رخسانہ سمنکالملکھاری

رخسانہ سمن کا کالم : اب اتنی بات پہ کیا زندگی حرام کریں

بھئی یہ شاعر اور لکھاری بھی عجیب ہوتے ہیں جب تک کوئی کیفیت طاری نہ ہو کچھ لکھ ہی نہیں سکتے۔ کوئی نہ کوئی واقعہ جو یا تو دل کو خوش کر دے یا مغموم تبھی کچھ لکھا جا سکتا ہے، کالم نگار بھی کیوں کہ چھوٹا موٹا لکھاری ہوتا ہے لہٰذا اس کے لیے ضروری ہے کہ خیالات کو مہمیز کرنے والا کوئی ایسا واقعہ رونما ہو جو اسے غصہ دلا دے اور غصہ بھی اتنا کہ بلڈ پریشر ہائی ہو جائے،اسی صورت میں وہ کچھ لکھ سکتا ہے اب جتنا زیادہ بلڈ پریشر ہائی ہو گا اتنا ہی اچھا کالم لکھا جائے گا ۔
یہ بات ہماری ایک ملنے والی نے آج ہی ہمارے گوش گزار کی ہے ۔اس وقت سے ہم اپنا جائزہ لے رہے ہیں کہ کیا واقعی ایسا ہے اگر باقی کالم نگار خواتین و حضرات کو دیکھوں یعنی ان کے کالم دیکھوں تو کیا واقعی وہ بی بی سچ کہہ رہی تھیں؟ یہ سوال بڑا مشکل ہے لیکن اپنے حوالے سے ہم ایک بات آپ کو کہہ سکتے ہیں کہ جب ہم نے اپنا جائزہ لیا تو ہمیں تو یہ بات اپنے اوپر فٹ بیٹھتی نظر آئی، یہاں فٹ کے ف کے نیچے زیر لگا لیجیے گا۔ چند روز سے الحمد للہ ہمارا بلڈ پریشر بالکل ٹھیک چل رہا ہے لہٰذا ہم نے کوئی کالم نہیں لکھا اور فی الحال لکھنے کا ارادہ بھی نہیں۔ یوں ہی دل چاہا کہ آج اپنے قارئین سے ہلکی پھلکی گپ شپ کی جائے میرا تھوڑا سا حلقہ جو قارئین کا ہے وہ اسے عید کا تحفہ سمجھ سکتے ہیں۔ نہ بھی سمجھیں تو کوئی ایسی زور زبردستی نہیں ۔ خیر کالم نگاروں کے بلند فشارِ خون کی بات ہو رہی تھی جسے کالم کی بلند قامتی سے متشابہ کہا گیا۔ آفرین ان قارئین پر جو کالم پڑھ کر اپنا فشارِ خون بلند کر لیتے ہیں اور پھر بحثا بحثی میں شامل ہو کر اپنے آس پاس والوں کو بھی اس دائمی مرض کا شکار بناتے نظر آتے ہیں ۔
اخبار بذات خود ایک عجیب الخلقت چیز ہے، جہاں سے آپ کو ہمیشہ کڑوی کسیلی گولی ملے گی اب تو میٹھے سیرپ کو ترستی نظر آتی ہے اخباری دنیا۔ اخبارات والے ٹی وی نیوز چینلز والے بری سے بری خبر کی تلاش میں سرگرداں نظر آتے ہی‌ بے چاروں کا حال یہ ہو چکا ہے سفید سیاہ نظر آتا ہے اور سیاہ کالا شوش، اب کچھ لوگ جو سرائیکی سے بے بہرہ ہیں وہ شوش کا مطلب کسی سرائیکی سپیکنگ سے پوچھ لیں کیوں کہ مجھے شُوش کی اردو نہیں آ رہی بس یوں سمجھ لیں کہ کالا شوش کالے کی سپر لیٹو ڈگری ہے. اردو میں تفضیل کل کہیں گے۔ اب یہاں ک پر پیش ڈالیں گے تو بات بنے گی۔ خیر اب جو عوام دیکھنا چاہے گی اسے وہی دکھایا جائے گا جو عوام پڑھنا چاہے گی اسے وہی پڑھایا جائے گا اب اس میں اخبارات اور نیوز چینل کا کوئی دوش نہیں سب کار رستانی عوام ہی کی ہے، ہمیں ایک خاتون نے آئینہ دکھایا کہ بی بی بہت بلڈ پریشر ہائی ہو تو کالم اچھا لکھا جاتا ہے۔ تو ہم نے آج اچھے موڈ میں آپ سے باتیں کر لیں کالم کسی اور دن لکھ لیں گے۔
آج کسی نے ناصر کاظمی کا اک شعر پوسٹ کیا ہوا تھا ہمیں اتنا اچھا لگا کہ ہم نے وٹس ایپ سٹیٹس لگایا اور فیس بک پر سٹوری ڈال دی۔ بھئی دنیا کو اب ناصر کاظمی کی بات سمجھ جانی چاہیے کہ
جدا ہوئے ہیں بہت لوگ ایک تم بھی سہی
اب اتنی بات پہ کیا زندگی حرام کریں
بات تو بڑی اچھی ہے اور پلے باندھنے والی ہے اگر کوئی سمجھے تو کہ کالم نگار کی بات کوئی حرف آخر نہیں ہوتی کہ اچھا بھلا بندہ اپنی زندگی حرام کر لے۔ زندگی کو زندگی سمجھنے والے ہر چیز کو سیریس نہیں لیتے جو اخبار کہتے ہیں جو نیوز چینل کہتے ہیں بس یوں سمجھیں کہ دس فیصد کو سو فیصد کر کے نیوز بنائی جاتی ہے. اس لیے پر سکون رہا کریں اور سوچا کریں کہ اب اتنی بات پہ کیا زندگی حرام کریں۔ یہی رویہ معاملات میں بھی اپنایا جا سکتا ہے، جو چھوٹی چھوٹی غلطیاں ہمارے ساتھیوں کی بچوں کی دوستوں کی ہمارا بلڈ پریشر بڑھانے کا باعث بنیں اسے بھی نارمل لیا جا سکتا ہے یہ کہہ کر کہ اب اتنی بات پہ کیا زندگی حرام کریں. ہم اگر غور کریں جو عدم برداشت ہم میں پیدا ہو چکی ہے یہ چھوٹا سا اصول اپنا لیں تو زندگی بڑی خوش گوار ہو سکتی ہے کیوں نہ ہر ناگوار بات پر یہی کہا کریں کہ
اب اتنی بات پہ کیا زندگی حرام کریں

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker