یہ اس دور کی بات ہے جب نہ یوٹیوب ایجاد ہوئی تھی ، نہ سوشل میڈیا نہ کوئی دیگر ایسے ذرائع تھے جن سے کوئی اپنا تعارف کرا سکے صرف ٹیلی ویژن ہوا کرتا تھا جس پر پہنچنے کے لیے آپ کا بہت بڑا فنکار ہونا ضروری تھا ، بہت بڑا اداکار ہونا ضروری تھا یا پھر تگڑی سفارش ضروری ہوتی تھی ۔
ہاں اگر کوئی بہت بڑا سیاستدان ہوتا تو اس کی خبر چل جایا کرتی اگر وہ برسر اقتدار ہوا کرتا تھا ۔ اپوزیشن کو بھی ٹیلی ویژن تک کوئی رسائی نہ تھی رہ گئے اخبار وہ بڑے بڑے سیاست دانوں کی خبریں تلاش کرتے یا بڑے بڑے لوگوں کے اشتہار لگایا کرتے تھے ۔ ریڈیو پاکستان پر ادب و فنون و موسیقی کے ساتھ ساتھ کمرشل اداروں کا راج تھا ۔ ہمارے رسائل و ڈائجسٹ ہوتے تھے جن میں کچھ کہانیاں چھپتی تھیں ۔ سیاسی رسائل میں سیاست دانوں کے انٹرویو چھپتے ۔ عام آ دمی کے لیے کوئی ذریعہ نہیں تھا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو متعارف کرا سکے۔
ایسے دور میں ایک عجیب و غریب نام سامنے آ یا اور وہ تھا کفیل بھائی آ ف گھوٹکی کا ، یہ وہ دور تھا جب پاکستان میں کرکٹ اپنے عروج کو پہنچ رہی تھی پاکستان کی ٹیم دنیا بھر میں ایک خوف کی علامت سمجھی جاتی تھی کیونکہ یہ پہلی ٹیم تھی جس نے ویسٹ انڈیز کو ویسٹ انڈیز میں ہرایا۔ پاکستانی ٹیم اس وقت چند مایہ ناز کھلاڑیوں سے بھرپور تھی ہر ٹورنامنٹ میں اس کو بڑی اہمیت حاصل ہوتی تھی اور عوام کے جذبات اب گویا کرکٹ کے ساتھ جڑ گئے تھے ایسے میں ایک نام سامنے آ یا اور وہ نام تھا کفیل بھائی آ ف گھوٹکی کا ۔ یہ صاحب بڑے عجیب و غریب دعوے کرتے تھے۔ وہ اپنے نام کے ساتھ لکھتے تھے ’’ لیفٹ آرم رائٹ آ رم سپن باؤ لنگ کا بادشاہ اور یہ سب کچھ پاکستان میں ٹرکوں کے پیچھے لکھا ہوتا
تھا ۔
پاکستان کا ٹرک آرٹ دنیا بھر میں شہرت کا حامل ہے اب تو خیر اس پر کئی پی ایچ ڈی ہو چکی ہیں دنیا بھر کے سفارت خانوں میں اور فارن آ فسز میں پاکستان کے ٹرک ڈیزائن کیے ہوئے ساتھ لے جائے جاتے ہیں بڑے بڑے ٹرک پاکستان سے ڈیزائن ہوتے ہیں اور ان میں مختلف موبائل ریسٹورنٹس بنائے جاتے ہیں مگر یہ اس دور کی بات ہے جب ٹرک آرٹ ایسا قابل توجہ نہ تھا اس وقت اگر کوئی ٹرک کے ذریعے مشہور تھا وہ تھا کفیل بھائی آ ف گھوٹکی ۔ سب ان کو جاننا چاہتے تھے کہ یہ صاحب کون ہیں اور کیا کرتے ہیں ؟ کیا واقعی بہت بڑے کھلاڑی ہیں ؟ اگر یہ اتنا بڑا کھلاڑی ہے تو پاکستان کی کرکٹ ٹیم تک ا س کی رسائی کیوں نہیں ؟ ہمارے ہاں پاکستان میں ایک رواج ہے کہ ہم اکثر اپنی نااہلی کو بھی کبھی کبھی رشوت اور سفارش کی عدم دستیابی اور کبھی کسی اور الزام میں چھپا دیتے ہیں اور یہی حال ہمارے کچھ ان کرکٹرز کا بھی تھا جو یہ سمجھتے تھے کہ شاید ان کو موقع نہیں مل رہا اور وہ کہا کرتے تھے کہ کفیل بھائی جیسا عظیم کھلاڑی بھی گمنامی کی زندگی بسر کر رہا ہے اور مختلف ٹرکوں والے اس کے لیے صدائے احتجا ج بلند کر رہے ہیں لیکن ایسا نہیں تھا ۔یہ راز مجھ پر بھی اس وقت کھلا جب میں ایک فارماسوٹیکل کمپنی سے منسلک ہوا ۔ اس دوران ہم نے پاکستان کے چپے چپے کی خاک چھانی اور اندرون سندھ بھی جانا ہوا ۔ وہاں پر ہمارے ایک دوست جن کا نام زبیر شیخ ہے آج کل بیرون ملک مقیم ہیں ان کا تعلق ویسے تو سکھر سے تھا لیکن وہ ہمیں گھوٹکی لے گئے۔ جب گھوٹکی گئے تو میرے ذہن میں فورا ایک سوال آ یا کہ کیا کفیل بھائی آف گھوٹکی سے ملاقات ہو سکتی ہے ؟ میرا خیال یہ تھا کہ وہ شاید مجھے کسی سٹیڈیم میں لے کے جائیں گے لیکن وہ کسی کرکٹ سٹیڈیم کی بجائے یا کسی سپورٹس کی دکان پر لے کے جائیں گے لیکن اس کی بجائے وہ مجھے لے کر گئے ایک ایسی جگہ پر جہاں آ منے سامنے تین بڑے ٹرک ریسٹورنٹ تھے اور ساتھ ہی ایک پینٹر کی دکان تھی جہاں پر ایک صاحب جو ظاہر ہے چھوٹا قد چہرے پہ مخصوص معصوم سندھی مسکراہٹ سجائے ہم سے ملے اور میں حیران و پریشان رہ گیا جب مجھے زبیر نے یہ بتایا کہ یہ کفیل بھائی ہیں ۔
میرا خیال تھا کہ ٹریک سوٹ ، کرکٹ کٹ اور دیگر لوازمات کے ساتھ ان سے ملاقات ہوگی مگر یہاں جو کفیل بھائی تھے ان کے ہاتھ میں پینٹ سے رنگےبرش ، چہرے پر ایک بڑی معصوم مسکراہٹ تھی ایک دکان کے ساتھ انہوں نے اپنے پینٹ کا کچھ سامان رکھا ہوا تھا ۔ وہ بنیادی طور پر تھوڑی دیر کے لیے رکنے والے ٹرکوں کی معمولی سی مرمت کر دیا کرتے تھے۔ اسی دوران کفیل بھائی نے ان ٹرک ڈرائیوروں کی اجازت سے جو ٹرک کے پیچھے مڈ فلیپ ہوتے ہیں تاکہ کیچڑ نہ اڑے وہاں اپنا نام لکھنا شروع دیا ۔ کچھ تو اجازت دے دیتے وہ اس پر لکھتے اور کچھ ٹرک ڈرائیور ان کی معصومانہ مسکراہٹ ( جس کے بارے میں ابھی تک میرا گمان ہے کہ بچپن میں وہ مکمل طور پر ذہنی نشو نما نہ پا سکے تھے) کی وجہ سےبھی اجازت دے دیتے اور وہ ٹرک کے نمایاں حصوں پر وہ ’’ کفیل بھائی آف گھوٹکی لیفٹ آرم رائٹ آ رم سپن باؤ لنگ کا بادشاہ ‘‘ کے الفاظ لکھ دیا کرتے ہیں اور اس کے بدلے الٹا ٹرک والے انہیں پیسے دیتے یہ پیسے لیتے نہیں تھے یہ البتہ یہ ضرور کرتے تھے کہ ٹرک کا وہ حصہ جہاں تھوڑی بہت پینٹ کی ضرورت ہوتی وہاں پہ پینٹ کر دیا کرتے تھے اور یوں کفیل بھائی کی شہرت کا سفر شروع ہوا پھر یہ شہرت پاکستان کے کالم نگاروں تک گئی۔ نیلام گھر میں طارق عزیز نے ان کے بارے سوال کیا ۔ پی ٹی وی کے پروگرام سٹوڈیو اڑھائی میں بھی ان کا ذکر خیر ہوا اور کفیل بھائی آف گھوٹکی ہم نوجوانوں کے لیے ایک تصوراتی کرکٹر بن گئے ، جو ہمارے لیے عبدالقادر اور شین وارن سے زیادہ بڑے کرکٹر تھے جن کے متعلق ہمارا خیال یہ تھا کہ اگر اس باؤ لر کو ٹیم کے ساتھ لے جایا جائے تو پاکستان دنیا کے اور بھی بہت سارے ٹورنامنٹ جیت سکتا ہے لیکن حقیقت یہ تھی کہ کفیل بھائی آ ف گھوٹکی کی زندگی کے خوبصورت ترین تصورات میں سے ایک تصور یا خواب کرکٹر ہونا تھا اور ایسا کامیاب کرکٹ جو سپن باؤلنگ کا بادشاہ ہو۔
کفیل بھائی یہ خواب اس دور میں دیکھ رہے تھے جب دنیائے کرکٹ پر فاسٹ باؤلرز کا راج تھا اور فاسٹ بالر ہی بادشاہ سمجھے جاتے تھے مگر ان کا یہ خواب بعد ان کی زندگی میں ہی عبدالقادر مرحوم اور شین وارن مرحوم نے پورا کر دیا اور اب کرکٹ کی دنیا میں حقیقی بادشاہت سپن بالرز کی ہے اب میچ جیتنے کے لیے کسی بھی ٹیم میں سپین بالرز کا ہونا بہت ضروری ہے اور وہ کفیل بھائی کا خواب کسی حد تک پورا ہو گیا ۔ کفیل بھائی اس بات سے تو واقف تھے کہ کرکٹ میں بہت شہرت ہے ۔ آپ نے اپنا کرکٹر بننے کا خواب پینٹ اور برش سے پورا کیا اور وہ شہرت حاصل کر لی جو کوئی کرسکتا ہے ۔
وہ جب تک صحت مند رہے اپنے ہاتھ سے لکھ سکتے تھے اپنا خواب ٹرکوں پر لکھتے رہے یہ بات میں کر رہا ہوں 1997 یا 98 کی اس طویل مدت کے دوران وہ معصوم سا چہرہ ہمیشہ میرے ذہنوں میں رہا جب کوئی شخص ان سے بہت زیادہ متاثر نظر آتا تو میں چند پڑھے لکھے لوگوں کو یہ حقیقت بتا دیتا کہ میں ان خوش قسمت لوگوں میں سے ہوں جس کی کفیل بھائی آف گھوٹکی سے ملاقات ہوئی ہے ۔ اس کے بعد خبریں آ تی رہیں کہ وہ بیمار ہو گئے اپنا شہر گھوٹکی بھی چھوڑ کر کراچی منتقل ہو گئے ۔ شاید مقامی لوگوں نے یہ خبر اڑائی کہ کفیل بھائی کا خدانخواستہ انتقال ہو گیا ہے اس وقت میرے پاس اپنی گاڑی نہیں تھی اگر میرے پاس اپنی گاڑی ہوتی تو شاید میں اس معصوم انسان کے ہاتھوں سے اپنی گاڑی کے پیچھے بھی ’’ کفیل بھائی آف گھوٹکی لیفٹ آرم رائٹ آرم بالنگ کا بادشاہ ‘‘ ضرور لکھوا تا ۔ جب میں اپنے کرکٹر دوستوں اور کرکٹ کے کھلاڑیوں کا ذکر کرتا ہوں تو مجھے کفیل بھائی آف گھوٹکی کے یہ خوبصورت الفاظ یاد آتے ہیں جو ٹرکوں پہ آ ہستہ آ ہستہ معدوم ہو گئے یا مجھے نظر نہیں آ تے لیکن اس ذہین آرٹسٹ کو سلام جس نے اس زمانے میں شہرت حاصل کی جب پاکستان میں کوئی یوٹیوبر اور سوشل میڈیا انفلوانسر نہیں تھے میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ دنیا کے پہلے "متحرک آرٹسٹ یا متحرک سوشل میڈیا آرٹسٹ تھے ”
اللہ اس معصوم انسان کے درجات بلند کرے۔ کفیل بھائی اس خوبصورت سی مسکراہٹ کے ساتھ دنیا سے چلے گئے لیکن ان کا ایجاد کردہ یہ لفظ ہمیشہ میری ذہن میں رہیں گے ۔ آج جب اقبال قاسم مرحوم ، عبدالقادر مرحوم اور شین وارن عالم ارواح میں اس معصوم کرکٹر کو دیکھیں گے تو کہیں گے کفیل بھائی آف گھوٹکی ہماری کوئی گوگلی کوئی ڈلیوری ہمیں وہ شہرت نہیں دے سکی جو شہرت آ پ کے ان معصوم ہاتھوں سے آپ کو ملی ۔

