آنچلاختصارئےثمانہ سیدلکھاری

پاناما لیکس نہ ڈان لیکس ، بس پیمپر لیک ۔۔ ثمانہ سید

حاضرین و غیرحاضرین! آج جس موضوع پر ہم جو بات کرنے جا رہے ہیں اس نے پاکستان میں کیا دنیا بھر میں کروڑوں افراد کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔موضوع پر ہزاروں کالم،تبصرے،تجزیے،بحث و مباحثے آپ پہلے ہی پڑھ اور سن چکے ہیں۔۔۔لیکن ایک اینگل پرابھی تک بہت کم بات یا شاید سرے سے بات ہی نہیں کی گئی اور وہ ہےعوام کا اینگل،جوکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں (زبانی کلامی ہی سہی) ۔ جن سے متعلق ہیں یہ لیکس اور جن کا بنیادی حق ہے کہ وہ اپنی اپنی مرضی سے اپنی زندگی سکون سے گزاریں۔مگر جب سیاست عوام کو تنگ کرنے لگے تو کیا فائدہ ایسی سیاست کا۔یہی ایک عام آدمی سوچتا ہے اور اس کی رائے کو اہمیت دینا بھی بہت ضروری ہے۔کیونکہ جناب آپ جدھر چلے جائیں آپ کو عوام ہی تو ملے گی وہ غریب عوام جو دو وقت کی روٹی، محض سردی،گرمی کے کپڑے اور سرپر چھت کو ترس جاتی ہے۔ وہ عوام جو سخت محنت مزدوری کر کے جب شام کو گھر آ کر کھانا کھانے بیٹھتی ہے تو سامنے پڑے ٹیلی وژن پر اس کی تنخواہ بڑھنے، روٹی،کپڑا سستا ہونے،اس کے بچے کی فیس کم ہونے،اسے روزگار ملنے یا آسان اور سادہ اقساط پر گھر ملنے کی خوشخبری کی بجائے “پاناما لیکس،ڈان لیکس،یہ لیکس،وہ لیکس” کی کہانیاں کانوں میں سنائی جاتی ہیں۔ ابھی کل ہی کی بات لیجئے میں بس میں بیٹھی ایک عمر رسیدہ بزرگ خاتون سے ملی۔گرمی کی شدت سے ان کا جسم پسینے سے شرابور،دوپٹہ مٹی سے میلا اور چہرے پر اداسی کی لکیروں کے جال بنے ہوئے تھے۔غفورہ کا تعلق ایک سفید پوش گھرانے سے تھا اور وہ ڈھلتی عمراور تیزی سے گرتی صحت کے باوجود لوگوں کے گھروں میں جا جا کر ٹیوشن پڑھانے پر مجبور تھیں۔ ٹی وی،میڈیا سے دلچسپی ہونے کے باعث انہوں کے خود ہی پاناما لیکس پر بات شروع کی۔ میں چونکہ تھکی تھی اور سارا دن یہی موضوع سن سن کر تنگ آ چکی تھی سو میں نے ہوں ہاں سے زیادہ کوئی جواب نہ دیا۔ ان کی 12 سالہ بیٹی ساتھ ہی تھی،ماں کی باتیں ساری باتیں سن کر بولی،”تو امی پاناما لیکس ہے کیا آخر؟”
“در۔۔۔سب سننے کے بعد بھی تجھے نہیں سمجھ آیا” نہیں، بچی نے جواب دیا۔۔۔”ویسے تجھے کیا کرنا پوچھ کر” ویسے ہی ماں،ایک دن سامنے والوں سے مٹھائی جو کھائ تھی نا۔”
“او ہاں،کوئی نہیں بیٹا۔ تو ایسے سمجھ لے کہ تیرا ابا جیسے میرے سے پیسے کہاں سے آئے کا سوال کرتا رہتا ہے ویسے ہی ایک بچہ ہے اس کا ابا بھی سوال کرتا ہے۔اور کبھی اس سے پیسوں میں سے کچھ حصہ بھی مانگ لیتا ہے۔سو بچے نے ابے سے چھپ کراپنے ایک دوست کو پیسے رکھوا دئیے ہیں۔”
“ہائے اماں،تو ہمیں کیوں رونا پڑا ہوا ہے؟” “بیٹا، رونا تو پڑنا بھی چاہئے مگر افسوس یہ ہے کہ سب ٹوپی ڈرامہ ہے۔نہ بچے کو کچھ کہنا کسی نے،نہ بچے نے ماننا کچھ اور نہ کوئی حل نکلنا۔بس پسیں گے تو ہم۔۔۔۔”
غفورہ کا یہ اینگل میرے لیے حیران کن تھا۔ میں نے جھٹ پوچھا وہ کیسے؟
“بیٹا!ہم نہ کسی پارٹی کے ہیں،نہ ہمیں سیاست کا کچھ پتہ ہے۔آخر ہمیں اپنے مسئلوں سے نجات ملے تو ہم ان پر دھیان دیں نا۔انصاف کی بات کرتے ہیں۔آخر انصاف کس چڑیا کا نام ہے؟کیا تم نے دیکھی کبھی؟دیکھو تم بھی میرے ساتھ سفر کرتی ہو روز وین پر۔۔۔ذرا فیصلے کا نام لیا جاتا ہے تو پولیس ہمارے راستے بند کر دیتی ہے،وین والے ہمیں بٹھاتے نہیں،سنگنل ہمارے بند کر دیتے ہیں کہ لو بیٹا اورخوار ہو سڑکوں پر۔۔اور اگر ایسا نہ ہو تو دھرنے والے تیار ہوتے ہیں روڈیں بند کرنے کے لیے۔۔۔ہڑتالوں کے لیے۔۔۔لڑائی جھگڑوں کے لیے۔۔۔۔ایسے انصاف کا اچار ڈالنا ہم نے۔”
“ہوں۔۔۔۔”میں بس یہی کہہ سکی۔کیونکہ بات تو سچ تھی مگر بات تھی رسوائی کی۔۔۔
“پچھلے دنوں میں اس نئی “لیک” کے بارے میں سن رہی تھی۔ایک ادھر سے بیان دیتا ہے،دوجا اس کے جوابی بیان دیتا ہے،تیسرا اس سے الگ ہی مطلب نکالتا ہے اورپھر اگلے دن “صلح صفائی” کے نام پر بیان واپس لے لیا جاتا ہے۔۔۔۔جیسا کہ آج کیا گیا۔۔۔۔۔سارا دن یہ تماشا خبروں اور ٹی وی پر چلتا رہتا ہے اور عوام بھی لگے رہتے ہیں ان کی باتیں سننے۔۔۔ جن کا نہ کوئی نتیجہ،نہ کوئی اختتام۔نہ کوئی ہمیں فائدہ۔مزا تو جب آئے ہمارے لیے کوئی کام کی بات کی جائے۔” آنٹی مزید بولیں۔۔۔۔”یاد ہے فیصلہ آنا تھا پاناما کا۔۔۔۔آیا پھر؟ بس ایسے ہی چلے چلو میاں۔۔۔۔۔ نہ کچھ ہونا ہے نہ کچھ ہو گا۔الٹا عوام ہی پستی۔شور و شغل لگائے رکھتے سارا دن۔۔۔”بریکنگ نیوز” کے نام پر اور آخیر کیا ہوتا۔۔۔۔بس پیمپر لیک!!!”

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker