ادیب شاعراورصحافی کسی بھی قدرتی آفت یالوگوں کے دکھوں کوزیادہ محسوس کرتے ہیں یہ وہ طبقہ ہے جوچشم تصورمیں خود کو انہیں منظروں میں محسوس کرتاہے اورپھر اپنی تحریروں یاشاعری کے ذریعے لوگوں کے دکھ بیان کرتاہے۔چشم تصورمیں دکھوں کو محسوس کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں لیکن اگرآپ خود اس تجربے کاحصہ بنیں توان دکھوں کو اورلوگوں کے مسائل کو زیادہ بہتراندازمیں محسوس کرسکتے ہیں اورپھر بیان بھی کرسکتے ہیں، میں بھی اسی منظرکاحصہ بننے کے لئے گزشتہ ہفتے راجن پور گیا تھا۔
جام پور سے کوئی تیس کلومیٹرکے فاصلے پر داجل کاعلاقہ درخواست جمال حالیہ سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہوا، آپ جانتے ہیں کہ دریائے سندھ کے مشرقی کنارے پرواقع بہت سی آبادیاں گزشتہ ماہ سیلاب کے نتیجے میں ملیامیٹ ہوگئیں فاضل پورسمیت اس پورے خطے میں بڑے پیمانے پرتباہی دیکھنے میں آئی لوگوں کی فصلیں بربادہوئیں گھرزمیں بوس ہوئے اورسیلاب ان کامال مویشی بھی بہاکرلے گیا، ڈھورڈنگردیہی علاقوں میں رہنے والوں کی گزراوقات کے لئے کس قدراہمیت کے حامل ہوتے ہیں اس کااندازہ شہرمیں رہنے والوں کو ہوہی نہیں سکتا۔راجن پورکایہ علاقہ ویسے بھی وسیب کے پسماندہ ترین علاقوں میں شمار ہوتاہے،غربت اوربے روزگاری کی شرح بھی یہاں زیادہ ہے،تعلیم اورعلاج معالجہ کی سہولتیں نہ ہونے کے برابرہیں لیکن حالیہ سیلاب کے نتیجے میں یہاں جومسائل پیداہوئے ان کا سردست کسی کوادراک ہی نہیں، اس غربت زدہ علاقے میں سیلاب سے کچھ نئے لوگ بے گھروں اورفاقہ کشوں کی فہرست میں شامل ہوئے ہیں وہ جن کے سروں پرچھت موجود تھی اورجن کے ڈھورڈنگربھی ان کی گزربسرمیں معاون ثابت ہوتے تھے یہ سیلاب ان سے سب کچھ چھین کرلے گیا۔
ہم سب جانتے ہیں کہ یہ علاقہ ماضی میں لادی گینگ اوربوسن گینگ سمیت کئی جرائم پیشہ گروہوں کے حوالے سے خبروں کا مرکز رہا، ڈاکوؤں کے ان گروہوں کوختم کرنے کے لئے آپریشن بھی کئے گئے اوررینجرز کی خدمات بھی حاصل کی گئیں،پولیس اورسکیورٹی اہلکاروں کوان ڈاکوؤں نے مختلف اوقات میں یرغمال بھی بنایا جنہیں مذاکرات،تاوان کی ادائیگی یامقابلوں کے بعد بازیاب کرایاگیا ان مقابلوں میں پولیس کے کئی جوا ن بھی مارے گئے۔پنجاب میں اغواء برائے تاوان کی وارداتوں کا سراغ بھی بسااوقات انہی علاقوں سے ملتاہے،سوچنے کی بات یہ ہے کہ بھوک اورفاقہ کشی کاشکارہونے والے لوگ کیااب ایسے ہی نئے گینگ تونہیں بنالیں گے یا ڈاکوؤں کے پہلے سے موجود گروہوں کو نئے فاقہ کشوں کی صورت میں نئی کمک تونہیں مل جائے گی کہ اس وقت ان لوگوں کو راشن اورپانی کے حصول کے لئے جس ذلت کاسامنا کرنا پڑتا ہے وہ ناقابل بیان ہے۔
راشن لینے کے لیے پہلے تو ٹوکن لینا پڑتا ہے ”نظم و ضبط“ کے ساتھ شدید گرمی اور حبس کے موسم میں قطار میں کھڑے لوگوں کو دھکم پیل میں پورا پورا دن انتظار کرنا پڑتا ہے اوراگر باری آنے تک راشن ختم ہو جائے تو ٹوکن ملنے کے باوجود خالی ہاتھ گھرواپس جانا پڑتا ہے اور اس کے بعد اگلے روز نئے سرے سے پھر وہی دھکم پیل اور وہی امید اور نا امیدی کاسفرشروع ہو جاتا ہے میں جس قصبے درخواست جمال غربی کی بات کررہاہوں اس کے شرقی،جنوبی اورشمالی علاقے بھی اسی تباہی کاشکارہوئے ہیں،یہ علاقہ سابق صدر فاروق خان لغاری کے والد اورلغاری قبیلے کے موجودہ سردار جمال خان لغاری اوران کے چھوٹے بھائی اویس خان لغاری کے دادا سردارجمال خان لغاری کی نسبت سے درخواست جمال کہلاتاہے۔ وہاں کے لوگوں کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ سردار سے ہاتھ ملانا باعث تکریم سمجھتے ہیں اوراگرکبھی سردار ان سے ہاتھ ملالے توکئی کئی روز اپنا ہاتھ بھی نہیں دھوتے کہ یہ“ اعزاز“ نصیب والوں کو ہی ملتا ہے۔ یہ لوگ نصیب والے ہیں یانصیبوں کے جلے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتاکہ انہیں کسی نہ کسی صورت ذلت کاشکارہوناہی پڑتاہے سو اس مرتبہ وہ سیلاب کی زد میں آگئے جسے ان کے اعمال کی سزا بھی کہا جاتا ہے لیکن یہ سوال پوچھنے کی کوئی جرات نہیں کرتاکہ اعمال کی سزاصرف پسماندہ علاقوں میں رہنے والوں کوکیوں ملتی ہے اس سزاکاشکار بڑے شہروں کے باسی کیوں نہیں ہوتے۔گزشتہ ہفتے ہم اس علاقے میں گئے تومعلوم ہوا کہ وہاں سرکاری امداد اب تک نہیں آئی کہ سرائیکی علاقہ ویسے بھی پنجاب کی پرویزی حکومت کی حدود میں نہیں آتا۔ اور شہباز شریف کے لئے ملکہ برطانیہ کی آخری رسومات میں شریک ہونا سیلاب زدگان کی بحالی سے کہیں زیادہ اہم تھا۔لطف کی بات یہ ہے کہ وزیراعلیٰ کے انتخاب کے دوران سب کی توجہ کامرکزبننے والے ڈپٹی سپیکرپنجاب اسمبلی سرداردوست محمد مزاری کابھی اسی علاقے سے تعلق ہے اوراسی علاقے کی ایک بلوچ خاتون کی ویڈیوکوبہت شہرت ملی تھی جو سرداردریشک پرامدادی سامان ہضم کرنے کاالزام لگارہی تھی اوراگلے ہی روز ایک اورویڈیوکے ذریعے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ رہی تھی لیکن سیاست بہت بے رحم ہوتی ہے اداروں کواتنامفلوج کردیاگیاکہ تباہ شدہ علاقوں تک امداد دینے والوں کی رسائی بھی مشکل ہوگئی۔
جب بالائی پنجاب کے علاقے سیالکوٹ کی تحصیل جھارانوالا میں مقیم ہمارے دوست عالمی شہرت یافتہ ماہر معاشیات ڈاکٹر محمد شہباز کو معلوم ہوا کہ پرویز الہی اور شہباز شریف سمیت کوئی بھی سرائیکی علاقے کے سیلاب زدہ علاقوں پر توجہ نہیں دے رہاتووہ خود شہباز سپیڈ بن کے نمش فاو ¿نڈیشن کی جانب سے امدادی سامان کا ٹرک لے کر روانہ ہو گئے۔ لو دھراں سے ان کے شاگرد ڈاکٹر جی ایم قمر، جہانیاں سے پروفیسر ڈاکٹر خالد انصر اور ڈیرہ غازی خان سے ڈاکٹر محسن ان کے قافلے میں شامل ہو ئے۔ ملتان کی نمائندگی کا قرعہ ہمارے نام نکلا سو ہم بھی رات بھر کے سفر کے بعد علی الصبح ڈیرہ غازی خان پہنچ گئے۔17ستمبر کادن انتہائی تکلیف دہ مناظر دیکھے میں گزرا اورمیں سوچ رہاتھاکہ ہم خوش قسمت ہیں کہ جو ابھی راشن کے ٹوکن اور پانی کی چھ بوتلیں لینے والوں کی قطار میں شامل نہیں لیکن موسمیاتی تبدیلی اور موجودہ تباہی کے اثرات کتنے دور رس ہوں گے اس کا کسی کو ادراک ہی نہیں، آنے والے برسوں میں یہ قطاریں بہت طویل ہو جائیں گی انتظار اس دن کا ہے جب ان قطاروں میں لگے ذلتوں کے مارے لوگ سرداروں اور مخدوموں پر حملہ آور ہوکراپنا حق چھین لیں گے۔ کاش کہ یہ دن ہمارے بچے ہی دیکھ سکیں۔
( بشکریہ : روزنامہ پاکستان )
فیس بک کمینٹ

