ترجمہ نگاری ایک مشکل فن ہے ۔ اردو تحقیق کے طالب علم زبان وادب کے اس مشکل میدان میں کم ہی قدم رکھتے ہیں۔کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ ترجمہ نگار دونوں زبانوں پر عبور حاصل کیے بغیر، اس بظاہر آسان مگر پیچیدہ فن کے ساتھ انصاف نہیں کرسکتا ایک زبان کے لغت کو دوسری زبان میں بیان کرنا یہ ترجمہ نگاری کی محض ایک آسان سی تعریف ہے مگر جب ملاوجہی 1635 میں” سب رس "کا ترجمہ کرتے ہیں اور جہاں اس ترجمے کو پہلا ترجمہ بھی تصور کیا جاتا ہے تو وہیں یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ ادب میں ترجمہ ایک اہم ترین لسانی و فکری اور تحقیقی عمل ہے ۔نثری تراجم کا سلسلہ سترہویں صدی سے ہوتا ہوا ،فورٹ ولیم کالج، دہلی کالج ،جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دارالترجمہ کے اصول و ضوابط کے تابع ،تجربے کی منازل طے کرتا ہوا ،اردو میں جدید علوم کے تراجم اور فکر و سخن کی اکیسویں صدی میں داخل ہوا تو سکون ہوا کہ اردو ادب کے لیے ترقئ فکر کی راہیں ہموار ہوچکی ہیں ۔

محترم احباب!!!تمہید مختصر، دور حاضر کے ترجمہ نگاروں میں عدنان ظفر کا نام میرے لیے نیا تھامگر جب موصوف نے مجھے اپنی کتب اور اپنے علمی سفر کی تفصیل ارسال کی تو ایک نہایت متاثر کن اور ہمہ جہت تخلیق کار،محقق ، ترجمہ نگار سچ پوچھیے تواردو ادب کاایک ایسا محنت کش اور خدمت گزار شخص سامنے آیا،جو 2009 سے بطور استاد، بطور افسانہ نگار،سفر نامہ نگار،خاکہ نگار،مترجم ومحقق اپنی خدمات رقم کر رہا ہے اور آج بھی ایک اچھے مستقل روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہے ۔ایم اردو کی ڈگری کے حصول کے لیے بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے اس جفاکش طالب علم نے جو مقالہ تحریر کیا اس کا عنوان تھا۔
"انجم صہبائی ،شخصیت اور فن "اور ایم فل اردو کا مقالہ جناب ڈاکٹر محمد قاضی عابد مر حوم کی رہنمائی میں عالمی شہرت یافتہ مصنفہ مارگریٹ والٹرز کی کتاب
Femminism A very short introduction
کا ترجمہ بعنوان "تانیثییت ایک بہت ہی مختصر تعارف "کے عنوان سے مکمل کیا۔جو جدید عالمی ادب کے تقاضوں اور ترجمہ کاری کی خوبیوں سے بھرپور قرار دیا گیا ۔
پہلی کتاب تانیثیت میں دو کتب ہیں جو بالترتیب۔۔۔Feminism A very Short Introduction By Margaret Walters اور دوسری Feminism By Jane Freedman
مقدمہ صفدر زیدی صاحب اور پس ورق ڈاکٹر صلاح الدین درویش نے تحریر کیا ہے ۔
عدنان ظفر کی دوسری ترجمہ شدہ کتاب ایک دقیق موضوع پر نہایت عمدہ کاوش رہی ۔عدنان ظفر نے اس مرتبہ ترجمہ کے لیے فرانسس فوکو یاما کی کتاب” identity "شناخت ”
Contemporary identity politics and the struggle for recognition عصری و سیاسی شناخت اور پہچان کی” "جدوجہد
کا انتخاب کیا۔۔۔ "شناخت "میں اصطلاحات کی فرہنگ بھی وضع کی ۔۔
۔تراجم کے قارئین جانتے ہیں کہ بامحاورہ اردو تراجم عموما آسان فہم نہیں ہوتے۔اگر آسان فہم ہوں تو تخلیقی سڑوکس سے مبرا ہوتے ہیں۔رواں دواں ،سہل انداز اور تخلیق کا گمان رکھنے والے تراجم ، شیشے کےاس پار کی دنیا دکھانے والے صاف شفاف تراجم ،اردو زبان و ادب کے لیے بیش بہا سرمایہ ہیں۔عدنان ظفر نے انگریزی اصطلاحات کے حامل ، ایک مشکل ترین موضوع کو اس خوبی سے نبھایا ہے کہ ڈاکٹر صلاح درویش صاحب اسلام آباد، ڈاکٹر الطاف صاحب ،ڈاکٹر سہیل صاحب ہزارہ یونیورسٹی کی قیمتی آراء کے مطابق "عدنان ظفر کے تراجم سلیس اور رواں دواں اردو پر مبنی ہیں ان کے تراجم سے دل خوش ہوگیا ”
اب عام انتخابات کی پھیکی ،بے مہر اور سرد سی گہما گہمی میں وہ باذوق افراد جو اپنی تعطیلات، فکر افزا، میعاری کتب پڑھ کر گزارنا چاہتے ہیں وہ عدنان ظفر کی کتاب
"شناخت” ضرور پڑھیں۔یہ فوکو یاما،End of History لکھنے والے شاندار مصنف کی تخلیق کا ترجمہ ہے ۔
فوکو یاما کو پڑھنے والے جانتے ہیں کہ فوکو نے روسی ریاستوں میں سوشلزم کے زوال اور نئی دنیا میں لبرل جمہوریت کے آغاز کے بارے میں نظریاتی حکومتوں کے حتمی خاتمے کو واضح کیا تھا۔
اس کتاب میں” شناخت "کے مسئلہ پر انہوں نے انقلاب کے نعروں کی حقیقت کی وضاحت کی ہے۔فوکو کے مطابق انقلابی شناخت کے خواہاں، عوام اپنے اپنے رنگ ،نسلی تفاخر،عقیدے، تہذیب و ثقافت کی طاقت کے فریب میں، نااہل ،بدعنوان، سیاست دانوں، ظالم آمروں کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس کر ،انقلابی شہید کہلانے کے شوق میں، منوں مٹی تلے دفن ہوجاتےہیں ۔اب ان کے مسائل کا حل اور انسانیت پر مبنی مستقبل کی بنیاد، جذباتیت پر مشتمل نہیں ہونی چاہیے ۔
محترم احباب، یہ دونوں قابل قدر تراجم سٹی بک پوائنٹ کراچی سے شائع ہوئے ہیں۔بک اینڈ ریڈرز اور بیکن بک پر دستیاب تھے مگر اب پی ڈی ایف کی صورت میں دستیاب ہیں خواہاں عدنان ظفر صاحب سے رابطہ کرسکتے ہیں۔یہ تراجم اردو ادب کےترجمہ نگار طالب علموں کے لیے مشعل راہ ہیں
میری دعا ہے کہ اکادمی ادبیات کے قابل قدر صدر نشین اور گوہر شناس،عدنان ظفر ایسے محنتی استاد کی ان کاوشوں کو قدر کی نگاہوں سے ملاحظہ فرمائیں اور ترجمہ نگاری کے فن و مقابلہ جات میں انعام سے نوازیں۔
اس دور میں جب تحقیق کے میدان میں ترجمہ کاروں کی ضرورت ہے تو ایسے ہنرمندوں روزگار کے اعلی مواقع فراہم کرکے اچھے مشاہرہ سے نواز کر تراجم کے میدان میں قابل قدر نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں ۔
بے حد مشکور ہوں عدنان ظفر آپ کے اس تحفہ ادب نے واقعی دل خوش کردیا۔
فیس بک کمینٹ

