سجاد جہانیہکالملکھاری

حرفوں کی بے مکانی : دیکھی سنی / سجاد جہانیہ

جب  سوچ، قلم اور قرطاس سے مل کر بننے والی تکون کے اضلاع پر حرفوں کو خوش خرامی کیے بہت دن بیت جائیں تو حرف کاہل ہو جاتے ہیں۔ سستی اور کام چوری پر اُتر آتے ہیں۔ سطروں میں ایستادہ ہوکر جملے بننے سے کترانے لگتے ہیں۔ یہی کیفیت آج میرے ساتھ برپا ہے۔ کم و بیش ایک ماہ کے بعد آپ سے مخاطب ہوں۔ اتنے سارے خیالات ہیں اور کتنے ہی موضوعات مگر سچی بات یہ ہے کہ کسی بھی خیال کا اور کسی بھی موضوع کا سِرا ہاتھ نہیں آرہا۔ بنیاد کی اینٹ کہاں رکھی جائے اور کیوں کر اس کے اوپر رَدّے باندھ کر کالم کی دیوار استوار کی جائے، کچھ سمجھ نہیں آرہا۔
میرے معمولات میں ان دنوں خاصی تبدیلی آچکی ہے۔ روزگار کے لیے ہر ایک کو کسی نہ کسی کسب کا بار اُٹھانا پڑتا ہے۔ میرے کسب کی نوعیت ان دنوں بالکل بدل گئی ہے۔ واقعہ دیکھ کر اس کی رپورتاژ قلم بند کرنے اور پھر اسے میڈیا کو ارسال کردینے کا سیدھا سادھا کام کرنے والے محرر کو فن و ثقافت کے فروغ کے لیے قائم کیے گئے ادارے کی باگ ڈور تھمادی گئی ہے۔ خرِ بے دُم کو بھلا زعفران کی کیا قدر؟ سو گریبان میں جب جب جھانک پڑتی ہے، پریشاں خاطر ہوتا ہوں کہ یہ بارِ گراں مجھ ناتواں سے آخر کب تک اُٹھے گا اور کیوں کر؟ بس انہی کیفیات میں مہینہ بھر گزر گیا اور اس کالم کے پڑھنے والوں سے رابطہ نہیں ہو پایا۔
یہ قاری اور لکھنے والے کا رشتہ اور رابطہ بھی عجب ہے۔ اِک دوجے سے دُور ہونے کے باوصف اس میں ایک لمس ہے جو محسوسات کی ترسیل کرتا ہے۔ کسی مضمون کا خیال میں آنا، پھر اس کا لفظوں میں، فقروں میں ڈھلنا اور پھر قرطاس پر اُتر آنا۔ اس کا کاتب یا کی بورڈ پر اُنگلیوں کی پوروں کی لطیف ضربات لگاتے کمپوزر کے ہاتھوں بارِ دگر لکھا جانا اور پھر کاغذ پر چھپ کر اخبار، رسالے یا کتاب کی صورت قاری تک پہنچنا۔ روشنائی اور کاغذ کی خوش بُو میں بسے حرف کتاب یا اخبار کی صورت تھام کر جب قاری پڑھتا ہے تو ایک ایسے لمس سے آشنائی پاتا ہے جس میں لکھنے والے کی کیفیات کی بھینی بھینی باس ہوتی ہے۔
آپ نے کبھی تازہ اخبار کی تہہ کھول کر اسے سونگھا ہے؟ نئی طبع شدہ کتاب کو یونہی بے سوچے سمجھے کہیں سے بھی کھول کر اس میں یوں منہ چھپایا ہے کہ آپ کی ناک تو جلد بندی کے درز میں پیوست ہوتی ہو اور کتاب کے صفحات آپ کے رُخساروں کا بوسہ لیتے ہوں؟ یقین کیجئے اس سے بڑا نشہ کوئی نہیں۔ اخبار و کتاب سے حصولِ اطلاع و علم اپنی جگہ مگر ان میں بسی خوش بُو کا سُرور اپنا ایک الگ ہی سَحر رکھتا ہے۔ اچھا اب کسی پرانی لائبریری میں چلئے۔ اس کی شیلفوں میں سطریں باندھ کے پڑی کتابوں میں سے کسی ایک کو اُٹھا کر کھولئے۔ اس کے صفحات کا رنگ اور خوش بُو آپ کو بتاتے ہیں کہ ان پر کتنا زمانہ گزر چکا۔
پرانی کتابوں کے صفحات کے مابین جو بے مکانی ہوتی ہے، وہ دراصل گزرے وقت کا مکاں ہے۔ یہاں وقت سوتا ہے اور جب کبھی آپ کتاب کھولتے ہیں تو یہ انگڑائی لے کر بیدار ہوتا ہے اور آپ کو اپنی عمر کا پتہ دیتا ہے۔ یہ تمام تر راز و نیاز قاری پر کتاب یا اخبار کے لمس سے منکشف ہوتا ہے۔ مگر مجھے لگتا ہے کہ ہم تیزی کے ساتھ اس لمس سے محروم ہوتے چلے جارہے ہیں اور وہ دن دُور نہیں جب اس لمس کو ہم یک سر فراموش کردیں گے۔ تین ہزار سال قبل مسیح میں آگ سے پکی مٹی کی پلیٹوں پر کتاب لکھنے کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا اور جو کاغذ اور چھپائی کی ایجاد کے بعد پانچ ہزار برس کا سفر کرکے یہاں تک پہنچا ہے، ای بُک کلچر اور پی ڈی ایف کے ہاتھوں دم توڑ دینے کو ہے۔
اخبارات اور کتابوں کی تعدادِ اشاعت کم سے کم ہوتی چلی جارہی ہے۔ یہ نہیں کہ ان کی خواندگی کم ہوئی ہے۔ اخبار اور کتاب دیکھنے والوں کی تعداد بڑھی ہے مگر قاری و اخبار کے مابین وہ لمس اب عنقا ہوتا چلا جارہا ہے جس کا اوپر تذکرہ ہوا۔ اب کتاب اور اخبار سکرینوں پر پڑھی جاتی ہے۔ حرف و جملے خانماں برباد ہوگئے ہیں۔ پہلے حرفوں کو روشنائی کا لبادہ اور سینۂ کاغذ پر جو آشیاں میسر ہوتا تھا، وہ اب نہیں ہیں۔ سکرین پر پڑھتے پڑھتے آپ نے واپسی کے نشان پر چھوا تو وہ حرف جو ابھی آپ کی خواندگی میں تھے، کہیں لامکاں کو کوچ کر جاتے ہیں، میسر ہوتے ہیں مگر موجود نہیں، دست یاب مگر وجود اور لمس سے عاری۔
نئی نسل کی تو خیر اب چھپے ہوئے لفظ اور کاغذ کے لمس سے آشنائی بہت کم ہوتی چلی جارہی ہے مگر مجھ ایسے ادھیڑ عمریئے کہ جنہوں نے حرفوں کے لمس اور خوشبو کی اسیری میں عمر کاٹی ہے، وہ بھی اب ان بے وجود و بے مکاں حروف کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ میرے فون میں وٹس ایپ کے چند گروپ ایسے ہیں جہاں سویرے ہی سویرے روزانہ اخبارات پی ڈی ایف فارم میں پوسٹ ہوتے ہیں۔ اب سویرے آنکھ کھلتے ہی عادت یہ ہے کہ سرہانے پڑی عینک اور فون اُٹھایا جاتا ہے۔ کال، پیغامات دیکھتے ہوئے، ان گروپوں میں آئے اخبارات پر بھی نظر دوڑا لیتا ہوں۔ وہ تین اخبار جو گھر پر آتے ہیں، گیراج میں پڑے دھوپ کھایا کرتے ہیں اور بعض اوقات جوں کے توں سٹور میں چلے جاتے ہیں۔ ابھی زیادہ دن نہیں گزرے کہ صبح اُٹھ کر سب سے پہلے، گیٹ کے نیچے سے کھسک کر اندر آئے ان اخبارات کی طرف جھپٹا کرتا تھا۔مگر اس پی ڈی ایف کلچر میں اتنی طاقت ہے کہ اس نے تین ساڑھے تین دہائیوں کی میری یہ عادت بدل ڈالی۔
ایسے ہی بے شمار کتابیں پی ڈی ایف کی صورت موصول ہوتی رہتی ہیں۔ رات کو سونے سے قبل جو تھوڑی دیر کا مطالعہ ہوا کرتا تھا، وہ بھی اب کاغذ و روشنائی کی مجلد کتابوں سے ہٹ کر سکرین پر نظر آتی بے لمس کتابوں تک محدود ہوگیا ہے۔ جیسے آج کل بہت سے دفاتر میں Paperless کلچر نظر آتا ہے، مجھے لگتا ہے کہ آئندہ ایک آدھ دہائی میں ہماری ساری زندگی ہی پیپرلیس ہو جائے گی۔ کاغذ کا استعمال سامان رکھنے کے لفافوں اور ہاتھ پونچھنے کو ٹشو پیپرز کی حد تک رہ جائے گا۔ حرف اور کاغذ کا صدیوں پرانا رشتہ اب ختم ہونے کو ہے۔ حروف کی بے مکانی شروع ہوچکی اور یہ ان کو مکمل بے گھر کرنے سے پہلے رُکنے والی نہیں۔
مطبوعہ حروف کے کلچر کو دھیرے دھیرے مرتا دیکھ کر میں قدرے ملول ضرور ہوں مگر مایوس ہرگز نہیں۔ اس جہانِ آب و گل میں اگر کوئی چیز مستقل اور دائمی ہے تو وہ ہے تبدیلی۔ یہ تبدیلی جس پر آج ہم بات کررہے ہیں، یہ بھی آکے رہے گی۔ یہ تبدیلی طالب علم کی، علم تک رسائی آسان بنا رہی ہے۔ تلاش کا عمل سہل ہوگیا ہے۔ اب آپ کو لائبریری کی لمبی لمبی شیلفوں میں چُنی ہزاروں کتابوں میں بسی دُھول جھاڑ کر چھینکتے ہوئے، مطلوبہ معلومات تک پہنچنے کی مشقت سے نجات مل گئی۔ آپ کی مطلوبہ انفرمیشن اب بس ایک کلک کی دوری پر ہے۔ آپ کے ہاتھوں میں تھما یہ موبائل، الہ دین کے جن سے بھی پہلے، آپ کو مطلوبہ مواد مہیا کردیتا ہے۔ انسان کا ہزاروں سالوں پر محیط تلاش، تحقیق، جستجو اور ایجاد کا سفر صرف ایک ہی مقصد کے لیے ہے کہ کسی طور زندگی کو سہل کیا جاسکے۔ جو تبدیلی، زندگیوں میں آسانی لانے کا موجب بنے گی، اسے بہت جلد قبول کرلیا جائے گا۔
اور پھر میرے یہ حرف آپ کاغذ پر پڑھتے ہیں یا اپنے فون، ٹیبلٹ، لیپ ٹاپ کی سکرین پر، اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ اصل چیز رابطہ ہے، وہ تو دونوں صورتوں میں قائم ہے اور اسے قائم رہنا چاہیے۔
(بشکریہ:روزنامہ خبریں)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker