نئے سال کا آغاز توہمیشہ مبارکبادوں سے ہوتا ہے لیکن سال کے آغاز پر ہم میں سے کسی کومعلوم نہیں ہوتا کہ ہم جب 31دسمبر کو نیوایئرنائٹ منارہے ہوں گے تواس شب ہمیں سال نو کی مبارکباد دینے والوں میں سے کون کون اسی سال کی گرد میں گم ہوچکا ہوگا۔ہر سال کے اختتام پرہم دکھوں کا ایک گوشوارہ بھی مرتب کرتے ہیں اورپھر ہمیں احساس ہوتا ہے کہ یہ ایک سال ہم سے ہمارے کون سے پیارے چھین کر لے گیا۔کون کون سی ہستیاں ایسی تھیں کہ جن کے ساتھ ہماری برسوں کی شناسائی تھی اوروہ جب ہم سے جدا ہوئیں تو اپنے ساتھ رفاقت کے وہ بہت سے سال بھی لے گئیں کہ جوصرف انہی کے ساتھ وابستہ تھے۔ وہ شناسائی کے سال ہم نے کسی اور کے ساتھ گزارے اور نہ کسی اور کے ساتھ گزارسکتے ہیں ۔یہ ایسادکھ ہے اورتنہائی ہے کہ جوہر جانے والا سال ہماری جھولی میں ڈال جاتا ہے۔میرے لیے غضنفرعلی شاہی اور ڈاکٹراختر شمار اس برس کے سب سے بڑے دکھ تھے۔ایسے دکھ کہ جنہیں اس برس کے دکھ شمار کرتے ہوئے میں سرفہرست رکھ رہا ہوں۔ غضنفر علی شاہی 26مارچ اور اختر شمار 8اگست کو ہم سے جدا ہوئے۔
سال کا پہلا دکھ ہمیں7فروری کوملا جب نامور ناول نگار،افسانہ نگار اورکالم نگارمحترمہ بشری رحمان ہم سے جداہوئیں ۔ایک ایسی ہستی کہ جن کے ساتھ ہماری 1985ءسے شناسائی تھی۔ جن کے ساتھ مجھے لاہور میں کام کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ جنہیں ہم جب بھی ملتان آنے کی دعوت دیتے تھے وہ پہلے ڈانٹ ڈپٹ کرتی تھیں کہ اب تقریب آئی ہے تو میں تمہیں یادآگئی ہوں ورنہ کبھی تم نے کبھی میرا حال بھی نہیں پوچھا اور شاکر مجھے ہرسال آم تو بھیج دیتا ہے لیکن فون کرنے کی زحمت نہیں کرتا۔تم دونوں اب بڑے مشہور ہوگئے ہو ناں۔اس لیے کبھی میری خیریت بھی معلوم نہیں کرتے۔اوربشر ی رحمان سے پہلے دوایسی آوازیں ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئیں کہ جن کے گیتوں کے سنگ ہم نے اپنا لڑکپن اور جوانی گزاری۔6فروری کو لتا منگیشکر کے انتقال پر مجھے یادآیا کہ 70کے عشرے میں ہمارے کانوں میں ایک ہی گیت گونجتاتھا ”کوئی پتھر سے نہ مارے میرے دیوانے کو“ اور ایسے بہت سے سدا بہارگیت یادآئے کہ اگران کاذکر کروں تو یہ سارا کالم لتا جی کے لیے ہی مختص ہوجائے گا۔لیکن مجھے بپی لہری کابھی تو ذکر کرنا ہے۔”یادآرہا ہے تیرا پیار“ جیسا شہرہ آفاق گیت امر کرنے والا یہ گلوکار 16فروری کوہم سے جدا ہوا۔21فروری کو”دیدشنید“ کے ایڈیٹرنامور کالم نگار اورصحافی رفیق ڈوگر رخصت ہوئے ان کے رسالے میں ” ہوتل بابا“ کے نام سے میںکالم لکھتاتھا جو کتابی صورت میں سامنے آرہے ہیں۔اسی روز میری نظم ”ستارے مل نہیں سکتے “ پر پہلا مضمون لکھنے والے ڈاکٹر قاضی عابد نے زکریا یونیورسٹی کی سازشوں اور دکھوں سے نجات حاصل کرلی۔
غزالہ خاکوانی کا 6اپریل کو باضابطہ انتقال ہواوگرنہ کھلی فضاؤں میں پرواز کی خواہش رکھنے والی یہ شاعرہ تو کب کی ہوش وحواس کھو بیٹھی تھی۔ 30اپریل کو خالد سعید ہم سے جدا ہوگئے۔ ایک سچا ترقی پسند اور انسان دوست کہ جس کامسلک صرف اورصرف محبت ہی تھا۔ 6مئی کو سینئر صحافی اور نعت گوشاعرسعید بدر کے انتقال کی خبر آئی تویاد آیا کہ لاہور کے زمانے میں ان کے ساتھ امروز کے دفتر میں اشرف جاوید کے ہمراہ کیسا شاندار وقت گزرتا تھا۔اورامروز ملتان کے سابق ریذیڈنٹ ایڈیٹر سید سلطان احمد 16مئی کو رخصت ہوئے۔ ایک خوبصورت انسان ،بلند پایہ صحافی جنہوں نے روزنامہ جنگ ملتان کے اجراءکے موقع پر ہمیں بہت خوبصورت لیکچر دیا تھا اور بتایا تھا کہ خبر کیا ہوتی ہے۔ قائم نقوی نے2اگست کو ریڈیو پاکستان لاہور میں مسالمے کی ریکارڈنگ کے دوران ہمیشہ کے لیے آنکھیں موند لیں اور21اگست کو احمد شمیم کی نظم ”کبھی ہم بھی خوبصورت تھے“ کو امر کرنے والی نیئرہ نور خاموش ہوگئیں ۔اورقسور سعید مرزا کاتو ہمیں گمان بھی نہیں تھا کہ وہ 31اگست کو اچانک ہم سے جدا ہوجائیں گے۔90ءکے عشرے میں پیپلزپارٹی کے اس جیالے کے ساتھ جو خوبصورت لمحے گزرے اور پھر اس نے ایوان صدر میں تعیناتی کے بعد جس طرح ہم سب دوستوں کی پذیرائی کی وہ ناقابل فراموش ہے۔29ستمبر کونامور بلوچ رہنمائ،پہاڑوں کے بیٹے یوسف مستی خان کاانتقال ہوا۔ان کے ساتھ میری صرف ایک ملاقات تھی اور وہ ملاقات زاہد گردیزی صاحب کی مرہون منت تھی۔ یکم جولائی 2022ءکی صبح گردیزی صاحب کی رہائش گاہ پر میں نے قسور گردیزی کی یادوں اور بلوچوں کے دکھوں کے حوالے سے ان کا جوطویل انٹرویو کیا وہ میری زندگی کااثاثہ ہے۔ اور یکم اکتوبر کو نامور پہلوان انوکی کی موت بھی ہمارے ساتھ ہمارے بچپن کاوہ زمانہ لے گئی جب ہم اس کے مقابلے بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی پر ہمسائیوں کے گھر وںمیں جا کردیکھتے تھے۔
ایم اے شکور نے 1979ءمیں میرا پہلا سیاسی مضمون شائع کیاتھا۔ بھٹو صاحب کی پھانسی کے بعد لکھا جانے والایہ مضمون کوئی اور اخبار تو شائع بھی نہ کرتا کہ نویں کلاس کے لڑکے کی کیا سیاسی بصیرت ہوتی ہے ۔ایم اے شکور اس زمانے میں روزنامہ سنگ میل کاادارتی صفحہ مرتب کرتے تھے۔انہوں نے نہ صرف میرا یہ مضمون شائع کیا بلکہ بعد کے دنوں میں میرے کئی فیچراورتراجم بھی سنگ میل اخبار کی زینت بنائے۔اور نومبرکامہینہ فدا ملتانی کی رخصتی کامہینہ تھا۔ ان کی وفات سے ایک آدھ مہینہ قبل مامون طاہررانا نے مجھے بتایا کہ وہ گردوں کے عارضے کاشکارہیں اوران کے ساتھ ایک شام منائی جارہی ہے۔ یہ شام 16ستبرکو منائی گئی۔ مجھ سمیت بہت سے قلمکاراس میں اظہارخیال کے لیے موجودتھے۔فدا ملتانی بہت حوصلے کے ساتھ اس تقریب میں بیٹھے رہے اورپھر جب ان کے لیے زیادہ دیر سٹیج پربیٹھنا ممکن نہ رہا تو ہم سے اجازت مانگ لی۔13دسمبرکو ضمیر قریشی کے انتقال کادن تھا۔ ضمیر قریشی نعت گو شاعر تھے۔ ریڈیو پاکستان کے کمرشل شعبے کے ساتھ وابستہ رہے۔ ان کے مزاج میں بسا اوقات بہت تلخی آجاتی تھی۔ لیکن ان کی یادداشت بلا کی تھی۔ ان کے جانے سے شہر چلتے پھرتے انسائیکلوپیڈیاسے محروم ہوگیا۔ نئے سال کے آغازکا پہلا کالم میں انہی رفتگان کے نام کرتا ہوں۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)
فیس بک کمینٹ

