پاک فوج کوئی عام فوج یا ادارہ نہیں ، یہ ایک بانڈ ہے ایک گلیو ہے ایک گوند ہے جس نے پاکستان کو جوڑ رکھا ہے۔۔یہ الفاظ ہیں معروف بھارتی تجزیہ کار میجر گورو آریا کے ، میجر صاحب پاکستان کے شدید دشمن ہیں اور اس سوچ کے ترجمان ہیں کہ پاکستان کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں اور کرکٹ سمیت کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہیے۔ میں انہیں اکثر سنتا ہوں کیونکہ بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ بیوقوف دوست سے عقل مند دشمن بہتر ہوتا ہے اور میجر صاحب ایک عقل مند دشمن ہیں۔
وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو کام ہم پچھتر سال میں اربوں روپے خرچ کر کے نہیں کر سکے وہ عمران خان نے ایک سال میں کر دکھایا ، انہوں نے عوام اور فوج کے درمیان دراڑ ڈال دی اور فوج کے اندر بھی دراڑیں ڈال دیں۔
دراڑ سے یاد آیا کہ سن 2003 تھا ، جناب احمد فراز حضرت بہاء الدین زکریا کے عرس کے سلسلے میں ہونے والا نعتیہ مشاعرہ پڑھنے ملتان آئے ہوئے تھے اور ہوٹل ہالیڈے ان (موجودہ رمادہ) میں ٹھہرے ہوئے تھے اور ہم ان کا پینل انٹرویو کرنے وہاں گئے تھے ، برادر م شاکر حسین شاکر، رضی الدین رضی ، قمر رضا شہزاد، حامد رضا اور یہ فقیر ۔ فراز صاحب بستر میں نیم دراز تھے ،ہم نے سلام کیا ہاتھ ملائے ، اس دوران رضی بھائی کے اشارے پر کیمرہ مین عقیل چوہدری نے اپنا کیمرہ سٹینڈ پر فٹ کرنا شروع کیا، فراز صاحب اٹھ کر بیٹھ گئے اور بولے
”یہ کیا کر رہے ہو بھائی مجھے صوفے پہ بیٹھنے دو لوگ کیا کہیں گے فراز صاحب بیڈ میں اکیلے ہیں“
سب ہنس پڑے ، پھر انہوں نے کہا
آپ کے لیے چائے منگواؤ ں یا آپ کہیں گے ہم پی کر آئے ہیں بلکہ کہیں گے کہ ہم تو روز پیتے ہیں
رضی نے ایک شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ کہا
فراز صاحب ہم کہاں پیتے ہیں روز تو آپ پیتے ہیں
ایک اور قہقہہ پڑا
پینے سے یاد آیا کہ 1999 میں جب میں ضلع کونسل ڈیرہ غازی خان کا ممبر بلکہ وزیر صحت تھا ان دنوں ضلع کونسل نے مشاعرہ کرایا تھا اور مشاعرے سے پہلے فراز صاحب کے پینے کے لیے ولایتی کی تلاش شروع ہوئی تو اس میں حسب توفیق میں نے بھی حصہ لیا تھا۔
خیر انٹرویو مکمل ہوا ، اس کے بعد میں نے بحیثیت شوفر فراز صاحب کو اپنی گاڑی پہ قلعے پر مشاعرہ پنڈال میں چھوڑنا تھا۔ راستے میں شعر و ادب کی بجائے سیاسی گفتگو ہونے لگی ،انہی دنوں جنرل پرویز مشرف کے خلاف اسلام آباد کی دیواروں پہ پوسٹر لگے تھے اور بعض صحافی دوست کہہ رہے تھے کہ یہ اندر کے لوگوں کا کام ہے اور فوج میں دراڑ ہے۔ میں نے فراز صاحب سے پوچھا کیا یہ درست ہے تو انہوں نے ایک میٹر آف فیکٹ لہجے میں کہا
ایسا نہیں ہو سکتا ، کیونکہ جس دن فوج میں رفٹ آئی پاکستان ٹوٹ جائے گا۔
گزشتہ سال میں اپنے نزدیکی کنٹونمنٹ میں ایک ڈنر میں شریک تھا ، ایک اعلیٰ افسر میرے ساتھ کھڑے شمالی علاقہ جات کی ہائیکنگ اور ٹریکنگ اور میری کتابوں کے حوالے سے گفتگو کر رہے تھے ، میں نے فراز صاحب کا کوئی شعر پڑھ دیا ، انہوں نے کہا ان کی فراز صاحب سے ایک ملاقات ہے ۔۔ تو میں نے کہا سر فراز صاحب سے یاد آیا اور میں نے وہی فوج میں رفٹ والا واقعہ سنا دیا ، وہ چونک کر بولے اس بات کا یہاں کیا relevance ہے ، میں نے کہا ایک پاکستانی شہری ہونے کی حیثیت سے آرمی چیف اور کور کمانڈر بہاولپور کے حوالے سے فوج میں تقسیم کی خبروں سے مجھے بھی تشویش ہے
انہوں نے کہا
نہیں ایسا نہیں ہو سکتا
پھر وہ ایکسکیوز می کہہ کر پلیٹ ہاتھ میں لیے ایک اور مہمان کی طرف بڑھے، جاتے جاتے مڑے اور بولے
اور ہو بھی سکتا ہے
لیکن تھینکس ٹو عمران خان نو مئی کے بعد ممکن نہیں کہ فوج میں کوئی دراڑ یا rift بچی ہو۔
آخر میں یہ گزارش ضرور کروں گا کہ جب آپ کے پاس بانڈ گلیو یا گوند کا کردار آ ہی گیا ہے تو اسے ہر حال میں نبھائیں ضرور ۔۔۔ سب کو جوڑ کر رکھیے ، صوبوں کو قومیتوں کو لسانی اکائیوں کو اور طبقات کو ۔۔
فیس بک کمینٹ

