صائمہ نورین بخاریکالملکھاریمزاح

صائمہ نورین بخاری کا کالم : 2021 ء کا کفارہ اور قوالی کا کباڑہ

قوالی برصغیر کی موسیقی کی ابتدا ہے ، شاعری سر تان اور تال کا تال میل ہے ،اس کے کچھ اصول ہیں سر اور تال کی ہم آہنگی ، دھیمی تیز اونچی تال اور تان پر قوال کی ریاضت کا امتحان ہوتا ہے اور بے وقت کی راگنی منع ہوتی ہے ۔
ایک قوالی جو لفظوں کے ہیر پھیر اور سر تال کی وجہ سے اب شادی بیاہ کے فنکشنوں میں بڑے زور شور سے سنی جارہی ہے اور جب بول کفارہ کیا ہوگا استھائی پر پہنچ قوال حاضرین محفل سے توبہ کرواتے ہوئے کفارے کی سوچ پر مجبور کرتے ہیں تو سب کی مجذوبانہ کیفیت دیدنی ہوتی ہے ۔تھاپ پر سب سے اعتراف جرم کے بعد توبہ بھی کروائی جاتی ہے کہ میرے دل کی دل سے توبہ
دل سے توبہ میرے دل کی ۔۔۔دل کی
توبہ اے دل ۔ اب پیار دوبارہ نہ ہوگا ۔تو بول کفارہ ۔۔۔۔کفارہ بول نہ یارا کیا ہوگا ؟ ۔اور سب کفارہ دینے کی تلاش میں نکل جاتے ہیں ۔
۔اسی قوالی کی محفل کورونا فری ماحول میں ایس او پیزسے بے نیاز جاری تھی ۔بغیر ماسک کے قوالوں پر ہزاروں نوٹ نچھاور کرنے والوں میں ایک ماسک والے مجذوب سے انکل نما شاعر جو خود ہی گائیک خود موسیقار خود ہی صنعت خود ہی حرفت سب کچھ خود ہی خود کا مرحوم سا پیکج تھے اب سماع والوں پر باقاعدہ سماع خراشی کر رہے تھے ”کان پڑے بس یہ سنائی دے رہا تھا کہ موصوف گا رہے ہوں ۔دل غلطی کر بیٹھا ۔۔غلطی کر بیٹھا ہے دل
اب بول کفارا
او یارا بول نہ یارا
اب اور کباڑا کیا ہوگا
تمہیں ہم سے بڑھ کر دنیا
؛دنیا تمہیں ہم سے بڑھ کر ۔
۔۔اب اور گزارا نہ ہوگا۔
دھرنا دھرنا کر کے تیرے ملن کے دیپ جلائے تھے ۔۔۔
ہاں صرف تمہیں ہی ووٹ دیا کانٹوں کو گلے کا ہار کیا
تم جیت گئے ہم ہارے
ہم ہار گئے تم جیتے ۔۔
میرے دل کی دل سے توبہ
۔توبہ میرے دل کی دل سے
پھر موصوف باقاعدہ رو رو کر توبہ مانگنے لگے ۔۔کیا تحریف کررہے ہیں ۔کیا اضافت فرمارہے ہیں ۔کچھ سمجھ نہ آیا مگر ہم یہ دیکھا کیے کہ مرغی انڈے بھینسے گائیں بکرےبکریوں کے شاندار کاروبار سے وابستہ نوجوانوں کی ٹولیاں اپنی دھن میں رقصاں ، توبہ میں مصروف تھیں ۔اچانک ایک کانگڑی پہلوان سا نوجوان اضطرابی کیفیت میں بڑبڑاتے ہوئے توبہ کرنے والے گروہ کی جانب بڑھا ۔۔۔۔۔”ٹیکینکل سی قوالی ہے بابا آئی ایم امپریسڈ ۔ان کے انگلش میڈیم بیٹے نے بابا کے” ڈپریسڈ ایکس پریشنز “پر عجیب سا منہ بنا کر قوالی کی دم توڑتی ہوئی ردھم پر جھومنا شروع کردیا ۔اور جعلی نوٹ لٹانے والوں کی ٹیم میں شامل ہوکر خود کو دیالو لنگروی ثابت کرنے لگے ۔شاعر صاحب کی رام پوری بیگم نے شوہر اور بیٹے کی حالت زار دیکھتے ہوئے ساتھی خواتین سے شکایت کی ۔کم بخت کرونا نے بچے بے کار کردیئےجوان جہان انٹر نیٹ کے ہوگئے سب کے سب ۔ماشااللہ سے ۔
۔نہ ماں جی کے رہےنہ بھائی جی پب جی کے ہوگئے ماشااللہ سے
یہ کہہ کر موصوفہ بھی قوالی پر جھومنے لگیں کہ مردوں سے کم نہیں ہیں ہم بھی ماشااللہ سے ان کے ساتھ ساتھ ۔محفل میں موجود سب خواتین نے وجد میں آکر اپنی بے خودی ثابت کردی کہ پوسٹ کور ونا کے حالات عجب نفسیاتی ہیں ۔قوال کے ہم نواوں نے طبلے کی تھاپ پر تالیاں بجانا شروع کردیں سر تال اور لے نے توبہ توبہ کی فضا میں توبہ کی ایک دکھی سی روحانی کیفیت پیدا کردی سب مردوزن جھومنے لگے۔اب اصل قوال گانے لگے ۔عاصم رضا کی لکھی ہوئی قوالی میں شہباز فیاض قوال کی ریاضت نے اثر دکھاناشروع کردیا۔۔
کبھی غلام صابری اور عابدہ پروین کی قوالیوں کافیوں پر سر دھنتے لوگ وجدمیں چلے جاتے تھے ”گھوم چرخڑا چرخڑا ۔۔۔تیری کتن والی جیوے گھومتے گھومتے آسمان و زمین ایک ہوجاتے تھے ۔بھردو جھولی ۔۔بھردو جھولی کہتے کہتے دھیمے سروں میں جھولیاں بھر جاتی تھیں ۔یہاں پر بھی اکیسویں صدی کا جدید وجد تھا ۔ہال پر بے حال سی کیفیت تھی مگر مجذوب بے خود رام پوری شاعر صاحب کی حالت غلط ویکسین لگوانے کے اثرات جیسی تھی۔محفل میں موجود ایک نیوز اینکر نے عادت سے مجبور ہوکر ان بیگم سے سوالات و جوابات اور بات بات پر بات کاٹنے کا سلسلہ شروع کیا ۔دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ موصوف و مجذوب پچیس کتابوں کے مصنف ہیں ۔اور خوش رہو اپنے خرچے پر کا نعرہ لگاتے ہوئے سب کو کتابیں چھاپ کر مفت میں بانٹتے رہےکسی ادبی ایوارڈ کی امید تھی مگر تبدیلی کے ساتھ امید تبدیل کربیٹھے اب لوگ کتابیں ہی نہیں انڈے مرغیاں بھی فری میں مانگتے ہیں ۔تواب کیا کریں ایک مرتبہ کووڈ ایک آدھ دفعہ ڈینگی سے بچے ہیں ماشااللہ سے مگر کچھ باولےسے ہوگئے ہیں گے ۔کورونا اور مہنگائی کے باوجود 2020 میں زندہ بچ کر 2021 میں داخل ہونے والے خوش نصیبوں کو پیشگی مبارکبادایسے ہی روتے ہنستے ہوئے سے دیتے ہیں ۔
خیر سب خیر خواہوں نے نیوز اینکر کی بدولت انہیں تسلی دی نئے سال آدھی قوم کے بعد ہوسکتا ہے ساری قوم کو ۔۔صبح شام لنگر سے کھانا ملا کرے گا۔لہذا فکر نہ کریں کوئی بھوکا نہیں سوئے گا سب جاگتے رہیں گے لنگر کے انتظار میں ۔جب سب جاگتے رہیں گے تو پولیس سے بھی بچ جائیں گے اور ڈاکووں سے بھی
اور سمجھ جائیے کہ حکومت اور تجارت ہر کسی کے بس کا روگ نہیں ایک غریب طالب علم کی آن لائن ٹیکسی نہ چلی تو کیا ہوا امیر کی ائیرلائن بھی نہیں چلی، اسٹیل مل نہیں چلی تو کیا ہوا ۔گھبراتے کیوں ۔
ریلوےبھی تو نہیں چلی اگر زندگی کی گاڑی چل رہی ہےتوشکر کریں لاک ڈاون نے جینے کے خوف سے بھی نجات دلوادی مرنا تو پہلے اچھا نہ تھا ۔خیر سے
تاریخ گواہ ہے جب سے تبدیلی آئی ہے زور وزر والے ہسپتال داخل ہیں ۔پیزے کھانے لندن دوائی لینے گئے تھے تاحال نہیں آئے۔جن کے پیزوں کی دکانیں سامنے آئیں تھیں وہ نوکری چھوڑ کر کفارہ دے چکے ۔کچھ نیکو کار پٹرول ڈیزل والے بلو بھائی اور نانی جان کے ساتھ گھوم پھر رہے ہیں ۔۔ایک دوسرے کو لاہور ، راولپنڈی، لاڑکانہ کی سڑکوں میں گھسیٹنے والے بھائی بھائی بن گئےہیں ۔۔بنکوں نے سود لینا دینا چھوڑ دیا ہے ۔آٹا چینی خود ہی گھوم پھر کر ذخیرہ ہوجاتے ہیں بگڑی ہوئی ممی ڈیڈی مخلوق منی لانڈرنگ والے شاپنگ مالز پر سیل کا انتظار محبوب سے بڑھ کر کرتے ہیں یہ سب کرشمے کارل مارکس کے داداابا یڈم اسمتھ نے بھی نہ سوچے ہوں گے ۔۔۔سمجھے یا نہیں
سال گزشتہ کے ڈوبتے سورج کی افسردہ کرن اور جنوری کی ٹھٹھرتی شام میں ٹھنڈے چولہے وہی ریاست نابینا والا پولیس کا انداز محافظت وہی ہر ڈھائی تین سال بعد سبز باغ دکھانے والوں کے اکٹھ ۔سب مل کر گا رہے ہیں تو بول کفارہ کیا ہوگا ۔اب اور کباڑا کیا ہوگا “ایک غلط بنیاد ڈالی جاتی نقشے پاس کروائے جاتے ہیں عمارت بنائی جاتی ہے ۔تقرری کی جاتی ہے ۔نوکری دی جاتی ۔امتحان ہوتا ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے ۔۔۔ناجائزتعمیرات کے ضمن میں عمارت گرا دی جاتی ہے تقرریاں کالعدم قرار دی جاتی ہیں ایک قربانی کا بکرا مل جاتاہے جس پر سب ملبہ ڈال کر ریکارڈ جلادئیے جاتے ہیں ہر ڈھائی سال بعد نئی حکومت پرانی قرار دی جاتی ہےہیں خیر2019 اور 2020 کی طرح 2021 بھی ترقی اور خوشحالی کا سال ہوگا،ڈالر مزید سستا ہوگا، مہنگائی اور بھی کم ہوگی،بیرون ملک سے مزید اور لوگ روزگار کی تلاش میں پاکستان آئیں گے، 360ڈیم کے علاوہ مزید اور ڈیم بھی تعمیر کئے جائیں گے سڑکوں پر لوگ کچرا نہیں سجائیں گے بلکہ ندی نالوں بلکہ سمندر میں بہائیں گے ۔آسمان پر لاکھوں کی آتش بازی ہوگی اور شاہراہوں پر ٹریفک سگنلز نہیں ہوں گے معیشت کا پہیہ ترقی معکوس کی رفتار سے چلتا رہے گا۔مہنگائی کے وار جاری رہیں گے بس صبر” کاون فیل “درکار ہوگا ۔آپ سب بھی قائد وقت ۔۔۔شہنشاہ سبز باغ صاحب کا متوقع بیان سوچ کر خوش ہوجائیے اورتسکین دل کی خاطر جھوم جھوم کر گائیے اب اور کفارہ کیا ہوگا تو بول نا یارا
کباڑا کیا ہوگا۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker