سجاد جہانیہکالملکھاری

ایک برس کا قصہ : دیکھی سنی / سجاد جہانیہ

یہ سطریں قرطاس پر بچھائی جارہی ہیں تو تیرہویں افطاری ہوچکی ہے اور شام بھی گاڑھی ہوکر شب کا پیرہن پہن چکی۔ دور افق سے شب ِچار دہم کا چاند کہ گھنٹا بھر پہلے ابھرا تھا‘ اب آسمان پر خاصا اوپر آچکا ہے اور اس کی چاندنی شہرِ ملتان کے حبس میں اپنا پسینے بھرا بدن کھجاتی ہے۔ اس ماحول میں میری یادوں کے دفتر کھلے ہیں اور میں سوچتا ہوں کہ ہجری تقویم کے اعتبار سے آج پورا ایک برس ہوگیا۔ آسمان کے چاند نے گیارہ مرتبہ شباب پایا ہے اور گیارہ ہی دفعہ سوکھ سوکھ کے جھڑ گیا اور آج اس نے پھر سے بارہواں شباب پایا ہے۔ گویا سال کا چکر مکمل کیا ہے اور میرے خیال کو الٹے پیر چلنے پر مجبور۔
گزشتہ رمضان تیرہویں افطاری ابا جی نے ہمارے ہاں کی تھی۔ نماز کے بعد گھر کے پچھلے لان میں پہلو بہ پہلو پڑی چارپائیوں میں سے ایک پر ابا جی لیٹے تھے‘ دوسری پر میں بیٹھا تھا۔ شام گہری ہورہی تھی۔ ابا جی نے کہا ”یار ایک سگریٹ پلاﺅ پھر میں چلوں“۔ میں نے ایک سگریٹ ابا جی کے لئے سلگائی‘ دوسری اپنے لئے۔ کم و بیش بیس گھنٹے کے بعد سگریٹ کا اپنا ہی لطف تھا۔ پہلے ہی کش نے بدن کے ریشے ریشے میں پہنچ کے اثر دکھایا۔ مجھے تب نہیں پتہ تھا کہ سگریٹ سے بائیس برس کی رفاقت ٹوٹ جانے کو ہے۔ تمباکو سے کشید ہوکر سفیدفلٹر کی راہ آتا یہ دھواں جو خون میں نکوٹین چھوڑ کر نتھنوں کی راہ واپس نکل جاتا ہے‘ اپنے لمسِ آخریں کی بہار دکھاتا ہے۔ سگریٹ ختم ہونے سے پہلے ہی مجھے سینے میں کھچاﺅ اور بوجھل پن سا محسوس ہونے لگا۔ کوئی سمجھ نہ آتی تھی کہ یہ کیسی گرانی ہے۔ کبھی لگتا تھا بدہضمی ہے اور کبھی پٹھوں کا کھچاﺅ۔
ابا جی کا ڈرائیور آگیا‘ وہ سگریٹ ختم کرتے ہی چلے گئے مگر میری گرانی بڑھتی گئی۔ یہ گرانی مجھے ایک روز قبل یعنی بارہویں افطاری کے بعد بھی سگریٹ پینے پر محسوس ہوئی تھی۔ میں نے بدہضمی سمجھا۔ گھر کے مشرقی سمت والے لان میں‘ امامہ نے اور میں نے کچھ دیر دوڑ لگائی۔ پھر میں نے دس بارہ ڈنٹر پیلے۔ کچھ دیر بعد گرانی رفع ہوگئی۔ ابھی میں سوچ رہا تھا کہ واک کروں کہ سینے کا یہ کھچاﺅ درد بن کر کندھوں اور بازوﺅں میں سرایت کرگیا۔ بائیں بازو کے پچھلے پٹھوں میں شدید کھچاﺅ پیدا ہوگیا۔ تب میرا ماتھا ٹھنکا کہ یہ بدہضمی نہیں کچھ اور قسم کا درد ہے۔ میں نے سوچا کہ گھر میں کسی کو بتایا تو پریشان ہوں گے۔ بھائی یا کسی دوست کو بلایا تو خاصا وقت لگ جائے گا۔ چپ کرکے گاڑی کی چابی لی اور کسی کو بتائے بغیر گھر سے نکل گیا۔
راستے میں فیاض اعوان اور یٰسین کو فون کردیا کہ نشتر ایمرجنسی پہنچو۔ تکلیف بڑھتی جارہی تھی۔ کھچاﺅ اتنا تھا کہ گاڑی چلاتے ہوئے بھی بائیں ہاتھ سے سٹیئرنگ تھام کر دائیں ہاتھ سے بایاں بازو دبارہا تھا۔ کچہری والے فلائی اوور پر برداشت سے باہر ہوگیا اور میں نے سوچا کہ گاڑی سائیڈ پر لگالوں۔ مگر یہ درد کا ایک ریلا تھا جو ایک ڈیڑھ منٹ رہ کر گزرگیا۔ اب میں کچھ نارمل تھا۔ نشتر میں جونیئر ڈاکٹر ایمرجنسی ڈیوٹی پر تھے۔انہوں نے حالات سن کر کہا بدہضمی ہے‘ ان کو رائزک کا ایک انجکشن لگادو۔ میں نے انہیں بتایا کہ یہ رائزک والا مسئلہ نہیں کچھ اور ہے۔ آپ ای سی جی کریں۔ ابھی وہ سوچ ہی رہے تھے کہ کوئی لڑائی کا کیس آگیا۔ تین چار شدید زخمی آہ و بکا کرتے لوگ اور واویلا کرتے ان کے لواحقین۔ کہرام برپا ہوگیا۔ ڈاکٹر ان میں مصروف ہوگئے‘ میں چپ کر کے باہر نکل آیا۔ باہر نکلا تو فیاض اور یٰسین اندر داخل ہورہے تھے۔
ان سے کہا ”یہاں کوئی لفٹ نہیں کروارہا…. کارڈیالوجی چلتے ہیں“۔ اللہ جزائے خیر دے چودھری پرویزالٰہی کو‘ ملتان کا انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی ان کا ملتان پر ہی نہیں پورے جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے ملحقہ اضلاع پر بھی احسان ہے۔ ایمرجنسی میں جاتے ہی ای سی جی کی گئی اور رپورٹ دیکھتے ہی مجھے بٹھالیا گیا۔ایک ٹیوب سی‘ جس میں پچاس سی سی کے قریب دوائی تھی‘ ڈرپ کی طرح لگادی۔ دو انجکشن لگائے اور کچھ گولیاں کھلادیں۔ گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ گزرگیا تو پھر ای سی جی کی۔ ڈاکٹروں کی تسلی نہ ہوئی چنانچہ خون کا نمونہ لے کر ٹیسٹ کے لئے بھجوادیا۔ اس دوران بڑے بھائی ریاض اور دیگر دوست احباب بڑی تعداد میں ہسپتال پہنچ گئے تھے۔ رات ساڑھے دس‘ گیارہ بجے لیبارٹری سے رپورٹ آئی تو انہوں نے کہا کہ آپ گھر نہیں جاسکتے۔ رات انڈر آبزرویشن رہیں گے‘ کچھ ادویات دی جائیں گی اور صبح انجیو سی ٹی ہوگی۔
جب مجھے بیڈ پر شفٹ کرنے لگے تو ڈاکٹروں نے کہا آپ نے چلنا بالکل نہیں‘ وہیل چیئر پر بستر تک لایا گیا۔ میں نے سوچا اسی کیفیت میں تو میں نے کل امامہ کے ساتھ دوڑ لگائی تھی اور ڈنٹر پیلے تھے اور اب یہ قدم زمین پر نہیں دھرنے دے رہے۔ بس جب دن بچتے ہوں تو بے وقوفانہ حرکتوں کے بعد بھی انسان بچ جاتا ہے۔ احباب کا اور گھر والوں کا تانتا بندھا تھا۔ انتظامیہ دو دو لوگوں کو ملنے دے رہی تھی۔ اتنے میں امامہ اور زہرا اندر داخل ہوئیں۔ امامہ تو خیر سات سال کی بچی‘ وہ اپنی ترنگ میں تھی۔ زہرا مجھے دیکھ کے مسکرائی۔ ایسی مسکراہٹ جس کے پیچھے آنسوﺅں کا آتش فشاں پھٹ پڑنے کو ہمک رہا تھا۔ پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ وہ بڑے ضبط میں تھی۔ میں نے دونوں کو گلے لگایا‘ پیار کیا۔ زہرا حال احوال پوچھتی رہی۔ان کی چھوٹی تائی ساتھ تھیں۔ یہ لوگ گئے تو عالیہ اور بڑی بیٹی زینب اندر داخل ہوئیں۔ مجھ پر نظر پڑتے ہی زینب کا ضبط ٹوٹ گیا۔ نظر کے چشمے کی اوٹ میں اس کی آنکھیں چھلک پڑیں ۔ وہ لپک کر آگے بڑھی۔ پہلے میرے بازو پر دو تین مکے مارے‘ جن میں بے انت پیار بھرا تھا پھر گلے لگ کر اس کا پہلا جملہ یہ تھا ”اب آپ نے سگریٹ پی نا تو پھر دیکھنا“۔
بس روداد اتنی ہی ہے…. آگے پھر ٹیسٹ ہیں‘ انجیوگرافی‘ انجیو پلاسٹی ہے جس میں ایک عدد سٹنٹ ڈالا گیا اور رفتہ رفتہ معمول کی زندگی کی جانب واپسی ہے۔ ہاں ! سب سے ضروری‘ زینب اور زہرا کی طرف سے لیا گیا سگریٹ نہ پینے کا وعدہ ہے۔ ہسپتال کی پہلی رات گیلی آنکھوں اور رندھی آواز والی زینب تو چھوٹی بہنوں کے ہم راہ تائی اماں کے ساتھ ان کے گھر چلی گئی۔ مجھے عالیہ نے بتایا کہ جونہی گھر اطلاع پہنچی کہ آپ ہسپتال میں ہیں‘ زینب جائے نماز لے کر ڈرائنگ روم میں گھس گئی۔ دروازے کو کنڈی تھی‘ اب آتے ہوئے اسے نکالا باہر۔ روتی اور دعا کرتی رہی۔ بائیس برسوں میں کتنی ہی مرتبہ میں نے سگریٹ چھوڑی۔ دو‘ چار‘ پانچ دن‘ حد دس بارہ دن تک‘ پھر شروع ہوجاتی۔ نشہ بھلا آسانی سے جایا کرتا ہے مگر یہ جس واقعہ کا سال پورا ہونے پر آپ کو قصہ سناتا ہوں‘ اس کے بعد آج تک اس ستم پیشہ محبوب یعنی سگریٹ کو منہ نہیں لگایا۔ سگریٹ کے ساتھ بائیس برس کا ساتھ ترک کردینے پر یونس نتکانی مجھے بزدل‘ ڈرپوک اور بے وفا کے القابات دیا کرتا ہے۔ ہمارے شاعروادیب دوست رضی الدین رضی نے اگلے روز ٹی ہاﺅس کی ایک تقریب کے دوران مجھے سگریٹ کی پیش کش کی مگر پھر انہیں یاد آگیا کہ میں چھوڑ چکا ہوں۔ انہوں نے کہا ”اوہ…. یہ تو موت سے ڈرے ہوئے لوگ ہیں“۔
میں سوچتا ہوں اور خود سے پوچھتا ہوں کہ کیا واقعی میں موت سے ڈرا ہوا شخص ہوں؟ اندر سے جو جواب آتا ہے‘ اس میں دنیا چھوڑنے کا کسی قدر ملال تو ہے مگر خوف نہیں۔ بھلا ہو ان لکھنے والوں کا جن کی تحریروں نے مجھے سمجھایا کہ انسان غیرفانی ہے اور موت کچھ نہیں مگر کہکشاﺅں کی سیر کو جانے کا دروازہ‘ گیٹ وے ٹو گلیکسیز۔ یہ پانچ فٹ آٹھ انچ کا جسم فانی ہے‘ مجھے تو فنا نہیں۔ میں تو اس کو یہیں چھوڑکے آگے بڑھ جاﺅں گا۔ منشی سورج نرائن مہر کے یہ شعر عقیدے ایسی مضبوطی رکھتے ہیں:
یہ دنیا جائے گزشتن ہے‘ سائیں کی ہے یہ صدا بابا
یاں جو ہے روبر ِرفتن ہے‘ تو اس میں نہ دل لگا بابا
گیانی نہ رہے‘ دھیانی نہ رہے‘ تھے جو جو لاثانی نہ رہے
تھے آخر کو فانی نہ رہے‘ فانی کو کہاں ہے بقا بابا
برادرِ کبیر رضی!میں موت سے ڈرا ہوا شخص نہیں….ہاں‘ زینب کے آنسوﺅں سے ڈرتا ہوں۔ سو کوشش ہے کہ جب تک اس آب و گل کے بدن میں قید ہوں‘ پھر ہسپتال کے بستر پر لیٹ کر زینب کے آنسو نہ دیکھوں….ہاں ! جب اس مادے کی دنیا کو چھوڑ کر آگے بڑھ جاﺅں گا‘ تب اور بات ہے۔
(بشکریہ:روزنامہ خبریں)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker