آنچلاختصارئےثمانہ سیدلکھاری

مہمان اللہ کی رحمت ؟ ۔۔ ثمانہ سید

“ہائے باجی کیا ہو گیا آپ کو،چنگی بھلی تو تھیں کچھ دن پہلے تک،”نجمہ نے باجی بشریٰ کی عیادت کرتے ہوئے کہا جنہیں دو ہی گھنٹے پہلے ایمرجنسی سے چھٹی دی گئی تھی۔ابھی وہ گھر بھی نہ پہنچی تھیں کہ ملنے والوں کا ایک ہجوم بندھ گیا تھا گھر پر۔خواتین،بچے،بڑے سب لوگ باجی سے ملنے آئے تھے ۔بیماری اور پھر ہسپتال کی ایمرجنسی ۔۔۔انسان کا ہوش اُڑانے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ مگر ہیں تو پھر بھی ہم سب انسان ہی کتنا ہی خوف کیوں نہ ہو ہم اپنی سرشت نہیں بھول سکتے۔۔۔
باجی بشریٰ ایک ادھیڑ عمر خاتون ہیں جن کے گھر بھی کچھ ایسا ہی ماحول ہے۔وہ کچھ دیر پہلے ہی ہسپتال سے واپس آئی ہیں۔اور ان کے آنے سے پہلے ہی مہمان ان کے گھر موجود ہیں۔
بشریٰ کی فیملی میں کل چار لوگ ہیں،دو بیٹیاں بیاہی جا چکی ہیں اور میاں بیوی اکیلے رہتے ہیں ماں کا سن کر بیٹیاں اپنے اپنے سسرال سے ماں کے پاس ہی آئی ہوئی ہیں۔ میاں تو مردانے میں بیٹھے ہیں جبکہ بیگم کا کمرہ خواتین سے بھرا پڑا ہے۔ نجمہ ان کی رشتہ داروں میں سے ایک ہے۔ وہ بھی ان سے ملنے بمہ کنبہ کے بڑی دور سے آئی ہے
اس نے بیٹھتے ہی باجی کے گلے میں بانہیں ڈال کر کہا،”باجی کی ہو گیا وے اچھے بھلے تو تھے ایک دو مہینے پہلے جب ملے تھے؟”
“کچھ نہیں بس کیا بتاؤں بیماریوں سے جان ہی نہیں چھوٹتی،بوڑھی ہو گئی ہوں نا بس کبھی ایک بیماری کبھی دوسری۔۔۔۔۔مجھے تو پتہ بھی نہیں کب میں بے ہوش ہوئی اورکب عاتکہ کے بابا مجھے ہسپتال لے کر گئے” بشریٰ نے بستر پر سیدھےلیٹتے ہوئے کہا۔ 60 سالہ باجی کچھ تھکی اور کچھ کچھ پیلی محسوس ہو رہی ہے۔اوپر سے مہمان خواتین ہیں کہ اٹھنے کا نام بھی نہیں لےرہیں ۔ اس کی ایک بیٹی مہمانوں کی خاطر مدارت کی خاطر باورچی خانے میں ہی بیٹھ رہی ہے اور دوسری ماں کے پیر دبانے میں مصروف ہے۔
“ہائے باجی بڑی گرمی ہے تیرے کمرے میں،پنکھا نہ تیز کر لوں میں” نجمہ نے گلے پر سے چادر ٹھیک کرتے ہوئے کہا پھر ادھر ادھر دیکھنے لگی۔”یہ روبینہ کدھر ہے۔۔۔آج پوچھا نہیں ہمیں ؟”
بشریٰ اس کا اشارہ سمجھ گئیں پھر اپنی بیٹی سے بولیں،”اٹھ نی عاتکہ جا روبینہ کےساتھ مدد کر کچھ چائے پانی لا،دیکھ نا مہمان آئے ہیں اتنی دور سے۔”
“جی ماں” عاتکہ نے اٹھتے ہوئے ادب سے کہا۔
“ہاں باجی سچی کہتی ہو۔قسمے گلا سوکھا جا رہا ہے کچھ پینے کے واسطے ہونا چاہیے” نجمہ نے اپنا گلا پکڑ کے بے بس سا منہ بنایا جیسے وہ برسوں کی پیاسی ہو۔”لیکن دیکھو عاتکہ، سادہ پانی نہ ہوئے۔۔وہ میں نے پی لیا تھا رستے میں۔اور عاقب کے لیے کالی بوتل اور عاطف کے لیے ہری والی وہ دوسری نہیں پیتے۔ان کے ابا تو کھانا ہی کھائیں گے سیدھا پھر چائے شائے۔۔۔۔”
“ہاں،زہر ڈال کر لاتی ہوں تیرے لئے” عاتکہ نے دل میں کہا۔وہ پچھلی رات سے جاگی ہوئی تھی،اوپر سے ماں کی بیماری کا غم۔انسان کا کب دل کرتا ہے کسی اور چیز پر۔ وہ بے دلی سے اٹھی اور اپنا جوتا ڈھونڈنے لگی۔
“سنو بیٹا،مجھے بھی بوتل منگوا دینا،کافی دیر ہوئی پہلی پئے۔مجھے تو بہت پسند ہے نا بوتل،” رضوانہ آنٹی کہاں پیچھے رہنے والی تھیں۔
“ہاں سنو عاتکہ ڈئیر،میری منی بھی مانگ رہی کب سے اور بوتل،پلیز ایک گلاس اس کا بھی۔۔۔”فرحین بھی بولی۔
“جلدی جا سب کے لیے بوتل کا انتظام کر۔کدھر رہ گئی ہے تیری بڑی بہن۔اسے کہہ لے بھی آئے” ماں نے شرمندگی سے کہا۔
“ماں، ابھی تو دی ہیں۔اور منگوا رہی ہو گی نا باجی “عاتکہ نے کہا۔
“جا جلدی دیکھ فر کدھر رہ گئی۔مہمانوں کو دیکھو تم لوگ میری خیر ہے بیٹا۔”
“ہاں بیٹا شاباش جلدی جاؤ اور سنو،میں رنگین بوتل نہیں پی سکتی۔۔۔نہ گرم پسند مجھے۔قسمے بی ہی نہیں جاتی۔مجھے ٹھنڈی دینا۔بیچ میں بے شک برف کی ڈلیاں بھی ہو جائیں تو” نجمہ نے ہاتھ ہلا ہلا کر اپنی فرمائیشیں بتائیں۔
“اور کچھ آنٹی جی؟” عاتکہ نے چڑ کر کہا۔
“نہیں بس یہی کہ جلدی لے آؤ اور میرے منڈوں کو بھی دے دینا شاباش جلدی کرو”
اللہ اللہ کر کے بوتلوں سے تواضع مکمل ہوئی تو روٹی کا ٹائم آ گیا۔کچھ لوگ تو مہمان خانے سے جا چکے تھے اور کچھ بیٹھے تھے۔نجمہ نے بھی کچھ دن رہنا تھا اور یہ ظاہر تھا کہ روٹی ان کو ضرور پیش کی جاتی مگرصبر ان کی طبیعت میں نہ تھا لہٰذابولیں۔”اے بیٹا روٹی کب کھاتے ہو؟”
“آنٹی ابھی بنانے لگے ہیں۔ہس وہ اماں بیمار ہیں نا۔سو روٹی کا ہوش ہی کہاں۔۔۔”
“ہائے بیٹا میں تو رہ ہی نہیں سکتی۔قسمے میرا تو بلڈ ہی لو ہو رہا ہے۔پلیز جلدی کرو کچھ دو مجھے تو۔۔۔” نجمہ باقاعدہ باورچی خانے میں جا گھسی تھیں۔انہیں اس سے غرض نہیں تھی کہ بشریٰ کی طبعیت سنبھل نہیں رہی تھی۔بس انہیں مطلب تھا تو روٹی سے” ہائے عاتکہ روٹی کتھے ہے؟”
“آنٹی ابھی نہیں بنائی۔ابھی میں امی کے لیے پرہیزی کھانا بنا رہی ہوں”
” اماں کو بھی دے دو مگر چل پترمجھے تو بنا دو نا جلدی سے قسمے دل بیٹھا جا رہا میرا تو۔دیکھ تیرے گھر بہت دور سے آئے ہیں تیری ماں کا پتہ لینے ورنہ آج کل کے دور میں کون ملتا کسی سے”
عاتکہ کا دل کیا کچھ سنا دے مگر کیا کریں مہمان تھیں اور وہ تو اللہ کی رحمت ہوتے ہیں۔ اوپر سے اس کی امی کی عیادت کے لیے آئی ہوئی تھیں۔سو منہ بند رکھ کر آنٹی نجمہ اور ان کے کنبے کا خوب خیال رکھا گیا۔حتیٰ کہ باجی بشریٰ نے آئندہ بیماری کے عالم میں بھی بیمار ہونے سے توبہ کر لی۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker