جونہی آڈیو لیکس میں تیزی آئی تو ہمارے محلے کے قصاب کو یقین ہوگیا کہ انتخابات کا اعلان اب کسی بھی وقت ہوسکتا ہے اور حکومت سجی دکھا کر کھبی مارنے والے فارمولے پر عمل کررہی ہے۔سواس نے فوری طورپر الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا نہ صرف یہ کہ اعلان کیا بلکہ اپنا انتخابی منشور بھی سامنے لے آیا۔
قصاب کاکہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کو ووٹروں کوذبح کرنے کے لیے چھریاں تیز کرنے کی ضرورت نہیں اس کام کے لیے میں اب خود میدان میں آرہاہوں اورکامیاب ہونے کے بعد صرف قصابوں کی فلاح وبہبود کے لیے ہی کام نہیں کروں گا عام لوگوں کے مسائل پربھی توجہ دوں گا۔
لطف یہ ہے کہ فضل دین عرف پھجے قصائی نے کسی سیاسی جماعت سے وابستہ ہونے کی بجائے آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کاکہنا ہے کہ ہم غلام تونہیں ، آزاد ملک کے آزادشہری ہیں، انتخابات بھی چونکہ” آزادانہ“ ماحول میں منعقد ہوں گے اس لیے میں بھی آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑوں گا۔ہم کسی سیاسی جماعت کی بھی غلامی قبول نہیں کریں گے۔حیرت ہمیں اس وقت ہوئی جب پھجے قصائی نے اپنے منشور کی تیاری کے لیے ہمارے ساتھ بھی مشورہ شروع کردیا ۔ وہ منشورایک کاغذ پر لکھ کر لایا ہواتھا اورکاغذ پر چربی کی چکنائی لگی ہوئی تھی۔
پھجے قصائی کے منشور کے نکات بہت دلچسپ تھے۔ اس نے اپنے منشور میں منتخب ہونے کے بعد بہت سے انقلابی اقدامات کرنے کاعہد کیاتھااور کہا تھاکہ منتخب ہونے کے بعدمیں منگل اور بدھ کا گوشت کا ناغہ ختم کروں گا، منگل بدھ کاناغہ ہم قصابوں کے لیے اذیت کاباعث بنتا ہے ۔ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے اس روز گوشت کو ترس جاتے ہیں ۔ہمیں ناغے کے دن چوری چھپے گوشت فروخت کرناپڑتا ہے جس کانتیجہ یہ نکلتا کہ ہروقت گرفتاری کا دھڑکا لگا رہتا ہے ۔جب بجلی اور پٹرول کی بچت کے لیے بعض اداروں کو ورک فرام ہوم کا مشورہ دیا جاسکتا ہے تو قصاب ہفتے میں دو روز ورک فرام ہوم کیوں نہیں کرسکتے۔ ٹیکنالوجی کافائدہ ہمیں بھی تو ہونا چاہیے ۔
اس کاکہناتھا کہ میں منتخب ہونے کے بعد قصابوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کروں گا ۔اسمبلی میں قصابوں کے لیے مخصوص نشستوں کامطالبہ کروں گا۔ ملک بھر میں قصابوں کی ایک بڑی تعدادایوانوں میں نمائندگی سے محروم رہ جاتی ہے ۔میں کوشش کروں گا کہ ان کے حقوق کی حفاظت کروں ۔قصابوں کی عزت نفس مجروح ہونے سے بچاﺅں گا ۔معاشرے میں قصاب کوعزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا اور تو اورادیب، شاعر بعض نقادوں کو بھی قصاب کہنے سے گریزنہیں کرتے ۔میں برسراقتدار آنے کے بعد کسی کو یہ اجازت نہیں دوں گا کہ وہ کسی نقاد کو قصاب کہہ کر قصابوں کی عزت نفس مجروح کرے۔ہم بہرحال نقادں سے زیادہ عزت والے ہیں۔
پھجے قصائی نے مزید کہاکہ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ جس طرح معاشرہ طبقاتی تقسیم کاشکارہے اسی طرح قصاب بھی طبقاتی گروہ بندیوں کا شکارہوچکے ہیں۔عجیب دوعملی ہے کہ قصاب صرف بڑے اور چھوٹے گوشت والے کو کہا جاتا ہے،مرغی فروش بھی اگرچہ قصاب ہوتا ہے ،مچھلی فروش کو بھی قصاب کی فہرست میں ہی آنا چاہیے لیکن لوگ برا بھلا جب بھی کہتے ہیں تو بڑے اورچھوٹے گوشت والے ہی زد میں آتے ہیں۔ میں یہ دوجماعتی نظام نہیں چلنے دوں گا۔
سینئر سیٹیزن کی طر ح قصائیوں کوبھی سفری سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔چھری ، ٹوکے اور قیمے والی مشین کی درآمد پر ڈیوٹی ختم کی جائے گی۔ہم پر الزام ہے کہ ہم ٹیکس نہیں دیتے ۔حقیقت یہ ہے کہ بہت سے محکمے کبھی صفائی اور کبھی جانوروں کی چیکنگ کے نام پر ہم سے رشوت وصول کرتے ہیں۔ مرے ہوئے جانور ہم نے کبھی فروخت نہیں کیے لیکن الزام ہم پرہی آتا ہے۔
موصوف سے ہم نے جب انتخابی نشان کے بارے میں دریافت کیا تو اس نے کہاکہ میں انتخابی نشان چھری یابکرا حاصل کروں گا ۔اسے یہ بھی اعتراض تھا کہ پیپلزپارٹی والے ماضی میں تلوار کا انتخابی نشان حاصل کرتے رہے ہیں ۔تلوار قتل عام کے کام آتی ہے پھجے کا خیال تھا کہ تلوار کا انتخابی نشان کسی قصاب کوہی الاٹ ہونا چاہیے تھا۔پھرخود ہی بڑبڑایا کہ وہ قصاب ہی تو تھے ۔
قارئین محترم!ہم پھجے قصائی کے لیے دعا گو ہیں کہ وہ آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اپنی برادری کی فلاح وبہبود کے لیے کام کرسکے۔ پھجے قصائی کی سپورٹرز میں اس کے وہ تمام گاہک بھی شامل ہیں جنہیں وہ کم ہڈی والا گوشت فراہم کرتا ہے، ہم خود قصائی کے سپورٹرز میں سے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ اس نے انتخابی مہم کے د وران ہمیں مفت گوشت فراہم کرنے کاوعدہ کیا ہے اور کہا ہے کہ کامیاب ہونے کے بعد وہ کم ازکم ایک دن او رزیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ کے لیے محلہ بھر میں مفت گوشت فراہم کرے گا۔ہماری یہ دعا ہے کہ کوئی او ر دکاندار بھی انتخابات میں حصہ لینے کااعلان کرے ،کوئی سبزی فروش الیکشن لڑے ، کوئی پرچون والا ،پان سگریٹ والا یا کسی اورپیشے سے منسلک کوئی شخص اپنی برادری کے حقوق کے تحفظ کے لیے میدان میں اترے تاکہ ہم کچھ روزکے لیے تفکرات سے آزاد ہوجائیں اورمفت خور سپورٹروں کی فہرست میں اپنانام بھی شامل کرالیں۔
اورہاں ایک بات تو ہم بھول ہی گئے پھجے قصائی نے ہمیں یہ بھی بتایا تھا کہ وہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے حقوق کی جنگ بھی ضرور لڑے گا اور منتخب ہونے کے بعد یہ جائزہ بھی لے گا کہ حکومت نے نیب قوانین میں جو ترامیم کی ہیں ان میں اصل قصابوں کے حقوق کا بھی تحفظ کیاگیا ہے یا صرف سیاست دانوں اور افسروں کوہی بچایا ہے۔
فیس بک کمینٹ

