ڈیئرشاکرحسین شاکر
آج 28جولائی کو تمہارا خط ملااور آج ہی جواب حاضرہے۔ یہ خط دس روزکے وقفے سے موصول ہوا ہے۔ اس سے پہلے سترہ کوتمہاراخط آیاتھا۔ جس بال پوائنٹ سے میں خط لکھ رہاہوں اس کا سکہ ختم ہونے والا ہے اورکوئی دوسرا بال پوائنٹ اس وقت میرے پاس موجودنہیں۔ اگر یہ سکہ خط سے پہلے ختم ہوگیا تو مجھے پین استعمال کرناپڑے گا جو ہے تو ٹھیک لیکن روانی سے نہیں لکھتا۔ خیر ابھی تو میرا سکہ چل رہا ہے اور خوب چل رہا ہے ۔دوبارہ خط کی طرف آتاہوں ۔بلاوجہ تین سطریں لکھ کر سکہ ضائع کربیٹھاہوں۔تم نے میری مہمان نوازی کاذکر کیا ہے گویاتمہیں معلوم ہے کہ میں حاتم طائی کی قبر پراتنی لاتیں مارچکا ہوں کہ اس بچارے کی ہڈیاں بھی کڑکڑاگئی ہوں گی۔مہمان نواز تو میں ہوں شرط یہ ہے کہ مہمان کام کاہوناچاہیے۔ قمررضا شہزاد جب کبھی لاہور آئے تو ضرور ملتا ہے۔ اسے مل کر خوشی ہوتی ہے کیونکہ وہ ہم مزاج ہے۔ رہی تمہاری بات توبھائی تم اگرلاہور آئے اور کسی اورکے ہاں ٹھہرے تو جھگڑا ہوجائے گا۔اس لیے اپنی تو بات ہی نہ کرو۔ پہلے پاکستان تو آﺅ پھر لاہور بھی آجانا۔ میں نے تو بہت سے منصوبے بنار کھے ہیں کہ تم لاہور گئے تو یہ کریں گے وہ کریں گے۔ تمہارے لیے گورنر ہاﺅس کامہمان خانہ بھی کھلوایا جاسکتا ہے کیونکہ مخدوم صاحب سے ہماری پرانی علیک سلیک ہے۔ میرے تو وہ اسی روز مداح ہوگئے تھے جب میں نے سند باد ہوٹل والے فنگشن میں ان کی شان میں ایک انشائیہ پڑھا تھا اور پھر ردعمل سے بچنے کے لیے عارف محمودقریشی کے ساتھ فرارہوگیاتھا۔ لیکن میرا خیال ہے کہ تم درویش آدمی ہو ۔گورنرہاﺅس میں ٹھہرناپسند نہیں کروگے۔ نظم کی پسندیدگی اورناپسندیدگی کا شکریہ۔ ناپسندیدگی اس لیے کہ تمہیں موضوع پر اعتراض ہے۔ یار میں محبت پربھی لکھتا ہوں لیکن بات یہ ہے کہ اس موضوع پر ولی دکنی سے لے کر اسلم یوسفی اورحزیں صدیقی تک ہر شاعر نے اتنالکھا کہ ہر بات نقل ہی محسوس ہوتی ہے۔خیر محبت کرتے ہیں تو اس موضوع پرشاعری بھی ضرور ہونی چاہیے۔ میری نئی غزلوں میں لاشعوری طورپر یہ جذبہ ابھرآیا ۔
ویسے میں اسی نظم کے عنوان پر کتاب کانام بھی سوچ رہا تھایعنی ”اجنبی شہر کاالمیہ“ ۔خیر یہ نام بھی حتمی نہیں۔ نظمیں ،غزلیں جمع کرلی ہیں ۔ایک نظر اس پر سحرصاحب ڈال لیں پھرکتابت کے لیے دے دوں گا۔ میں نے اس سے پہلے کبھی کسی کو شاعری نہیں دکھائی ،کہیں تلفظ کی غلطی یا تراکیب کی غلطی بھی ہوسکتی ہے۔( لو اب بال پین نے جواب دے دیا باقی خط سیاہی والے پین سے لکھ رہا ہو ں)۔25کے قریب غزلیں ہیں ۔دس پندرہ نظمیں ہیں۔ تازہ غزلیں ادھوری ہیں ، ان کی تکمیل کے بعد تعداد بڑھ جائے گی۔ میرا ایک خط مختصر ہوگیا تو تمہیں اعتراض ہے ،کبھی تمہیں تمہارے خطوط دکھاﺅں گا زیادہ تر مختصرہیں۔ صرف دوصفحے۔ دوصفحے کے خط کی بھلا کیا ” ضخامت“ ہوتی ہے؟
آج ڈاکٹر انورسدید سے ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا کہ حسین سحر صاحب پی ایچ ڈی کررہے ہیں۔ انور سدید کو انہوں نے اس سلسلے میں خط لکھا ہے۔ ”اردو ادب میں علاقائی ترجمے کی اہمیت “ ان کاموضوع ہے۔ اس مرتبہ میں ملتان گیا تو چادر والی سرکار کاانتقال ”پرملال“ ہوگیا۔ ملتان ایک بار پھریتیم ہوگیا۔ یہ شہر جانے کیوں ہرتیسرے مہینے یتیم ہوجاتا ہے۔امروز میں خبر چھپی کہ پیر صاحب کی عمرترسیٹھ برس تھی اورانہوں نے تریسٹھ برس تک اسلام کی تبلیغ کی۔کیسی مزے کی بات ہے ۔بھائی میں عینک والی سرکاربن جاتا ہوں۔ اطہر ناسک سگریٹ والی اور اسلام تبسم کو ڈاک ٹکٹوں والی سرکاربناتے ہیں اور ہمارا دوست ظفر توویسے بھی ٹوپی والی سرکار مشہورہے۔۔۔۔قدرت اللہ شہاب بھی چل بسے۔ میں انہیں صرف ایک افسانے کی وجہ سے تسلیم کرتاہوں اوروہ افسانہ ہے ”یا خدا“۔ میں نے بھی دوچارماہ پہلے پڑھا۔ تقسیم کے بعد کے حالات پر خدا کے نام پرلڑکیوں کے ساتھ کیا کچھ کیاگیا یہ اس افسانے کاموضوع ہے۔ اب میری پسندیدگی کی وجہ بھی سمجھ گئے ہو گے۔ ایک اور افسانہ ”ماں“ بھی ہے مگر میں نے نہیں پڑھا۔ بہرحال قدرت اللہ، محمد طفیل سے بڑاادیب تھا لیکن تھا وہ بھی بیوروکریٹ۔ رائٹرز گلڈ کو کھانے والے دو ادیب یکے بعد دیگرے مر گئے۔ اب عرش صدیقی اور اصغر علی شاہ کی سلامتی کے لیے دعا کرو۔ پچھلے ہفتے تین شعر کہے تھے ۔ابھی غزل نامکمل ہے۔
بستی کایہ دروازہ بھی اس کی نظر تک آپہنچا ہے
ہر اک گھر کولوٹنے والا اپنے گھرتک آپہنچا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رفتہ رفتہ سارے باغ پہ اس کاقبضہ ہوگا جس نے
پھول کے بعد اک ٹہنی توڑی اور شجر تک آپہنچا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کو اپنی تدبیروں پر ناز بہت تھا ہم کیا کرتے
ہم نے تواسے بہت کہا تھا پانی سرتک آپہنچاہے
آج کل صدیق سالک کی کتاب ”ہمہ یاراں دوزخ“ پڑھ رہا ہوں۔لطف آرہاہے۔
خوش رہو،تمہارا رضی
28جولائی 1986
فیس بک کمینٹ

