شاہد مجید جعفریلکھاریمزاح

تخلیق کی پریاں ، دیسی پمپی اور بینگن ۔۔ شاہد مجید جعفری

پیارے پڑھنے والو یہ قصہ ہے واں کا جب آتش ابھی جواں تو نہیں ۔۔۔۔ البتہ سکول میں ضرور پڑھ رہا تھا۔۔ اور آپ سے کیا پردہ ۔۔۔ بندہ سکول میں ۔۔ پڑھتا کم اور ماسٹر حضرات سے مار زیادہ کھایا کرتا تھا وجہ وہی اپنا موٹا مغز کہ جس میں کوئی چیز مشکل سے ہی سماتی تھی۔۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ بندے میں ایک اور بات بھی بدرجہء اُتم موجود تھی اور وہ یہ کہ اول تو میرے موٹے مغز میں کوئی چیز سماتی ہی نہ تھی ۔۔ لیکن ایک دفعہ جو چیز اس میں گھس جائے تو پھر وہ مشکل سے ہی نکلا کرتی تھی۔ اس کے علاوہ اپنے سکول میں مجھے یہ اعزاز بھی حاصل تھا کہ ماسوائے ایک کے ۔۔۔۔ میں بلا ناغہ ہر مضمون کے ٹیچر سے مار کھایا کرتا تھا اور وہ مضمون کہ جس میں مجھے بہت کم مار پڑتی تھی ۔۔۔۔ وہ اردو کا تھا ۔۔۔۔ اور اس میں میرا کوئی قصور نہیں بلکہ یہ اللہ کی شان تھی کہ میرے جیسے کوڑھ مغز کو بھی اردو میں تھوڑی بہت دلچسپی تھی اور آپ یہ سن کر مزید حیران ہوں گے کہ میں اس کلاس میں کبھی بھی سویا ہوا نہیں پایا گیا تھا بلکہ اُلٹا میں اردو کی کلاس کو پوری دل چسپی اور لگن کے ساتھ اٹینڈ کیا کرتا تھا۔۔۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ ہمارے اردو کے ماسٹر صاحب کے پڑھانے کا انداز بڑا ہی دل نشین اور دل کش تھا اتنا دل کش کہ ان کی بتائی ہوئی ایک ایک بات مجھ جیسے کوڑھ مغز کے سر کے اوپر سے شاں کر کے گزرنے کی بجائے ۔۔۔ سیدھی دل میں جا اترتی تھی ۔۔۔ ایک دن کی بات ہے کہ موسم بڑا سہانا تھا آسمان پر ہلکے ہلکے بادل چھائے ہوئے تھے اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی سہانے موسم کی وجہ سے ماسٹر صاحب جو کہ پہلے ہی کافی رومینٹک واقع ہوئے تھے موسم کی وجہ سے اور بھی رومینٹک ہو گئے تھے چنانچہ اس دن انہوں نے کورس سے ہٹ کر محبت سے متعلق بہت اچھا لیکچر دیا اور اس کے ساتھ ساتھ شعراء حضرات کے بہت اچھے اچھے اشعار بھی سنائے جو کہ ہم لڑکوں کو بہت پسند آئے ( پریشان نہ ہوں کبھی ہم بھی لڑکے تھے) ویسے بھی ہماری وہ عمر کچھ ایسی تھی کہ اس عمر میں کورس کے علاوہ ہر بات اچھی لگتی تھی چنانچہ ماسٹر صاحب کے منہ سے اتنے خوب صورت ا شعار سن کر ان کے ایک چہیتے سے رہا نہیں گیا اور وہ جھٹ اپنے ٹاٹ سے اُٹھا اور کہنے لگا۔۔۔۔ ماسٹر جی ! شعرا حضرات اتنے اچھے اچھے شعر کیسے لکھ لیتے ہیں؟ اپنے ہونہار شاگرد کی بات سن کر ماسٹر صاحب کہنے لگے کہ ایسے شعر تو نہیں ہاں اگر آپ لوگ بھی اپنے اندر غور و فکر کی عادت ڈالیں تو ان سے بھی اچھی اچھی باتیں اور شعر لکھ سکتے ہیں اس پر وہ چہیتا کہنے لگا۔۔ لیکن ماسٹر صاحب ہم لوگ غور و فکر کیسے کریں ؟ تو اس پر ماسٹر صاحب موج میں آ کر بولے۔۔ وہ اس طرح میرے بچے کہ جب آپ کسی تنہا جگہ پر بیٹھ کر ۔۔۔ آنکھیں موند کر غور و فکر کرتے ہیں تو ایسے میں آسمانوں سے تخلیق کی پریاں غول کے غول اترتی ہیں جس کی وجہ سے ۔۔۔ آپ اچھی اچھی باتیں اور شعر کہتے ہیں اس کے بعد انہوں نے تخلیق کی پریوں کے بارے میں کچھ ایسی لفاظی کی ۔۔کہ بقول غالب ۔۔ ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا۔۔۔۔۔ بن گیا آخر رقیب جو تھا راز داں اپنا ۔۔۔۔والا معاملہ ہو گیا۔۔۔۔۔۔ پھر ماسٹر صاحب نے ادھر ادھر کی کچھ اور باتیں بھی کیں ۔ لیکن حرام ہے جو ہم نے ان پر ذرا بھی توجہ دی ہو۔۔۔ بلکہ ہمارا تو سارا دھیان آسمان سے اترنے والی تخلیق کی پریوں کی طرف تھا ۔اب آپ سے دوسری دفعہ بھی کیا پردہ ۔۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ ہمارا مزاج لڑکپن سے نہیں بلکہ بچپن سے ہی عاشقانہ تھا چنانچہ ماسٹر صاحب کے منہ سے پریوں کا نام سن کر آپ ہی آپ نہ صرف یہ کہ ہماری باچھیں کھل گئیں تھی بلکہ من ہی من میں باقاعدہ رالیں بھی ٹپکنا شروع ہو گئیں تھیں ۔۔۔۔اور پھر میں یہ سوچنے لگا کہ آنکھیں موند کر بیٹھنے سے پریوں کے غول نہ سہی ۔۔ اگر ایک آدھ پری بھی ہاتھ لگ گئی۔۔۔ تو ۔۔۔ اپنی موجیں لگ جائیں گی ۔۔۔ یہ سوچ آتے ہی میں نے دل ہی دل میں تہیہ کر لیا کہ چاہے کچھ بھی ہو۔۔۔ میں نے آسمان سے اترنے والی ایک نہ ایک پری کو ضرور قابو کر نا ہے۔

چنانچہ اس دن سکول سے گھر آتے ہی میں نے اپنے بستے کو ایک طرف پھینکا ۔۔ اور پھر سیدھا دھریک کے نیچے بچھی چارپائی پر جا کر بیٹھ گیا۔۔۔ ابھی مجھے آنکھیں بند کیئے تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ میں نے کانی آنکھ سے آسمان کی طرف دیکھا کہ کہیں کوئی پری تو نہیں نیچے اُتر رہی؟؟ ۔۔۔لیکن وہاں مطلع صاف تھا اور مجھے کوئی چیز بھی نیچے اترتی دکھائی نہ دی۔۔۔۔ چنانچہ میں نے یہ سوچ کر دل کو تسلی دی کہ پریاں شاید نیچے آنے کے لیئے میک اپ وغیرہ کر رہی ہوں گی اسی لیئے لیٹ ہو گئی ہیں یہ خیال آتے ہی میں نے ایک بار پھر سے اپنی آنکھیں بند کر لیں ۔لیکن آنکھیں بند کرتے ہی ۔۔۔۔ اچانک مجھے خیال آیا کہ اگر دھریک کے نیچے کوئی پری اتری تو لا محالہ اس پر بے بے (امی) کی نظر ضرور پڑے گی ۔۔کیونکہ دھریک سے تھوڑی دور ہی تو ہمارا کچن واقعہ تھا ۔۔ پھر یہ سوچ کر کہ اگر اترنے والی پری پر بے بے کی نظر پڑ گئی۔۔۔۔ تو ؟؟؟؟؟ بے بے کا خیال ذہن میں آتے ہی ۔۔۔ مجھے ٹھنڈی تریلی آ گئی اور پھر میں نے فیصلہ کر لیا کہ صحن کی بجائے میں کہیں ایسی جگہ پر جا کر بیٹھوں کہ جہاں کوئی آتا جاتا نہیں ۔۔ چنانچہ یہ سوچتے ہی میں وہاں سے اُٹھا اور ادھر ادھر دیکھتے ہوئے سیدھا سٹور روم میں گھس گیا کہ جہاں پر گھر والوں کی آمد و رفت کم ہی ہوتی تھی۔۔۔

سٹور میں پہنچ کر میں نے اطمینان کی سانس لی اور پھر ایک مناسب سی جگہ دیکھ کر وہاں آنکھیں مُوند کے بیٹھ گیا۔اور پری کے آنے کا انتظار کرنے لگا ۔۔ وہاں بیٹھے ہوئے ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے کوئی مجھے آوازیں دے رہا ہے۔۔ لیکن میں نے اسے اپنا وہم جانا اور بدستور اپنی آنکھیں موندے آسمان سے اترنے والی خوب صورت پری کا انتظار کرنے لگا کہ عین اسی وقت میرے سر پر ایک پٹاخہ سا پھوٹا ۔۔۔ سر پر پٹاخہ پھوٹتے ہی میں نے گھبرا کر اپنی آنکھیں کھولیں اور سامنے دیکھا تو پری کی بجائے۔۔۔۔ ہاتھ میں دیسی پمپی لیئے بے بے حضور شعلہ بار نظروں سے مجھے گھور رہی تھیں۔۔۔ انہیں یوں اپنے سامنے کھڑا دیکھ کر مجھے سمجھنے میں ذرا بھی دیر نہ لگی کہ میرے سر پر پھوٹنے ولا پٹاخہ اسی پمپی کا شاخسانہ تھا کہ جسے بے بے حضور نے میرے سر پر بطور آلہ ء ضرب کے استعمال کیا تھا ۔۔۔۔ اور ابھی اور مارنے کو تیار بیٹھی تھیں ۔۔ اسی دوران میرے کانوں میں ان کی دھاڑتی ہوئی آواز سنائی دی وہ میری شان میں قصیدہ پڑھتے ہوئے کہہ رہی تھیں کہ ۔۔۔۔۔اتنی دیر سے تمہیں آوازیں دے رہی ہوں اور تم نواب صاحب یہاں سوئے پڑے ہو۔۔۔۔ بے بے کی بات سن کر میں نے کمزور سی آواز میں منمناتے ہوئے کہا کہ جی میں سو تو نہیں رہا تھا۔۔۔ بلکہ میں تو ۔۔۔۔ ابھی میں نے اتنا ہی کہا تھا کہ ایک بار پھر بے بے کی دھاڑتی ہوئی آواز فضا میں گونجی وہ کہہ رہی تھیں چل اُٹھ اور مجھے شام کے کھانے کے لیئے بازار سے بتوؤں (بینگن ) لا کر دو ۔۔ بےبے کے منہ سے بتوؤں ( بینگن ) کا نام سن کر میری طبیعت خاصی مکدر ہو گئی ۔۔۔۔۔ اور میں سوچنے لگا کہ ۔۔۔ کہاں خوب صورت ، خوب رو ، خوش ادا ، دل کشا ، دل ربا، دل نشیں ماہ جبیں غنچہ دہن شیریں سخن پری ۔اور کہاں بد صورت بد رنگ کالے بھجنگ بتوؤں ( بینگن) ۔۔افسوس کہ کوئی جوڑ نہیں بنتا تھا لیکن۔۔۔ پھر ایک نظر بے بے کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی دیسی پمپی پر ڈالی۔۔۔ کہ جسے ابھی ابھی انہوں نے میرے سر پر بطور آلہء ضرب کے استعمال کیا تھا اور ان کا موڈ بتا رہا تھا کہ اگر میں نے مزید کوئی ہیچر میچر کی تو اگلی دفعہ وہ اس آلہء ضرب کو آلہء قتل کے طور پر بھی استعمال کر سکتی تھیں چنانچہ یہ سوچتے ہی میں نے اپنے چہرے پر ایک ڈپلو میٹک قسم کی مسکراہٹ سجائی اور اس کے ساتھ ہی میں اور بے بے ایک پیج پر آ گئے اور میں دل ہی دل میں پری سے معذرت کرتا ہوا بیگن لینے بازار کی طرف چل نکلا۔۔۔۔

پھر اس کے بعد میری یہ عادت ہو گئی تھی کہ میں سکول سے سیدھا گھر آتا اور پھر بستہ رکھ کر روٹی کھانے کے بعد ۔۔۔۔ سیدھا سٹور روم میں جا گھستا ۔۔۔اور پھر اپنی آنکھوں کو موند کر پری کے انتظار میں بیٹھ جاتا ۔۔۔ دوستو۔۔۔ جس طرح عشق اور مُشک چھپائے نہیں چھپتے ۔۔۔ اسی طرح جلد ہی میری یہ حالت نہ صرف بےبے بلکہ ہمسائی پر بھی ظاہر ہو گئی۔۔ ایک دن کی بات ہے کہ سکول سے واپسی پر میں کچن میں بیٹھا کھانا کھا رہا تھا کہ اتنے میں وہی ہمسائی جو کہ امی کی دوست بھی تھی اور اکثر ہی ہمارے گھر پائی جاتی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ میری حرکات و سکنات پر بھی گہری نظر رکھتی تھی امی سے کہنے لگی کہ آپاں ۔۔ تمہارا یہ بچہ ہر وقت ہی سٹور میں گھس کر سویا رہتا ہے کہیں اس پر کوئی سایہ تو نہیں ہو گیا۔۔۔؟ یا ” شریکوں” نے کوئی تعویز وغیرہ تو نہیں کروا دیئے؟ ہمسائی کی بات سن کر بےبے نے چونک کر میری طرف دیکھا اور پھر بڑی فکر مندی سے کہنے لگیں ۔۔۔ شک تو مجھے بھی یہی ہے کہ اس سے پہلے بھی “شریک ” ہم پر بہت سے وار کر چکے ہیں چنانچہ اس کے بعد دونوں خواتین کی اس یک نکاتی ایجنڈے پر کچن کا نفرنس منعقد ہوئی اور پھر باہمی مشاورت سے یہ طے پایا کہ عصر کی نماز کے بعد بڑے بھائی صاحب کے ہاتھ مجھے دم کروانے کے لیئے مولوی صاحب کے پاس بھیجا جائے گا ۔۔۔۔
پھر اسی شام بڑے بھائی صاحب مجھے اپنے ساتھ بغرضِ دم اور دافع رد و بلا بجائے امی کے بتائے ہوئے مولوی صاحب کے پاس لے جانے کے۔۔۔ ( کہ ان کی مسجد ہمارے گھر سے خاصی دور واقع تھی ) ۔۔۔۔ قریب کی مسجد کے اس مولوی صاحب کے پاس لے گئے جو کہ ایک ایسے مسلک سے تعلق رکھتے تھے کہ جو تعویز گنڈوں اور دم وغیرہ کے سخت خلاف تھے وہاں جا کر بھائی جان نے انہیں ساری صورتِ حال سے آگاہ کرنے کے بعد امی کا بتایا ہوا خدشہ ظاہر کیا کہ کہیں مجھ پر کوئی جنات کا سایہ تو نہیں ؟؟؟ ۔ بڑے بھائی کی بات سن کر مولوی صاحب کے من میں جانے کیا آیا کہ انہوں نے میرا تھوبڑا پکڑ کر بھائی صاحب کے سامنے کرتے ہوئے کہا ۔۔۔ بیٹا اس کی صورت کو دیکھ کر ایمانداری سے بتاؤ ۔۔کہ کیا اس قسم کی شکل پر کسی جن کا سایہ ہو سکتا ہے؟ ۔۔۔۔ پھر بھائی صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگے ۔۔۔ ذرا اس کے منہ کو غور سے دیکھو تو معلوم ہو گا ۔۔ کہ تمہارے بھا ئی کی شکل بھوت سے کتنی ملتی ہے ۔ اب اس جیسے بندے سے چمٹ کر کسی جن کو بھلا کیا حاصل ہو گا؟ ۔۔۔۔اس کے بعد انہوں نے بھائی صاحب کو ایک لمبا سا لیکچر دینے کے بعد وہاں سے بھگا دیا-

دوستو اگرچہ یہ بات بہت پرانی ہو گئی ہے اتنی پرانی کہ اب تو اس کی مونچھیں بھی نکل آئی ہیں ۔۔۔ لیکن میرے دل میں ابھی بھی پری کو پانے کی خواہش کہیں موجود ہے اس لیئے ۔۔۔ گاہے اب بھی جب کبھی میں آنکھیں موند کے بیٹھتا ہوں ۔۔۔ تو ۔۔۔۔ ماسڑ صاحب کی بتائی ہوئی تخلیق کی پریاں تو کبھی نہیں اتریں ۔۔ ہاں البتہ کوئی نہ کوئی بل ضرور آ جاتا ہے کبھی بجلی کا کبھی گیس کا اور کبھی۔۔۔۔۔۔۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker