ممبئی : انڈیا کے سپرسٹار اور بالی وڈ کے ’سلطان‘ سلمان خان کا کہنا ہے کہ ’خواتین کا جسم مردوں کے جسم سے زیادہ قیمتی ہے اس لیے اس کی حفاظت یقینی ہونی چاہیے۔ ‘
یہ بات انھوں نے اتوار کو پیش کیا جانے والا معروف ٹی وی شو ’آپ کی عدالت‘ میں کہی۔پروگرام میں سلمان خان پر چار الزامات لگائے گئے کہ اس کی شروعات ان پر ڈبل سٹینڈرڈ کے الزام سے کی گئی کہ وہ خود تو فلموں میں شرٹ اتارتے ہیں لیکن خواتین کی قمیضوں کے کھلے گلے نہیں ہونے چاہیں اس کی تلقین کرتے ہیں۔
اس کے جواب میں سلمان خان نے کہا کہ ان کی فلمیں چونکہ فمیلیز ایک ساتھ دیکھتی ہیں اس لیے ان میں ایک تہذیب ہونی چاہیے۔اس شو میں انھوں نے ایک ٹی وی شو اپنی شادی سکیورٹی، فلموں اور فنکار برادری کے حوالے سے بات کی ہے۔
ان پر جب شرارتی ہونے کے الزامات لگائے گئے تو انھوں نے ایک دو واقعات سنائے۔ ایک فلم کرن ارجن میں شاہ رخ کے ساتھ پرینک کرنے کا پھر سلطان میں سکوٹر سے سیٹ سے غائب ہو جانے کی بات کہی جبکہ عامر خان کے ساتھ جنوبی افریقہ کے دورے میں گیت گانے اور سنجے دت کی چابی سمندر میں پھینک دینے کی کہانیاں سنائیں۔
شادی سے متعلق ان سے ہر شو پر سوال ہوتے ہیں اور وہ ہر اس کو ٹال جاتے ہیں لیکن انھوں نے اپنے انداز میں کہا کہ جب ہونی ہے ہو جائے گی اور یہ کہ ’کیا لوگ انھیں خوش دیکھنا نہیں چاہتے!‘انھوں نے کہا کہ جب بہت سے لوگ انھیں چھوڑ کر چلے گئے تو انھیں احساس ہو گیا کہ ان میں ہی کوئی غلطی ہے۔
سلمان خان کی سکیورٹی سے متعلق سوالات بھی کیے گئے۔ انھوں نے اس کے جواب میں کہا کہ ’ان کی سکیورٹی سے بہتر سکیورٹی۔‘
ان سے کہا گیا کہ وہ لا پروا ہیں اور یہ کہ انھیں سنجیدہ دھمکیاں مل رہی ہیں لیکن وہ انھیں سنجیدگی سے نہیں لیتے اور ہر طرح کی پارٹی میں شرکت کرتے ہیں چاہے وہ عید پارٹی ہو یا افطار پارٹی۔
سلمان خان نے کہا کہ اب وہ جہاں بھی جاتے ہیں سکیورٹی کی پابندی کرتے ہیں۔ انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے کے بعد حکومت نے وائی پلس سکیورٹی فراہم کی ہے۔
انھوں نے اس بارے میں اپنی حالیہ فلم ’کسی کا بھائی کسی کی جان‘ کا ایک مکالمہ دہرایا کہ بچنے کے لیے ہر بار خوش قسمت ہونا ہوتا ہے لیکن مارے والے کو بس ایک بار خوش قسمت ہونا پڑتا ہے۔
اس کے ساتھ انھوں نے کہا کہ اب ان کے ساتھ اتنی ساری بندوقیں چل رہی ہیں کہ اب خود بھی انھیں ڈر لگنے لگا ہے۔اس کے ساتھ انھوں نے کہا کہ اللہ حافظ ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بغیر سکیورٹی کے نکل جائیں۔
انھیں جان سے مارنے کی دھمکی کوئی 20 سال پرانی ہے جو کالے ہرن کے شکار کے معاملے کے بعد سے دی جا رہی ہے جبکہ حال ہی انھیں جو دھمکی دی گئی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ انھیں 30 اپریل تک مار دیا جائے گا۔
انڈین میڈیا کے مطابق ممبئی پولیس نے کہا کہ 10 اپریل کو ممبئی پولیس کے کنٹرول روم کو دھمکی آمیز کال کی گئی تھی۔ کال کرنے والے نے اپنی شناخت راکی بھائی کے طور پر راجستھان کے جودھ پور سے کروائی اور کہا کہ وہ گاؤ رکھشک (گائے کے محافظ) ہیں۔ کال کرنے والے نے 30 اپریل کو سلمان خان کو ’مارنے‘ کی دھمکی دی۔
ممبئی پولیس نے مزید بتایا کہ کال کرنے والا نابالغ پایا گیا تھا۔ این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایک افسر نے کہا: ’ابھی تک، ہمیں نہیں لگتا کہ کال کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ لیکن ہم اس بات کی جانچ کر رہے ہیں کہ نابالغ نے اس طرح کا برتاؤ کیوں کیا۔‘اس سے قبل 26 مارچ کو راجستھان کے جودھ پور ضلع کے لونی کے رہنے والے دھکڑ رام نامی ایک شخص کو سلمان کو دھمکی آمیز میل بھیجنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ اسے گرفتار کر کے حراست میں لے لیا گیا۔
ٌ ( بشکریہ : بی بی سی اردو )

