صائمہ نورین بخاریلکھاریمزاح

سنا ہے دن میں اسے مکھیاں ستاتی ہیں ۔۔صائمہ نورین بخاری

ا گر آپ عین رات کے کھانے کے وقت ٹی وی چینلز پر  نظر ڈالنے کے عادی ہیں تو اس اذیت سے بھی واقف ہوں گے جو کراچی کا” کچرا نامہ ” دیکھنے کے بعد  طبیعت میں بپا ہوتی ہے ۔۔۔میرا خیال ہے کہ ہم جیسے تمام بے کار قسم اہل ادب جو سوائے ایک دوسرے سے  جلنے کے ۔۔۔۔کچھ نہیں کرسکتے ۔۔انہیں گریہ و نالہ کئیے بغیر کراچی کے نالوں میں اپنی تمام تر کتابیں پھینک دینی چاہئیں کیوں کہ جب نفاست کا مزاج ہی قوم نہ پیدا کرسکے تو کیا فائدہ ایسی ادبی لطافت کا ۔۔۔صاحبو۔۔۔مجھے تو یوں لگتا ہے کہ  آہستہ آہستہ ہماری عوام ۔۔۔اور ملک عزیز کے تقریباً تمام شہر کراچی جیسی صورت حال اور مزاج میں ڈھلنے والے ہیں ۔۔۔کچروں پر کھڑے ہوکر فوٹو گرافی و سیلفی کی روایت جدید سے لے کر ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کی روایت قدیم میں اب ہمارا کوئی ثانی نہیں رہا ۔۔۔”کبھی کبھی میرے من میں خیال آتا ہے “کہ اگر ناصر کاظمی ۔۔ہجرت کے کرب کے ساتھ موجودہ کراچی میں ہوتے تو شاید غزل کا انداز یوں ہوتا۔۔۔


چور نے نقب لگایا ہوگا۔۔۔۔۔ڈاکو نے گھر لوٹا ہوگا
آنگن میں پھر مکھیاں اتریں ۔۔۔۔تو اب سو کر اٹھا ہوگا
کالےاور پیلے پانی سے ۔۔۔۔میلا سا منہ دھویا ہوگا
اپنے سڑے ہوئے ہاتھوں سے۔۔۔منہ پہ پو ڈر ملتا ہوگا۔۔۔
پان کا ٹکڑا منہ میں دبا کر ۔۔۔۔۔تُو اب گھر سے نکلا ہوگا
بلی جیسی شکل بنا کر ۔۔۔۔۔بس رستے کو تکتا ہوگا
شہر کے بھرے ہوئے نالے میں ۔۔۔۔۔اک بھنگی تو اترا ہوگا
میرا ساتھی سوئپر تارا۔۔۔۔تجھ سے آنکھ ملاتا ہوگا
کسی کے چلتے ہاتھ نے تیرا۔۔۔خالی پرس چرایا ہوگا
شہر کی گندی سڑک نے تجھ کو ۔۔۔۔اپنا دکھ بھی  سنایا ہوگا
گہری میلی خاموشی میں ۔۔۔ڈینگی  کی دھن سنتا ہوگا
شام ہوئی اب تو بھی شاید۔۔۔اپنے گند میں لوٹا ہوگا
کم بخت تیرا مئیر سیانا۔۔۔۔تجھ پر لعنت کہتا ہوگا
ووٹر تیرا شہر پرانا۔۔۔تجھ کو یاد تو آتا ہوگا


لیجیے ن م راشد بھی یہ کہتے ہوئے کراچی  میں آگئے ۔
گندگی پھیلاتے ہو۔۔۔۔۔گندگی سے ڈرتے ہو
گندگی ہے وابستہ گندگی کے دامن سے ۔۔۔۔گندگی تو تم بھی ہو
گندگی تو ہم بھی ہیں ۔۔۔گندگی پھیلاتے ہو ۔۔۔۔گندگی سے ڈرتے ہو۔۔۔۔۔“
اوراحمد فراز کا انداز سخن گلشن اقبال ۔۔ناظم آباد شادمان  اور ساحل سمندر سے ہوکر آنے والے صرف  ایک ہوا کے جھونکے میں بدل گیا۔۔۔وہ منظر سوچ  کر گویا ہوئے
سنا ہے دن کو اسے مکھیاں ستاتی ہیں
سناہے رات کو مچھر ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے کچرے سے بے حال ہے گلی اس کی
جو سادہ دل ہیں اسے ناک بھر کے دیکھتے ہیں
رکے تو نالیاں اس کا طواف کرتی ہیں
چلے تو کھالے بھی اس کو ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے ربط ہے اس کا ان بجلی والوں
یہ بات ہے تو چلو بات کرکے دیکھتے ہیں ”
باقی شعرا کرام کی ارواح سے پھر ملیں گے ۔۔فی الحال تو ہم روہی نیٹ ورک پر جنوبی پنجاب کی گندی گلیوں ۔۔ٹوٹی ہوئی سڑکوں پر مشتمل پرانے اور نئے پاکستان کی  ایک شاندار کوریج ملاحظہ کررہے ہیں ۔۔اور عوام کتنی عظیم ہے وطن کی ایسی ”خوشبو “کو دانت نکال کر محسوس کررہی ہے۔۔۔الوداع بلدیاتی نظام ۔۔الوداع ۔۔۔خدا ہی حافظ

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker