اسلام آباد : پاکستان سمیت دنیا بھر میں نیا سال 2022 کرونا کے خاتمے کی امید کے ساتھ شروع ہو گیا ۔ نئے سال کا استقبال ، آتش بازی سے کیا گیا ۔ پاکستان کے مختلف شہروں میںپولیس نیو ائر نائٹ منانے والے نوجوانوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں مصروف رہی ۔ پاکستان میں سال نو 2022 کا آغاز ہوگیا جس کی خوشی میں ملک کے مختلف شہروں میں نوجوان سڑکوں پر نکل آئے،آتش بازی اور ہوائی فائرنگ کا مظاہرہ کیا گیا۔اس موقع پر کراچی میں مختلف علاقوں میں ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں 16 افراد زخمی ہوگئے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق نارتھ ناظم آباد میں فائرنگ سے ایک بچی اور سولجر بازار میں ایک شخص زخمی ہوا جسے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔پاکستان میں نیا سال 2022 شروع ہونے سے 9 گھنٹے قبل ہی دنیا میں نیا سال شروع ہوگیا اور سب سے پہلے بحریہ اوقیانوس کے دور دراز جزائر میں نیا سال شروع ہوا۔اگرچہ پاکستان میں سال نو کا آغاز 31 دسمبر کی رات 11 بج کر 59 منٹ، 59 سیکنڈز کے بعد ہوتا ہے، تاہم دنیا کے متعدد ممالک میں نیا سال 9 گھنٹے قبل ہی شروع ہوجاتا ہے۔
دنیا میں سب سے پہلے 2022 کا آغاز وسطی بحریہ اوقیانوس کے جزائر ٹونگا اور کیریباتی سے ہوا، یہاں پاکستان سے 9 گھنٹے پہلے نیا سال شروع ہوتا ہے، اس جزیرے میں پاکستانی وقت کے مطابق سہ پہر تین بجے کے بعد نیا سال شروع ہوجاتا ہے۔
اس جزیرے میں انسانی بستیاں نہیں ہیں اس لیے یہاں پر نئے سال کا آغاز اتنی اہمیت نہیں رکھتا۔ٹونگا اور کریباتی میں سال نو کے کچھ منٹ بعد ہی نیوزی لینڈ کے جزیرے چاٹھن میں بھی نئے سال کا آغاز ہوجاتا ہے اور یہاں بھی انسانی آبادی نہ ہونے کی وجہ سے نئے سال کے آغاز کو اہمیت نہیں دی جاتی۔
ٹونگا اور کیریباتی کے بعد نئے سال کا آغاز نیوزی لینڈ کے سب سے بڑے شہر آکلینڈ میں ہوتا ہے جو پاکستانی وقت کے مطابق شام 4 بجے کے بعد ہوتا ہے۔نیوزی لینڈ دنیا کا وہ پہلا بڑا اور معروف ملک جب کہ آکلینڈ وہ پہلا شہر ہے جہاں سال نو کا آغاز سب سے پہلے ہوتا ہے۔
نیوزی لینڈ کے بعد نئے سال کا روس کے دور دراز کے جزائر میں ہوتا ہے جہاں پاکستانی وقت کے مطابق 31 دسمبر کی شام 5 بجے کے بعد نیا سال شروع ہوجاتا ہے۔
ٹائمز اینڈ ڈیٹ ڈاٹ کام کے مطابق نیوزی لینڈ اور روس کے بعد نئے سال کے آغاز آسٹریلیا میں ہوتا ہے، جہاں پاکستان کے شام 6 بجے کے بعد نیا سال شروع ہوتا ہے۔
پاکستان کے شام 6 بجے سے رات 8 بجے تک نئے سال کا آغاز آسٹریلیا کے دور دراز جزائر میں ہوتا رہتا ہے۔آسٹریلیا کے بعد نئے سال کا آغاز جاپان میں ہو تا ہے، جس کے بعد جنوبی کوریا سمیت قریبی ممالک میں بھی نئے سال کی شروعات ہوجاتی ہے۔
جاپان، شمالی کوریا، فلپائن، چین، انڈونیشیا، تھائی لینڈ، میانمار، بنگلا دیش، نیپال، سری لنکا اور بھارت کے بعد پاکستان میں نئے سال کا آغاز ہوا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کے کئی ممالک میں سال 2022 کا آغاز دیگر ممالک کے مقابلے 25 گھنٹے بعد بھی ہوگا۔نئے سال کے آغاز کے 25 گھنٹے بعد امریکن سمووا میں نئے سال کا آغاز ہوتا ہے، جس کے ایک گھنٹے بعد بیکر آئی لینڈ دنیا کا وہ آخری مقام ہوگا جو 2022 میں داخل ہوگا مگر وہاں کوئی آبادی نہیں تو وہاں کوئی اس کا ٰخیرمقدم کرنے والا نہیں ہوگا۔یعنی امریکن سمووا کے رہائشی ہی سب سے آخر میں نئے سال کا جشن منائیں گے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس پر اُمید ہیں کہ 2022 میں کورونا وائرس کو شکست دے دیں گے۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق سال نو کے موقع پر ڈبلیو ایچ اوکے سربراہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر ممالک کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے مل کر کام کریں تو 2022 میں اس وبا سے نجات حاصل کرلی جائے گی۔تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ویکسین کی تقسیم میں عدم مساوات وائرس کے پھیلنے کے خطرے کو بڑھا رہی ہے۔
ٹیڈروس نے کہا کہ تنگ نظری پر مبنی قوم پرستی اورکچھ ممالک کی طرف سے ویکسین کی ذخیرہ اندوزی نے ویکسین کی منصفانہ تقسیم کو نقصان پہنچایا ہے اور اومی کرون کے پھیلاؤ کیلئے مثالی حالات پیدا کیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جتنی دیر تک ویکسین کی غیر منصفانہ تقسیم جاری رہے گی تب تک وائرس کے پھیلنے کے خطرات اتنے ہی زیادہ ہوں گے اس لیے اگر ممالک مل کر کام کریں اور ویکسین کی صحیح تقسیم کریں تو اس وبا پر قابو پا لیا جائے گا

