یہ ویڈیو کا زمانہ ہے اورقوم تماش بین ہے۔ بڑی سکرین ختم ہوئی توموبائل فون کی چھوٹی سی سکرین نے اس کی جگہ لے لی۔بس پھرکیاتھا ہر شخص اداکار اور ہر شخص ہدایت کار و فلم ساز بن گیا۔ کہیں کوئی حادثہ ہوجائے تو لوگ کسی کی مدد کرنے کی بجائے اپنے اپنے موبائل نکال کرویڈیو بنانے لگتے ہیں اورپھریہ سوچے سمجھے بغیریہ ویڈیو سب دوستوں اورگروپوں کو بھیج دیتے ہیں ۔ویڈیو کیسی ہے ،بھیجنے کے قابل ہے یا نہیں اور یہ دیکھنے والے پر کیا اثرات مرتب کرے گی اس سے ان کاکوئی سروکارنہیں۔ویڈیو بھیج کران کا فرض ختم ہوا ،کس کے ساتھ کیا بیتی، حادثے کا شکارہونے والے کس حال میں ہیں ،سڑک پر گرنے والے کی حالت کیسی ہے، تشدد کاشکارہونے والی عورت پر کیا گزری؟ یہ ان کامسئلہ نہیں۔ان کاکام ختم ہو ا ۔ وہ اپنا موبائل جیب میں ڈال کرکسی نئے منظر کی تلاش میں آگے بڑھ جاتے ہیں۔ پھر ان فارورڈ کی گئی ویڈیوز کی بنیاد پر کہانیاں بنتی ہیں ۔لوگ خود کچھ مفروضے قائم کرتے ہیں اور پھروہ مفروضے خبروں کی صورت اختیار کرجاتے ہیں۔سوشل میڈیاپر وائرل ہونے والی ویڈیوز اب تمام ٹی وی چینلز کے خبرناموں کا لازمی حصہ بن چکی ہیں۔ ایسا ہی اداکار افضال کے ساتھ ہوا۔
اداکار افضال اپنے زمانے کے مقبول ترین اداکاروں میں شمارہوتے تھے۔ وہ ایک عہد سازاداکار تھے ۔انہوں نے سیکڑوں فلموں اورٹی وی ڈراموں میں کام کیا۔تھیٹر کی دنیاکے لیے بھی ان کی خدمات ناقابل فراموش تھیں۔ اداکار افضال گزشتہ اکیس برس سے فالج کاشکارتھے۔پہلے وہ وہیل چیئر تک محدودہوئے پھران کی قوت گویائی بھی ختم ہوئی لیکن اس کے باوجود انہوں نے شوبز کی دنیا میں آمدورفت جاری رکھی اور پھررفتہ رفتہ وہ منظر سے اوجھل ہوگئے۔ بالکل اسی طرح جیسے آج کل ہمایوں قریشی کہیں دکھائی نہیں دے رہے اور کسی کو خبر بھی نہیں کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہیں۔یہ دنیا چلتے پھرتے لوگوں کے ساتھ ہے جوگھر تک محدودہوجائے یہ اس کی خبر نہیں رکھتے۔ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل کا محاورہ یونہی تو نہیں بناتھا۔
دودسمبر2022ءکو افضال کی موت کی خبر کچھ اس انداز میں سامنے آئی کہ انہیں آخری وقت میں لاہور کے ہسپتال میں الگ بیڈ بھی نصیب نہ ہوا۔ وہ جاںکنی کے عالم میں وہاں لائے گئے اور وائرل ویڈیوز میںوہ کسی اورمریض کے ساتھ ایک ہی بیڈ پر لیٹے ہوئے تھے اور انہیں آکسیجن لگی ہوئی تھی۔ اس ویڈیو نے بہت سے سوالات کو جنم دیا اور پھریہ پوچھا گیا کہ افضال اس حالت میں کیسے پہنچے ۔فلم انڈسٹری کی بلندیوں پر راج کرنے والے نے کیا اپنے بڑھاپے کے لیے کچھ نہیں بچایاتھا؟ کیا ان کی اولاد نافرمان تھی جو آخری وقت میں ان کے ساتھ نہیں تھی؟بلاشبہ وہ کسمپرسی کے عالم میں اس دنیا سے رخصت ہوئے اور اپنے پیچھے بہت سے سوالات چھوڑ گئے۔ بڑی سکرین کے بڑے اداکار کو چھوٹی سکرین کے چھوٹے لوگوں نے بے یارومددگار بنادیا۔
افضال احمد کے چاہنے والوں کو یقیناً ایسی خبروں سے تکلیف ہوئی۔ ان کے قریبی احباب کا کہنا ہے کہ افضال احمد کے بچے بیرون ملک تھے اس لیے آخری وقت میں ان کے ساتھ ان کا کوئی بچہ موجودنہیں تھا۔ لیکن ان کی غربت کے حوالے سے پھیلائی گئی ویڈیوز اور خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ ان کاتعلق جھنگ کے ایک متمول گھرانے سے تھا۔ جھنگ میں ان کی آبائی زمینیں تھیں ۔اس کے علاوہ لاہور میں بھی وہ قیمتی جائیدادوں کے مالک تھے جن میں تماثیل تھیڑبھی شامل ہے۔
افضال احمد کو تھیڑ کی دنیا میں تماثیل تھیڑ کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔انہوں نے فالج کے بعد قوت گویائی سے محروم ہونے کے باوجود اس تھیڑ کی ترقی اور ترویج کے لیے بھرپور کردارادا کیا۔ یہ تھیڑ ان کا ہی خواب تھا اور انہوں نے اس کے لیے جدید ترین روشنیاں اور دوسرا سامان بیرون ملک سے منگوایاتھا۔تماثیل تھیڑ نے سٹیج ڈرامے کی دنیا کو ایک نیارجحان دیا اوریہ رجحان افضال احمد کامرہون منت تھا۔
افضال احمدنے ایچی سن کالج سے تعلیم حاصل کی۔ وہ فائن آرٹس میں گریجویٹ تھے اس لیے تھیڑ کی سیٹ ڈیزائنگ اور دیگر تکنیکی امورپر بھرپور دسترس رکھتے تھے۔ انہوں نے سٹیج پر متوازن روشنیوں کی ترتیب اور تھیڑ کی ڈیزائنگ کے لیے آسٹریلیا اوربرطانیہ کے ماہرین کی خدمات بھی حاصل کیں۔ تماثیل تھیڑ نے عجب گل، مدیحہ شاہ، میگھا اورچاندنی جیسے فنکاروں کو آگے لانے میں اپنا کردارادا کیا۔تماثیل میں انہوں نے آغا حسن ،ناصر ادیب اور پرویز کلیم سے” جنم جنم کی میلی چادر“کاسکرپٹ تیارکروایا۔اس ڈرامے کی چھ ماہ تک ریہرسل ہوئی اور اس دوران تمام اداکاروں کو معاوضہ بھی ادا کیاجاتارہا۔جب ڈرامہ پیش کیا گیا تو اس نے کامیابی کے ایسے ریکارڈ قائم کیے جو بعد میں کوئی نہیں توڑ سکا۔
افضال احمدکا تعلق سید گھرانے سے تھا۔وہ اپنی خوبصورت رنگت اور وجاہت کے باعث افضال چٹا کے نام سے بھی جانے جاتے تھے۔پی ٹی وی پر اشفاق احمد کے ڈرامے ”اچے برج لاہور دے“ میں انہوں نے 18برس کی عمر میں پچاس سالہ بوڑھے کاکرداراداکرکے سب کوحیران کردیا۔ فلمی کیریئر میں انہوں نے 1968ءسے 2012ءتک 384سے ز یادہ فلموں میں کام کیا جن میں ”انسان اورگدھا“، ”سستاخون اورمہنگاپانی“، ”چڑھدا سورج“،”غلامی“، ”باغی سپاہی“ان کی مقبول ترین فلموں میں شمارہوتی ہیں۔ان کے دوست جہانزیب دھرالہ نے بتایا کہ افضال احمد مکالموں کی ادائیگی میں کمال رکھتے تھے۔ ایک اداکار کے ساتھ ساتھ وہ خوبصورت صداکاربھی تھے۔ ان کے چند سیکنڈ کے ڈائیلاگ ناظرین کو مبہوت کردیتے تھے اوران کے ذہنوں پر نقش ہوجاتے تھے۔ملتان سٹیج کے نامور ہدایت کاراور آرٹسٹس ایسوسی ایشن کے صدر زواربلوچ گزشتہ روز ملتان آرٹس کونسل کی ادبی بیٹھک میں بتارہے تھے کہ وہ افضال کو ملتان کے سٹیج پر لائے تھے۔انہوں نے بتایا کہ ہمارا ڈرامہ کئی ہفتوں تک چلتارہا اور افضال احمد اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود اس ڈرامے کے لیے روزانہ ملتان آتے رہے۔وہ ڈرامے کے بعد کبھی ٹرین اورکبھی بس کے ذریعے لاہور روانہ ہوجاتے تھے کہ وہاں ان کی فلموں کی شوٹنگ جاری تھی اوراس شوٹنگ سے فارغ ہوکر ہمارے ڈرامے کے وقت تک دوبارہ ملتان پہنچ جاتے تھے۔اپنے فن کے ساتھ یہ وابستگی کم ہی لوگوں میں ہوتی ہے۔وہ بے حد مقبول تھے لیکن مغرور نہیں تھے۔ زوارحسین بتار ہے تھے کہ دیگراداکاروں کی طرح وہ پیسوں کاتقاضا بھی نہیں کرتے۔ ہم روانگی کے وقت خود ان کے ہاتھ میں لفافہ تھمادیتے اور وہ گنے بغیر اسے جیب میں رکھ لیتے ۔بسا اوقات تو یہ بھی ہوا کہ وہ پیسے لیے بغیر رخصت ہوگئے۔
سوال صرف یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں جانے والوں کی حالت زار کا ان کی زندگیوں میں علم کیوں نہیں ہوتا۔ افضال احمد ایک طویل عرصہ منظر سے غائب رہے۔ فلمی صنعت یا حکومتی اداروں کی جانب سے کسی نے ان کی خبرگیری کی ضرورت محسوس کیوں نہیں کی۔ لوگوں کے چلے جانے کے بعد ان کے اوصاف بیان کرکے دراصل ہم اپنی اہمیت بنارہے ہوتے ہیں۔ ہم جو چھوٹی سکرین کے چھوٹے لوگ ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)
فیس بک کمینٹ

