اختصارئےعمران عثمانیکھیل

کورونا:تھوک سے ریورس سوئنگ کرنے والوں کو “تھوک “لگ گئی ۔۔عمران عثمانی

کورونا وائرس نے کرکٹ کی دنیا سے ریورس سوئنگ کو لپیٹ دیا؟اگر ایسا ہے تو کرکٹ کے آرٹ میں اس سے بڑا نقصان نہیں ہوگا کیونکہ پرا نی گیند سے پیسرز کو جو فائدہ ملتا ہے اسکا اثر پورے میچ کی دلچسپی پر یکساں پڑتا ہے .
ریورس سوئنگ کے لئے گیند کو ایک خاص انداز سے رگڑا جاتا ہے جس سے ایک سائیڈ چمکدار اور دوسری رف ہوجاتی ہے. پیسرز پر انی گیند کو ان سوئنگ یاآئوٹ سوئنگ میں حیران کن انداز میں بدل کر ناقابل یقین کامیابی اپنے نام کرتے ہیں. کورونا وائرس کی وجہ سے اس وقت کرکٹ معطل ہے لیکن یہ جب بھی شروع ہوگی کورونا کے اثرات خطرات بدستور موجود ہونگے.
عام حالات میں گیند کو شائن کرنے کے لئے تھوک کا استعمال ہوتا ہے. کورونا کی وجہ سے اب تھوک لگانے پر پابندی لگ سکتی ہے. آسٹریلیا یونیورسٹی کے سینیئر پروفیسر نے خبردار کیا ہے کہ گیند پر تھوک لگانے سے کورونا کا خطرہ رہے گا کیونکہ گیند کو گرائونڈ میں موجود ہر کھلاڑی و آفیشل نے پکڑنا ہے اور ایسا عمل کسی کے لئے بھی خطرہ بن جائےگا.
میلبورن یونیورسٹی میں بریڈ بوری کہتے ہیں کہ ہر ٹیم کا ایک کرکٹر پورے میچ میں گیند پر تھوک لگاتا ہے لیکن یہ آئندہ نہیں ہوگا کیونکہ میں یہ تجویز دوں گا کہ گیند پر تھوک لگانے کی پابندی عائد کی جائے. اس سے کورونا وائرس پھیل سکتا ہے. اس کے اثرات تھوک میں بھی ہوتے ہیں. انٹر نیشنل کرکٹ کونسل نے اگر پابندی عائد کردی تو یہ کرکٹ پیسرز کے لئے نہایت ہی نقصان دہ ہوگا. کرکٹ کی دنیا کو یہ راز پاکستانی بائولرز نے دیا .مخالف ٹیمیں ایک وقت تک اسے بال ٹیمپرنگ کہتی رہیں لیکن جب انہیں سمجھ آئی تو ریورس سوئنگ کا نام دیا گیا.

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker