ٹیپو سلطان اور بےنظیر بھٹو میں ممکن ہے کوئی مماثلت نہ ہو لیکن ان میں سے کسی ایک کی یاد آئے تو دوسرا مجھے خود بہ خود یاد آجاتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ پنجاب کے ایک دور افتادہ شہر چشتیاں کے مختصر سے سنیما گھر میں، میں ٹیپو سلطان کی زندگی پر فلم دیکھ کر نکلا تو شہر میں بےنظیر بھٹو کی آمد کا اعلان ہورہا تھا۔ اس شہر سے میری روانگی اور بےنظیر کی آمد کے درمیان آٹھ گھنٹے کا فرق تھا۔ میں نے اس فرق کو ختم کرنے کی کوشش کی لیکن بزرگوں کا پروگرام اٹل تھا، ورنہ میں اس جواں سال خاتون کو عین اُس زمانے میں دیکھ اور سن پاتا جب میٹرک کا امتحان دے کر میں نے دنیا کے بارے میں ابھی سوچنا شروع ہی کیا تھا۔ یوں یہ حقیقت بھی مشاہدے کا حصہ بن جاتی کہ اس نوجوان لڑکی کی کیا کیفیت ہوتی ہے جسے اپنے باپ کی جان بچانے کے لیے شہر شہر، گاؤں گاؤں جانا اور رائے عامہ کو بیدار کرنا پڑے۔ بے نظیر کو میں جانتا تو اس سے پہلے بھی تھا مگر چشتیاں جیسے شہر میں اُن کی آمد کا سن کر میرے دل میں اُن کے لیے ایک چھوٹی سی جگہ اور حافظے میں ایک چھوٹی سی یاد بن گئی۔
بےنظیر جس زمانے میں لانگ مارچ کے لیے پابہ رکاب تھیں تو اُن کے ہمدرد صحافی یہ جاننے کو بے تاب تھے کہ اس مہم کے نتیجے میں کیا حکومت کا دھڑن تختہ ہوجائے گا؟ بےنظیر اس طرح کے سوالات سنتیں اور اپنے جانے پہچانے جوش بھرے لہجے میں جواب دینے کے لیے لمبی تمہید باندھتیں۔ اس ہیجان خیز محفل میں میرا سوال اگر اپنے دوستوں سے مختلف تھا تو اس کا سبب یقیناً ذہنی رحجانات کا فرق رہا ہوگا۔ میں نے سوال کیا تھا:
”محترمہ راول پنڈی میں داخل ہونے کی آپ کو اجازت نہیں، اس لیے کیسا آپ کا لانگ مارچ اور کیسے اس کے نتائج ؟“۔
یہ سوال سن کر انھوں نے ایک نظر میری طرف دیکھا، اس لمحے یوں محسوس ہوا جیسے وہ کچھ کہنا چاہتی ہیں لیکن خاموش رہیں۔ میرے سوال کو اُنھوں نے نظرانداز کردیا۔ ایک صحافی کی سبکی اس سے زیادہ کیا ہوسکتی ہے؟، میں دکھی ہوگیا مگر یہ ایک قیمتی لمحہ تھا کیوں کہ عین اس وقت سوال کنندہ اور جواب دہندہ کی آنکھیں چار ہوئیں اور کچھ کہے سنے بغیر باہم پیغامات کا تبادلہ ہوگیا۔
ان ہی ہنگامہ خیز دنوں کی بات ہے، انھوں نے حکومت کے خلاف ایک اور مہم کی منصوبہ بندی کی۔ اُس روز حزب اختلاف کے تمام رہنما بلاول ہاؤس میں جمع تھے، طویل صلاح مشورے کے بعد دروازہ کھلا تو قائدین کمرے سے یوں نکلے جیسے جیل سے قیدی نکلتے ہیں۔ بےنظیر سب سے آگے تھیں، میرے قریب پہنچیں تو ہیجانی انداز میں کہا:
”ہم جاں رہیں ہیں، عوامی دورے پر“۔
انھوں نے ہمیشہ کی طرح الفاظ میں نون غنوں کی آمیزش کرتے ہوئے کہا۔ جذبات کا وفور، جوانی کا جوش اور خوشبو کا ایک اڑتا ہوا جھونکا۔ اُن کی شخصیت کا سحر ماحول پر اثرانداز ہوگیا۔
”عوامی دورے پر جانے کا اعلان انھوں نے میرے قریب پہنچ کر ہی کیوں کیا ؟“۔
میں نے سوچا اور اُس نشست کو یاد کیا جب انھوں نے مجھے نظر انداز کیا تھا۔ یہ ”اتفاق“ ایک خلش کی طرح میرے دل میں پل پوس کر جوان ہوا، یہاں تک کہ بے نظیر ایک کے بعد دوسری کتاب کی مصنفہ بھی بن گئیں اور پاکستان سے لے کر اقوام عالم تک ”مفاہمت“ کی نقیب بن کر ابھریں۔
ان کی دوسری کتاب اسلامی عقائد، رواداری اور انتہا پسندی کے تعلق سے اسلام کی تعلیمات، جنگ و جدل اور تہذیبوں کے درمیان تصادم کے مباحث کا بھرپور جائزہ پیش کرتی ہے۔ یوں بےنظیر بھٹو عملیت پسند سیاست دان سے اوپر اٹھ کر ایک مدبر کے طور پر سامنے آتی ہیں۔ اسلام کے نظام ریاست کے بارے میں انتہائی سنجیدہ بحث کے دوران مجھے اچانک اُس وقت اپنے دیرینہ سوال کا جواب مل گیا جب انھوں نے انکشاف کیا کہ قرآن حکیم میں ایسی کوئی ہدایت نہیں پائی جاتی کہ مستقبل میں ریاستوں کی تعمیر، ریاست مدینہ کی طرز پر کی جائے ۔ کسی بڑے آدمی میں ایسے الہامی نتیجے پر پہنچنے کی صلاحیت اُسی وقت پیدا ہوتی ہے جب اُسے اپنے مقصد حیات پر غیر متزلزل یقین اور اپنی فکر کی راستی پر اندھا اعتماد ہو۔ ایسی صورت میں علمی دلائل و براہین ہاتھ باندھ کر اُس کے سامنے کھڑے ہوجاتے ہیں، تاریخی حقائق لوٹ پلٹ کر نئی حقیقتوں کے طور پر جلوہ گر ہوجاتے ہیں۔ پھر اگر کوئی ایوب خان کے چیف پولنگ ایجنٹ کو محترمہ فاطمہ جناح کا ہم درد و غم خوار قرار دے ڈالے یا مولانا مودودی کو بےنظیر بھٹو کی وزارت عظمی کا مخالف ظاہر کرے تو کسی کو حیرت نہ ہوئی چاہیے۔ اس کے بعد بھی اگر میں دعوی کروں کہ بےنظیر عظمت کے ایسے ہی بلند مقام پر فائز تھیں تو یہ حقیقت کو چراغ دکھانے کے مترادف ہوگی، لہذا جب بگولے کی سی تندی کے ساتھ میرے پہلو سے گزرتے ہوئے اُنھوں نے عوامی دورے پر جانے کی اطلاع بہم پہنچائی تو اس اعلان کی رمز ایک زمانہ بیت جانے کے بعد میں نے سمجھی اور یہ بھی جانا کہ بڑا آدمی غالب کی طرح ہوتا ہے جس کا سخن اپنے عہد ہی نہیں آنے والے زمانوں کا بھی احاطہ کرتا ہے۔
بےنظیر ایک بڑی سیاست دان ہونے کے باوجود ایک حساس، باتونی اور زندہ دل خاتون تھیں جن میں آزمائش کے وقت ثابت قدمی کے ساتھ کھڑے رہنے کی بھرپور صلاحیت تھی۔ مشکل وقت گذر جانے کے بعد ان کیفیات سے لطف اندوز ہونا بھی انھیں آتا تھا۔ وہ نشاط کی ان گھڑیوں میں دوسروں کو بھی شریک کرلیا کرتیں، ایسی ہی ایک نشست میں شرکت کا اعزاز مجھے بھی حاصل ہے۔
نوے کی دہائی میں لانگ مارچ کی مہم جوئی کے بعد کراچی لوٹیں تو انھوں نے بلاول ہاؤس میں ایک نشست کا انعقاد کیا، وہ مہمانوں کے درمیان تشریف لائیں تو اُن کے سرخ و سپید چہرے پر مسرت کی پھوار برس رہی تھی۔ اپنی نشست پر بیٹھنے کے بعد انھوں نے دائیں بائیں نظر دوڑا کر پُرجوش انداز میں لوگوں کی خیریت دریافت کی:
”کیسے ہیں آپ لوگ ؟“۔
جواب کے لیے دو تین بزرگوں نے لب کھولے، مگر وہ تو خود بہت کچھ کہنے کے موڈ میں تھیں۔ پولیس اُن کے لانگ مارچ سے جس طرح نمٹی ہوگی، پہلے انھوں نے اس کا تذکرہ کیا پھر ایک آواز نکالی:
”زوں ں ں ں ں ں ں“۔
پھر زوردار قہقہہ لگاتے ہوئے بتایا کہ گاڑی سائرن بجاتے ہوئے میرے سامنے سے یوں گزری جیسے کچل ہی ڈالے گی۔
”بالکل وحشی ہوچکے تھے“۔
اُنھوں نے اپنے مخصوص تلخ احتجاجی لہجے میں تبصرہ کیا۔ اس کے بعد پولیس کے ساتھ جھڑپ کا حال بیان کیا:
”درندوں کے غول کی طرح اُنھوں نے ہمیں گھیرلیا مگر ہم ذرا نہ گھبرائے۔ میرے جیالوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا، کوئی اس سے لڑ رہا تھا، کوئی اُس سے، بالکل میدان جنگ کا منظر تھا۔ اتنے میں گولی چل گئی، ٹھشوں ں ں ں ں“۔
ان کی زبان سے نکلنے والی آوازوں نے منظرکشی مکمل کردی۔ اس لمحے وہ خود تو روحانی طور پر راولپنڈی میں تھیں ہی، اپنے سامعین کو بھی اپنے ہمراہ لیے لیے پھریں۔ لوگ اس گفتگو سے خوب محظوظ ہوئے مگر کس خوبی سے اُس روز ہم نے یہ جانا کہ دھان پان کی یہ خاتون کتنی بہادر اور کس قدر جنگجو ہے۔
بےنظیر کی دل چسپ باتیں سُن کر معمول کی خبر تو میں نے بنائی لیکن میں اس ٹوہ میں لگ گیا کہ راولپنڈی میں اُس روز ہوا کیا تھا جس کا بیان انھوں نے اس خوبی سے کیا، کیوں کہ بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں جو معمول کی رپورٹنگ میں جگہ حاصل نہیں کرپاتیں۔ یہ کہانی بہت برس کے بعد بی-بی-سی نے بیان کی جس میں بتایا گیا کہ انتظامیہ نے جب بےنظیر بھٹو کی نظر بندی کی اطلاع ان کی رہائش گاہ پر پہنچائی تو ان کی معاون خصوصی ناہید خان نے سرکاری اہل کار پر واضح کیا کہ بی بی نے اپنے جیالوں سے عہد کر رکھا ہے، وہ ضرور لیاقت باغ پہنچیں گی۔ بےنظیر گھر سے نکلیں تو باہر گلی میں لاٹھی چارج جاری تھا اور جیالے اپنی بساط کے مطابق اس کا سامنا کررہے تھے۔ آصف فاروقی کا کہنا ہے کہ اسی دوران انھوں نے بےنظیر کو دیکھا جو زمین پر بیٹھ کر گھسٹتی ہوئی فاروق لغاری کی گاڑی میں داخل ہوئیں جنھوں نے ان کے بیٹھتے ہی ایکسیلیریٹر پر پاؤں کا دباؤ بڑھا دیا۔
بےنظیر جانتی تھیں کہ وہ اور ان کے بچے اس مٹی کا پھول ہیں مگر ان کی پرورش و پرداخت جیسا کہ رؤسا کی روایت ہے، اس سرزمین سے باہر ہوئی۔ یہ ایک طرح سے اُن کی کمزوری بھی تھی اور مخالفین بھی انھیں دساور کا مال سمجھ کر مخالفت کا کوئی موقع جانے نہ دیتے تھے۔ وہ ایسے تاثرات کو بڑی خوبی سے زائل کیا کرتیں۔ صحافیوں کے ساتھ اُس نشست میں (جس میں اُنھوں نے لانگ مارچ کے معرکوں کی تفصیل بھرپور صوتی اثرات کے ساتھ پیش کی تھی) بلاول اور بختاور بھی موجود تھے۔ دونوں ابھی شیر خوار تھے اور بڑی معصوم شرارتیں کیا کرتے تھے۔ انھوں نے اپنی ماں کے منہ سے اجنبی آوازیں سنیں تو وہ بھی کھل اُٹھے۔ ایک بچہ میز کے اوپر لیٹ جاتا تو دوسرا اس کے نیچے گھس جاتا جس پر ماں انھیں گھورتی تو جواب میں وہ بھی آنکھیں نکالتے۔ ماں کو مسکراتا ہوا دیکھتے تو کلکاریاں مار کر ہنستے۔ یہ دیکھ کر بےنظیر نے کئی بار انھیں ڈانٹتے ہوئے کہا:
”ٹھہرجاؤ! تمھارا باپ ہی آکر تمھیں ٹھیک کرے گا“۔
ناٹے سے قد کی فلپائنی آیا کے زیرتربیت یہ نونہال کیا اردو سجھتے تھے؟ اگر سمجھتے ہوتے تو ماں کی گھرکی کو سمجھ کر ضرور سہم جاتے مگر بےنظیر کا مخاطب وہ نہ تھے۔
ایک بار بجٹ کے موقع پر انگریزی اور اردو میں ملی جلی خاصی ٹیکنیکل قسم کی گفتگو کے دوران انھوں نے اعلان کیا کہ حکومت کنک کی پیداوار میں اضافہ کرے گی۔ حافظ عبد الخالق بتاتے ہیں کہ لوگوں نے اس لفظ کو سمجھنے کے لیے ڈکشنریاں کھنگال ڈالیں۔ پریشانی کے عالم میں کسی کے ذہن میں اچانک ایک خیال آیا اور اُس نے کہا کہ یارو! کہیں یہ گندم تو نہیں۔ یہ لوگ خواب میں بھی نہیں سوچ سکتے تھے کہ بےنظیر گندم کے لیے کنک جیسا مقامی لفظ بھی استعمال کرسکتی ہیں۔ روایت ہے کہ بےنظیر اس طرح کے الفاظ بڑی محنت سے سیکھا کرتی تھیں۔ پاکستان کے شدھ دیسی عوام ٹھیٹ مقامی بولیوں کے الفاظ اُن کی زبان سے سنتے تو خوشی محسوس کرتے۔
بےنظیر دورے پر نکلتیں تو اُن کے ساتھ پارٹی کی قیادت اور کارکنوں کی ایک بڑی تعداد بھی ہوا کرتی جو بلاول ہاؤس سے انھیں لے کر روانہ ہوتی اور گھر پہنچا کر واپس لوٹتی۔ ایسا ہی ایک موقع تھا، بےنظیر گھر میں داخل ہوئیں تو پروفیسر کرار حسین کے لخت جگر سینیٹر تاج حیدر کے ذہن میں ایک خیال بجلی کے کوندے کی طرح لپکا اور وہ کھڑے کے کھڑے رہ گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ جیسے ہی بےنظیر نے گھر کے اندر قدم رکھا، میں نے سوچا کہ ابھی میں اپنے گھر جاؤں گا تو بیگم منتظر ہوں گی اور بچے مسکراہٹوں کے ساتھ استقبال کریں گے پھر وہ باتوں کی پٹاری کھولیں گے اور ہم سب اس میں کھو کر رہ جائیں گے مگر یہ خاتون جسے ابھی میں نے خدا حافظ کہا ہے، گھر میں کون اس کا منتظر ہے؟ شوہر جیل میں ہے اور بچے بیرون ملک، گھر گویا خالی ڈھنڈار، کوئی تنہائی سی تنہائی ہے؟۔ وہ کہتے ہیں کہ بےنظیر کے دکھ کا اندازہ کرکے میری آنکھیں بھر آئیں۔
بےنظیر اپنا یہ دکھ قوم کے سامنے تخلیقی انداز میں پیش کیا کرتیں۔ وہ اسیر شوہر سے ملنے کے لیے جیل جاتیں تو کبھی جیل حکام اُن کی گاڑی کو عمارت کے قریب نہ آنے دیتے اور کبھی وہ خود ہی گاڑی کو دور رکوا کر اُتر پڑتیں جب تک دو بچے تھے، وہ ایک کو گود میں اٹھالیتیں اور دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر چل پڑتیں۔ فوٹو گرافروں کو ایسے مناظر اللہ دے، وہ ہجوم کرکے اُن کی بےبسی کے مناظر دنیا تک پہنچا دیتے۔ ایسا ہی ایک منظر دیکھ کر پیپلز پارٹی کے سب سے بڑے ناقد محمد صلاح الدین نے کہا کہ جیل والے بدبخت بھی اسے مظلوم بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔
بےنظیر جیسے اپنے بچوں کو مشرقی ماؤں کی طرح ڈانٹتیں، عین اسی طرح اپنے شوہر کے لیے بھی وارفتگی کا مظاہرہ کیا کرتیں۔ آصف علی زرداری اُن دنوں لانڈھی جیل میں بند تھے جب بےنظیر ان سے ملنے کے لیے پہنچیں۔ صحافی حسب معمول اُن کے تعاقب میں تھے، وہ جیل کے احاطے میں داخل ہوئیں تو آصف سامنے جنگلے پر ہاتھ رکھے اُن کے منتظر تھے۔ یہ منظر دیکھ کر بےنظیر کی رفتار بڑھ گئی اور وہ تقریباً بھاگ کر جنگلے تک جاپہنچیں اور اپنے ہاتھ اُن کے ہاتھ سے مس کرکے بڑی محبت سے کہا:
"Gorgeous”
اس دوران انھیں احساس ہوا کہ کوئی دیکھ رہا ہے، فوراً ہی پلٹیں، اُن کے پیچھے رفعت سعید کھڑے تھے جو جیل انتظامیہ سے ساز باز کرکے بےنظیر کے پیچھے احاطے میں داخل ہو گئے تھے۔ انھوں نے شفقت سے رفعت کے کاندھے پر ہاتھ رکھا، تقریباً لجاتے ہوئے مسکرائیں اور کہا:
”نہ بیٹا! لوگوں کی پرائیویٹ باتیں نہیں سنا کرتے“۔
بےنظیر کی خانگی زندگی پر جذبات کی جو کیفیت غالب نظر آتی ہے، سیاسی زندگی میں وہی کیفیت گھن گرج کے ساتھ جلوہ افروز ہوتی اور مخالفین کے لیے دو دھاری تلوار بن جاتی، ایسی تلوار جو کسی ایک طرف سے بھی چلے "دشمن” ہی کے سر کاٹتی، مثلاً لال مسجد کے بارے میں عدالت کے ایک فیصلے کو اُنھوں نے اس طرح بیان کیا:
”لال مسجد مدرسہ کمپلیکس کو عسکریت پسندوں کے حوالے کر دیا جائے“۔
بےنظیر کی زبان سے نکلنے والی اس طرح کی "خبر” ملک کے اندر باہر قیامت ڈھادیتی۔ لوگ وضاحت کرتے رہ جاتے کہ فیصلہ یہ نہیں یا یہ کہ فیصلے کے الفاظ مختلف ہیں مگر اس سے کوئی فرق واقع نہ ہوتا، اعصاب کی جنگ کے دوران حقائق کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے ہنر میں وہ یکتا تھیں۔
بھٹو صاحب پر مشکل وقت آپڑا تو اُن کے بہت سے قریبی ساتھی دشمنوں سے جاملے اور بےنظیر اپنی والدہ کے ساتھ جلاوطن ہوگئیں۔ ایسا لگتا ہے غریب الوطنی میں انھیں غور و فکر کا موقع ملا تو انھوں نے اپنوں کی بےوفائی کو سبق بنالیا اور اقتدار کی منزل تک جاپہنچیں یعنی انھوں نے بڑی حکمت کے ساتھ ریاست کی اُن قوتوں کے ساتھ سمجھوتہ کرلیا جن سے ان کی لڑائی تھی لیکن یہ ہومیوپیتھک طریقہ سیاست بھی ایک حد تک ہی کامیاب رہا۔ چنانچہ وہ ایک بار پھر غور و فکر پر مجبور ہوگئیں۔ حالات کے اس نہج پر پہنچتے پہنچتے خود ان کے اپنے مزاج میں بھی ٹھہراؤ آچکا تھا اور ان کے آتشیں انداز فکر پر تیزی سے گزرتی ہوئی عمر کے ماہ و سال نے تحمل کی خنکی بکھیر دی تھی۔ چنانچہ اب انھوں نے دشمنوں سے این آر او کیا اور اپنے ہم نفسوں یعنی سیاست دانوں کے ساتھ میثاق جمہوریت۔ یوں وہ ایک بار پھر سرخ رو ہوئیں۔ یہی ان کی سیاسی زندگی کا نکتہ عروج تھا۔ اب وقت آگیا تھا کہ قوم ان کے مزاج میں پیدا ہونے والے ٹھہراؤ اور 36 طویل برسوں پر مشتمل تجربات سے استفادہ کرتی مگر ظالموں نے ہماری اس متاع کو ہم سے چھین لیا۔
بےنظیر کے چہلم کے روز میں گڑھی خدا بخش بھٹو میں بھٹو خاندان کے آبائی قبرستان میں تھا۔ صفدر عباسی، محمد علی بھٹو اور کئی دیگر رہنما اور لاتعداد کارکنان قرآن خوانی میں مصروف تھے، دوسری طرف خواتین کی بڑی تعداد بےنظیر کی لحد کے گرد گھیرا ڈالے بیٹھی تھیں، میں خاموشی سے اٹھ کر ان کے پیچھے جا کھڑا ہوا۔ ایک مفلوک الحال نوجوان لڑکی قبر کی پائنتی پر ہاتھ رکھے کچھ بڑ بڑا رہی تھی، میں نے کان لگا دیے:
”ہن مکھے پت کھپے، آؤں کچھ نھی جانڑاں“
(اب کے مجھے بیٹا چاہیے، میں اور کچھ نہیں جانتی)
بی بی اس دنیا سے گزر جانے کے بعد بھی لوگوں کی امیدوں کا مرکز بنی ہوئی تھی۔
فیس بک کمینٹ

