ¿ فکر سے تعلق رکھنے والے قلمکار آتے تھے۔ شہر میں ادیبوں کی مختلف دھڑے بندیاں ہمیشہ سے رہی ہیں ادیبوں کے آپس میں اختلافات بھی ہوتے ہیں مگرہم نے کبھی ڈاکٹر صاحب سے کسی کے بارے میں کوئی شکایتی گفتگو نہیں سنی تھی اور نہ ہی کسی کی زبان سے ان کے بارے میں گلہ سنا۔ وہ ان چند شخصیات میں سے تھے جن کا سبھی احترام کرتے تھے ۔محبت ان کا مسلک اور شعروادب ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ گھر کا ماحول خالصتاً ادبی تھا۔ خود بھی شعر کہتے تھے اور ان کے بچے بھی ان کے روایات کو آگے بڑھا رہے تھے۔ انور زاہدی نے افسانے میں اپنا مقام بنایا اور ماہ طلعت زاہدی نے غزل اور نظم میں پذیرائی حاصل کی ڈاکٹر مقصود زاہدی اپنے بچوں کے اس فکری میلان پر فخر کرتے اوران کے بھرپور حوصلہ افزائی کرتے تھے۔
خود زاہدی صاحب نے رباعی کو اپنی پہچان بنایا۔ وہ اس دور میں رباعی کہتے تھے جب فراق گورکھپوری اور جوش ملیح آبادی جیسے رباعی گو بھی موجود تھے۔ ان کی موجودگی میں مقصود زاہدی صاحب نے اپنے لئے ایک الگ راہ نکالی اور پھر وہ ملک بھر میں رباعی گو کے طور پر پہچانے جانے لگے۔ ان کی وفات کے بعد رباعی کا ایک روشن باب ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا۔ زاہدی صاحب رباعی کے موضوعات پر مکمل گرفت رکھتے تھے۔ انہوں نے کائنات ، ہستی اور انسان کو اپنی رباعیات کا موضوع بنایا۔ زندگی کے بہت سے پہلو اور رنگ ان کی رباعیات سے جھلکتے تھے۔ 6 نومبر 1996ءکو مقصود زاہدی اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔ یہ وہی رات تھی کہ جب فاروق لغاری نے بے نظیر حکومت کا خاتمہ کیا تھا۔ حکومت ختم ہونے کی خبر تو چند منٹ میں ملتان پہنچ گئی تھی لیکن مقصود زاہدی کی وفات کی خبر ملتان پہنچنے میں کئی روز لگ گئے۔ مقصود زاہدی صاحب کو ہم سے بچھڑے 26 برس بیت چکے ہیں۔ افسوس کہ ملتان کے ادبی خدوخال نکھارنے والی اس شخصیت کو اہلِ ملتان نے فراموش کردیا ہے۔ گزشتہ 26 برس کے دوران ان کی یاد میں بمشکل دو یا تین محافل منعقد ہوئیں اور اس کا اہتمام بھی سخن ور فورم نے کیا۔ زاہدی صاحب نے بہت کچھ لکھا،بے شمار مضامین اور خاکے تحریر کئے۔ ان کی رباعیات کی ایک بڑی تعداد اب بھی غیرمطبوعہ ہے۔ یہ سب کچھ منظر عام پر آنا چاہئے ۔ مہرعبدالحق، حسن رضا گردیزی، عرش صدیقی ،جابر علی سید، آغا شیر احمد خاموش ،کشفی ملتانی کی طرح ڈاکٹر مقصود زاہدی صاحب اس خطے کے محسن تھے اور ہمیں اپنے محسنوں کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)
فیس بک کمینٹ

