رضی الدین رضیکالملکھاری

رضی الدین رضی کا کالم : طاہر اوپل سے پروفیسر عابد عمیق تک ۔۔ سال 2021 کے دکھوں کا گوشوارہ

جیون کے اس سفر میں ہمیں کبھی یہ گمان نہیں ہوتا کہ نئے سال کے آغاز میں جو لوگ ہمارے ساتھ زندگی کی خوبصورتیاں دیکھ رہے ہیں اگلے برس وہ ہمارے درمیان ہوں گے یا نہیں اور اگرہوں گے تو کیا ان کے لیے زندگی آنے والے برسوں میں بھی ویسی ہی خوبصورت ہوگی ؟
ہم ہرسال جانے والے برس اور اس برس کے ساتھ رخصت ہونے والوں کا نوحہ لکھتے ہیں اور نئے سال کا اس کے باوجود مسکراتے ہوئے استقبال کرتے ہیں کہ زندگی دکھوں اور خوشیوں کے اسی امتزاج کا نام ہے۔
مجھے یاد ہے کہ2021 میں دسمبر کے آخری ہفتے کے دوران جن دوستوں نے مجھ سے مکالمہ کیاتھا اور پھر نئے سال کے طلوع پرمجھے مبارکباد دی تھی ان میں پہلا نام فرتاش سید کاتھا۔نعیم الحسن ببلوبھی گاہے گاہے ان دنوں میرے ساتھ رابطے میں رہے ۔کبھی عرش صدیقی صاحب کی نظم ”اسے کہنا دسمبرآگیاہے“ کے حوالے سے اور کبھی نئے سال کی نظموں کے تناظرمیں ۔اپنے چچازادبھائی طاہر اوپل،میاں چنوں سے تعلق رکھنے والے خوبصورت شاعر مظہربخاری اور معروف نعت گو شاعررہبر صمدانی کاتو میں نے گمان بھی نہیں کیاتھا کہ وہ اگلے برس کے اوائل میں ہی داغ مفارقت دے جائیں گے۔ اسی طرح مسعوداشعر صاحب کے کالم میں تواتر کے ساتھ گردوپیش میں شائع کررہاتھا۔ہرسال کی طرح 2021ءبھی کئی دکھوں کے ہمراہ طلوع ہواجیسے 2020ءہمیں رانا اعجاز محمود کی جدائی کادکھ دے کر گیاتھا ۔اسی طرح 2021ءکے دامن میں بھی بچھڑجانے والوں کی طویل فہرست موجودہے لیکن یہاں میں صرف اپنے حلقہ احباب کاذکرکررہاہوں۔صرف خاندان کے لوگوں پر ہی نظرڈالیں تو ان میں طاہر اوپل کے علاوہ اس کی والدہ(میری چچی جان)،طاہر کے بہنوئی وزیرعباس سہوجو اس کے چہلم پرمجھے یہ کہہ کرگئے تھے کہ” اب طاہر کے بچوں کاخیال آپ نے رکھنا ہے“ اورمجھے ان کے اس جملے کی اس وقت سمجھ نہیں آئی تھی۔ کراچی میں مقیم میرے چچا ظفراحمد اوپل اور بہاولپور میں رہنے والی میری خالہ صاحبہ شامل ہیں۔ یہ سب وہ ہستیاں ہیں جن کے ساتھ میرے بچپن اورلڑکپن کی بہت سی یادیں بھی وابستہ ہیں۔ایسی ہی ایک ہستی پیپلزپارٹی کے بنیادی رکن احسان الحق مغل صاحب کی بھی تھی جو پانچ جون کوہم سے جدا ہوئے۔ وہ میرے کلاس فیلو ظفر اقبال مغل کے والد تھے۔دکھوں کاآغاز جنوری سے ہوا اور 7جنوری کو مظہر بخاری اچانک چلے گئے۔ 9فروری کو چچی صاحبہ،12فروری کوچچا ظفر اور 25فروری کو طاہر اوپل کو بلاواآگیا۔16فروری معروف شاعر حمید عاکف اور17فروری نامورسرائیکی دانشور ارشاد تونسوی کی جدائی کی خبر لائے۔20فروری رہبر صمدانی کی رخصتی کادن تھا۔ 12اپریل کو آئی اے رحمان اور18اپریل کو فرتاش سید کے انتقال کی خبر ملی۔ فرتاش کا تو ہم نے گمان بھی نہیں کیاتھا کہ وہ طاہر اور رہبرکی طرح لمحوں میں ہاتھ سے نکل جائے گا۔26اپریل کو نوازش علی ندیم کی جواں سال صاحبزادی کینسر کے خلاف طویل جنگ ہار گئیں۔ عبدالغفارنقشبندی صاحب 3مئی کو رخصت ہوئے توملتان عالمی شہرت یافتہ قاری سے محروم ہوگیا۔نعیم الحسن ببلومجھے ہرہفتے ادبی بیٹھک کے باہر ملتے تھے۔وہ آرٹس کونسل میں باقاعدگی کے ساتھ موسیقی کی کلاس لینے آتے تھے اور میں ادبی بیٹھک کے باہر دوستوں کامنتظر ہوتاتھا۔6جون کے بعد نعیم الحسن ببلو کے ساتھ ملاقات کا امکان بھی ختم ہوگیا۔جنرل ضیاءالحق کے عتاب کانشانہ بننے والے مسعوداشعرنے اپنی رخصتی کے لیے بھی 5جولائی کادن ہی منتخب کیا۔21جولائی عارف نظامی اور 25جولائی حبیب جالب کے بھائی اور معروف کالم نگار سعید پرویز کی رخصتی کی خبر لائے۔25جولائی کوہی بورے والا میں پنجابی کے معروف شاعر محمودغزنی رخصت ہوگئے۔اے پی پی ملتان کے سابق سٹیشن منیجراورایگزیکٹو ڈائریکٹر غنی چوہدری 26اگست کوطویل علالت کے بعد انتقال کرگئے۔9ستمبر کو وزیرعباس سہو اور29ستمبر کو خوبصورت شاعر اور استاد فہیم اصغر چلے گئے۔معروف کالم نگار اورماہر تعلیم اجمل نیازی18اکتوبر ،معروف نظم گو شاعر ابرار احمد 29اکتوبر کو اپنے چاہنے والوں کو اداس کرگئے۔ سرائیکی دانشور محمودنظامی نے 10نومبر کوآخری قہقہہ لگایا اور نامور اداکار سہیل اصغر 13نومبر کو اپنے چاہنے والوں کو اداس کرگئے۔اسی طرح نومبر میں ہی مختلف اداروں سے ڈاﺅن سائزنگ کاشکارہونے والے سینئر صحافی آفتاب احمد خان کے لیے ملازمت کی ضرورت ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئی اور میں یہ تحریر مکمل کرہی رہاتھا کہ 2020ءکی طرح 2021ءبھی جاتے جاتے ایک اور دکھ دے گیا۔2020ءمیں سال کے آخری روز نامور دانشور ڈاکٹر طاہر تونسوی کاانتقال ہواتھا ۔آج کچھ دیر میں مجھے نامور ترقی پسند دانشور اور ماہر تعلیم پروفیسر عابد عمیق کے جنازے میں شرکت کے لیے جانا ہے۔
گردش ماہ وسال کی گنتی
اصل میں وقت کا جنازہ ہے

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker