سلمان عابدکالملکھاری

سلمان عابد کا کالم : نوجوان طبقہ کا چیلنج

مکالمہ

کسی بھی معاشرے میں ترقی کی حقیقی کنجی اس کا نوجوان طبقہ ہوتا ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ ریاست یا حکومت سمیت معاشرہ کی بڑی سرمایہ کاری مستقبل کے تناظر میں نوجوان طبقہ پر ہوتی ہے ۔ نوجوان طبقہ کی بات کی جائے تو اس سے مراد محض لڑکے ہی نہیں بلکہ لڑکیاں بھی ہوتی ہیں ۔ اسی طرح نوجوانوں کی تقسیم میں شہری ، دیہی ، امیر ، غریب ، پس ماندہ ، خواندہ ، ناخواندہ، معذور، لڑکا اور لڑکی یا خواجہ سرا ہوتے ہیں ۔عمومی طور پر ہم مخصوص طبقوں کو بنیاد بنا کر بہت سے نوجوان طبقہ کو نظرانداز کردیتے ہیں جو ان کی سیاسی ، سماجی ، انتظامی او ر معاشی ترقی کے عمل کو پیچھے کی جانب دکھیلتا ہے ۔پاکستان ان ملکوں میں شامل ہے جہاں نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے او راس وقت مجموعی طور پر سب سے زیادہ استحصال ، عدم انصاف، عدم ترقی او رمحرومی کی سیاست کا سامنا بھی اسی نوجوان طبقہ کو ہے ۔
نوجوانوں کواگر واقعی آگے بڑھ کر اپنے لیے مستقبل کا محفوظ راستہ تلاش کرنا ہے تو اسے جہاں ریاست اور حکومت پر بہت زیادہ بھروسہ کرنا پڑے گا وہیں اسے اپنی مدد آپ کے تحت بھی مستقبل کا راستہ خود بھی تلاش کرنا ہے ۔ محض ریاست یا حکومت پر بھروسہ کرنے یا ان پرسخت تنقید کرنے کی بجائے اپنے آپ کو بھی مستقبل کے چیلنجز کو بنیاد بنا کر تیار کرنا ہوگا ۔ کیونکہ مسئلہ محض ڈگری کا حصول نہیں بلکہ اب جو دنیا اس وقت موجود ہے وہ مہارتوں کی دنیا ہے ۔ یعنی جس لڑکے یا لڑکی کے پاس کچھ نہ کچھ کرنے کی عملی مہارتیں ہونگی وہی ان کے لیے بہتر مستقبل کی عملی ضانت بن سکتا ہے ۔نوجوان نسل او ران کے والدین کو سمجھنا ہوگا کہ پہلے ہی اعلی ترین ڈگریوں کی موجودگی میں نوجوان بے روزگاری جیسے سنگین بحران سے گزررہا ہے وہاں نئے ڈگری یافتہ بغیر کسی مہارت کے کچھ نہیں کرسکیں گے ۔
نوجوانوں کی عملی ترقی کا دارومدار اسی صورت میں ممکن ہوگا جب وہ خود کو زیادہ سے زیادہ معلومات، علم ، صلاحیت ، رویے اور عملی زندگی میں اختیار کیے گئے مجموعی طرز عمل پر توجہ دیں گے ۔ عمومی طور پر ہم محض خود کو معلومات تک محدود کرکے آگے بڑھنا چاہتے ہیں جبکہ معلومات کی بنیاد پر مزید علم کی جستجو یا مہارتوں کی کمی ہمیں آگے بڑھنے سے روکتی ہے ۔ اسی طرح آج کی دنیا میں جہاں صلاحیتوں کی بڑی ضرورت ہوتی ہے وہیں آپ کا دوسروں کے ساتھ اختیار کیا جانے والا طرزعمل اور رویوں کی بھی اہمیت ہوتی ہے ۔ بہت سے لوگ صلاحیتوں کی کمی پرکچھ نہ کچھ سمجھوتہ کرلیتے ہیں لیکن برے رویے یا طرز عمل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا ۔اس لیے اگر نوجوانوں نے آگے بڑھنا ہے توان پانچ باتوں پر توجہ دیں جو ان کو علمی زندگی میں آگے بڑھنے کا راستہ دے سکے گا۔
نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ مطالعہ کی عادت ڈالنی ہوگی اور ایسا مطالعہ جو نیا بھی ہو اور ان میں کچھ سوچنے ، سمجھنے ، پرکھنے کے ساتھ ساتھ ان میں تنقیدی اور مثبت سوچ کو اجاگر کرے ۔ اب علم اور مہارتوں کی تلاش مشکل کام نہیں ۔یہ ڈیجیٹل عالمی دنیا ہے او رجسے بھی شوق، لگن یا جستجو ہوگی وہ اچھے علم او رمہارتوں تک رسائی حاصل کرسکتا ہے ۔اس کام میں ہمارے گھر کا ماحول، والدین کا طرزعمل اور تعلیمی اداروں کی تربیت بنیادی کردار ادا کرسکتی ہے ۔خود کو محض نمبرز کی ڈور تک محدود کرکے آگے بڑھنے کے رجحان نے پورے تعلیمی نظام اور نوجوان طبقہ کے آگے بڑھنے کے عمل کو شدید نقصان پہنچایا ہے ۔تعلیم ، ڈگری ، صلاحیت ، مہارتوں سمیت خود سے کام کرنے کی سوچ اور فکر کو جوڑ کر ہم نوجوانوں کو قومی ترقی کے دھارے میں شامل کرسکتے ہیں ۔
نوجوان طبقہ نے اگر آگے بڑھنا ہے تو ان کو ان پانچ بنیادی باتوں پر بھی توجہ دینی ہوگی جن میںخاندان سے اپنے تعلق کو مضبوط کرنا اور ان کے لیے بہتر وقت نکالنا، اچھی صحت ،ذہنی حالت خوراک، اور جسمانی مشق یعنی خود کو واک کرنے یا جسمانی مشق کی عادت ڈالنا، اپنابہترکام ،مستقبل ، پروفیشن جو وہ کرنا چاہتے ہیں کو بنیاد بنا کر ترجیح و حکمت عملی کو طے کرنا ، آپ کے سماجی تعلقات جو ذاتی اور کام کی سطح پر آپ کی مدد کرسکیں ان کو بنانا اورمنظم کرنا ،اپنے لیے کچھ تفریحی مواقع پیدا کرنا اور کامیڈی شوز ، فلم یا ڈراموںکو دیکھنا جو ان میں دباو یا تناو کی کیفیت کو کم کرسکیں ۔یا د رہے کہ اگر ان میں سے ہم محض ایک یا دو باتوں پر توجہ دے کر آگے بڑھیں تو مجموعی طور پر آپ کی شخصیت میں بہت سے سنگین مسائل پیدا ہونگے ۔ ہمیں خود کو ایک مجموعی ترقی کے عمل سے جوڑنا ہوگا یعنی زندگی کو بہتر گزرانے کا ایک بہتر پیکج جو ہماری تمام ضرورتوں کو پورا کرسکے ۔کیونکہ ترقی کسی بھی صورت میں سیاسی تنہائی میں نہیں ہوتی ۔
اسی طرح آج کی جدید دنیا میں کچھ مہارتیں ایسی ہیں جو اگر نوجوانوں میں نہیں ہیں تو ان کے لیے مشکلات پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہیں ۔ ان میں جو صلاحیتیں آج عالمی دنیا اورترقی کے منظرنامہ میں نوجوانوں کے تناظر میں زیر بحث ہیں ان کو بھی اپنی تعلیم ، وتربیت اور پروفیشن میں اہمیت دینی ہوگی ۔ اول آپ کی شخصیت مسائل کو حل کرنے والی ہونی چاہیے نہ کہ آپ پہلے سے مسائل میں اور زیادہ اضافہ کرنے کا سبب بنیں اور آپ میں اپنے لیے بہتر فیصلہ کرنے یا وقت پر فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے ۔ دوئم آپ کو لوگوں کے ساتھ یا ٹیم کی بنیاد پر کام کرنے کا تجربہ ہو اور ہر فرد یا ماحول میں رہ کر کام کرنے کی صلاحیت کو پیدا کرنا ضروری ہوتا ہے ۔اپنی مرضی او رمنشا کے مطابق لوگوں یا ٹیم یا کام کا ملنا ایک مشکل مرحلہ ہوتا ، یعنی خود کے لیے مطابقت پیدا کرنا ہونا چاہیے ۔سوئم آپ میں خود کو منظم کرنے کی صلاحیت ہو اور یہ نظر بھی آئے کہ آپ منظم بنیاد پر کام کرنے کے عادی ہیں ۔چہارم زیادہ سے زیادہ خود کو ڈیجیٹل دنیا کا حصہ بنائیں اور سیکھیں کہ کیسے آپ اس جدید ڈیجیٹل دنیا کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبو ط کرسکتے ہیں ۔ کیونکہ آگے بہت سے کاموں یا پروفیشن کی نوعیت بدل رہی ہیں اور وہی لوگ عملا باقی رہ سکیں گے جو جدید ٹیکنالوجی کا حصہ بن سکیں گے ۔ پنجم آپ میں تنقید ی بنیاد پر سوچنے کی صلاحیت اور تجزیاتی پہلو نمایاں ہونا چاہیے جو آپ کو بہتر نتائج دے سکے ۔ ششم آپ خود میں قائدانہ صلاحیت کو پیدا کریں اور معاملات میں لےڈ لیں تاکہ لوگ آپ پر بھروسہ کرسکیں کہ عملا آپ سب کچھ کرسکتے ہیں ۔ہفتم خود میں سیکھنے کا جنون پیدا کریں اور ہر فرد سے سیکھنے کی عادت ڈالیں اور خود کو عقل کل نہ سمجھیں وگرنہ آپ نیا علم و فکر نہیں سیکھ سکیں گے ۔ہشتم آپ خودمیں اچھنا بولنے اور اپنے کام کو پیش کرنے کی صلاحیت کو پیدا کریں کیونکہ اس سے آپ اپنے کام کو نمایاں او ربہتر پیش کرسکیں گے ۔نہم خود سے کام کرنے کے معاملات میں پہل کرنا سیکھیں اور غلطیوں سے خوف زدہ نہ ہوں بلکہ ان سے خود کو سیکھنے کے عمل میں ڈالیں اور تنازعات سے گھبرانے کی بجائے اس سے نمٹنے کی صلاحیت کو سیکھیں اور خود کو مسئلہ کے حل کے طور پر پیش کریں نا کہ مسئلہ کے بگاڑ میں۔ دہم آپ کا مجموعی رویہ لوگوں کے ساتھ دوستانہ ، معاونت ،مدد گار کا ہونا چاہیے اور لوگوں کے ساتھ مل کر مختلف سطح پر موجود Diversity کو قبول کرنا اور برداشت ، روداری او رمکالمہ کو اپنی ترقی کی بنیاد بنانا اہم ہے ۔
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker