عمران عثمانیکھیللکھاری

عمران عثمانی کا کالم : 31 جنوری 1999 ء ۔۔ جب چنائی ٹیسٹ میں پاکستان نے بھارت کو ہرایا

چنائی کا میدان تھا۔سال 1999تھا اور میچ کا اختتام آج یعنی 31 جنوری کو ہوا۔28جنوری1999کو پاکستان اور بھارت 2 ٹیسٹ میچز کی سیریز کے پہلے میچ میں مدمقابل تھے،سیاست اور مداخلت کے باعث 9 سال کے طویل عرصے کے بعد باہمی سیریز کھیلی جارہی تھی۔پاکستانی کپتان وسیم اکرم نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو اس اعتبار سے عجب تھا کہ ٹیم ایک دن بھی مکمل نہ کھیل سکی اور 80ویں اوور میں صرف 238پر باہر ہوگئی۔سعید انور24،شاہد آفریدی11،اعجاز احمد 13،انضمام الحق 10 اور سلیم ملک 8رنزبناکر آئوٹ ہوئے تو پاکستان 91پر 5وکٹیں کھوچکاتھا۔نازک موقع پر محمد یوسف نے 53،معین خان نے60 اور وسیم اکرم نے 38رنزکی اننگز کھیلیں۔پاکستان کی مشکلات کے بنیادی کردار بھارتی اسپنر انیل کامبلے تھے جنہوں نے 70رنز دے کر 6وکٹیں اڑادیں۔
جوابی اننگ میں بھارت نے 67رنزکا بااعتماد آغاز کیا اور156تک بھی صورتحا ل اچھی تھی کہ 4ہی وکٹیں گری تھیں لیکن پھرثقلین مشتاق کی94رنزکے عوض 5اور شاہد آفریدی کی31رنزکے اندر حاصل کی گئی 3وکٹوں نے بھارت کی اننگ 254تک محدود کردی۔وسیم اکرم نے 60رنزکے عوض 2کھلاڑی آئوٹ کئے،وقار یونس کوئی بھی وکٹ نہ لے سکے۔بھارت کو 16رنزکی برتری دلانے میں اہم کردارراہول ڈریوڈ کے 53،سارو گنگولی کے54 اور سنیل جوشی کے 25رنزکا تھا،سچن ٹنڈولکر ثقلین کے ہاتھوں صفر پر آئوٹ ہوئے،کپتان اظہرالدین بھی 11رنزبناکر ثقلین کا شکار بنے۔
پاکستان کی دوسری اننگ کے ہیرو شاہد خا ن آفریدی تھے ،انہوں نے191بالز پر141کی اننگ کھیلی،انضمام الحق نے 51نمایاں رنزکئے اور کوئی بیٹسمین سلیم ملک کے 32 سے زائد اسکور نہ کرسکا۔پاکستان جس کا ایک موقع پر اسکور4وکٹ پر 275تھا اور وہ بڑے اسکور کی جانب بڑھ رہا تھا کہ وینکٹ پرساد کے طوفانی اسپیل کے سامنے بیٹھ گیا،اس کی آخری 6وکٹیں اسکور میں صرف11رنزکا اضافہ کرسکیں اور اننگ 286پر تمام ہوگئی۔پرساد نے 33رنز کے عوض 6کھلاڑی آئوٹ کئے۔
بھارت کو جیت کے لئے 271رنزکا ہدف ملا لیکن 82تک اس کے 5کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے،اس موقع پر ٹنڈولکراورمونگیا نے سارے طوفان لپیٹ دیئے اور ایسی لمبی شراکت قائم کی کہ فتح پاکستان سے دور ہوتی دکھائی دی۔دونوں نے چھٹی وکٹ پر136رنزکاضافہ کر کے مجموعہ 218تک پہنچادیا تھا۔بھارت53رنزکی دوری پر تھاکہ وسیم اکرم نے مونگیا کو 52پر آئوٹ کردیا لیکن اس کے باوجود بھی کوئی فائدہ نہ ہوا کیونکہ بھارت نے اسکور 6وکٹ پر 254 تک پہنچادیا تھا ا،اب کامیابی صرف 17رنزکی دوری پر تھی اور ٹنڈولکر سمیت 4وکٹیں موجود تھیں۔یہاں ثقلین مشتاق کی جادو گری کام دکھا گئی،انہوں نے136رنزبنانے والے ٹنڈولکر کو وسیم اکرم کے ہاتھوں کیچ کروادیا۔بھارت کے ساتھ پھر وہی ہوا جو پاکستان کے ساتھ دوسری اننگ میں ہوا تھا،اس کی آخری 4وکٹیں 4رنزکے اندر گرگئیں جن میں سے 3ثقلین نے لیں،بھارتی اننگ 258پر سمٹ گئی۔پاکستان 12رنز سے جیت گیا۔اس بار ثقلین نے 93 رنز دے کر 5 اور میچ میں 187رنزکے عوض 10 وکٹیں لی تھیں۔
بھارت کو آخری لمحات میں فتح سے دور کرنے،پاکستان کو کامیابی دلوانے میں ثقلین کا بنیادی ہاتھ تھا،پھر 10وکٹیں ان کے کریڈٹ پر تھیں،ٹرننگ پوائنٹ کا سبب بنے بلکہ فتح و شکست کے بنیادی فرق بنے لیکن کیا کریں کہ بھارتی جیوری نے پہلی اننگ میں صفر اور دوسر ی میں بے فائدہ 136رنزبنانے والے سچن ٹنڈولکرکو مین آف دی میچ قرار دے دیا ،حالانکہ شاہد آفریدی کی 141کی اننگ ان سے بڑی تھی۔
بھارت شکست تو نہ ٹال سکا لیکن پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ زبردستی اپنے نام کرلیا۔
شاہد آفریدی 2010 میں اسی تاریخ کو آسٹریلیا کے خلاف پرتھ کے ون ڈے میچ میں بال کترتے ہوئے پکڑے گئے،بعد میں انہیں2 ٹی 20 میچز کے لئے معطل کیا گیا،وہ محمد یوسف کی عدم دستیابی کے باعث کپتانی بھی کر رہے تھے۔
( بشکریہ : کرک سین )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker