رضی الدین رضیکالملکھاری

ہم جسے زندگی سمجھتے ہیں : سخن ور کی باتیں / رضی الدین رضی

ہمیں بھلا کب معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے جیون کا کون سا پل کہاں گزارنا ہے ۔ کبھی تو یوں ہوتا ہے کہ ہم کئی کئی برس تک کوشش کے باوجود ان بہت سے شہروں میں قدم نہیں رکھ پاتے ، جہاں جانے کی ہمیں خواہش ہوتی ہے اور جہاں ہمارے بہت سے دوست بھی موجود ہوتے ہیں ، اور وہ اصرار کر رہے ہوتے ہیں کہ ملاقات کی کوئی سبیل نکالو ، کچھ دیر کے لئے معمول کی مصروفیات سے باہر آ جاﺅ ۔ لیکن ہم ٹھہرے کولہو کے بیل ، سو ہمیں اپنے دائرے سے باہر آنے کی کبھی کوئی خواہش ہی نہیں ہوتی۔ پھر اچانک ایک روز کسی شہر سے بلاوا آتا ہے ۔ یہ بلاوا تو کسی دوست کے ذریعے ہی آتا ہے ، لیکن اس بلاوے پر ہم اپنی تمام مصروفیات بالائے طاق رکھ کر اس شہر کی جانب روانہ ہو جاتے ہیں ، اور اس لئے روانہ ہو جاتے ہیں کہ اس مرتبہ کسی دوست کی معرفت خود اس شہر نے ہمیں آواز دی ہوتی ہے ۔ سرگودھا کے ساتھ ہماری دیرینہ وابستگی ہے ، کم و بیش 34برس پرانی وابستگی ۔ ڈاکٹر وزیر آغا اور ڈاکٹر انور سدید کے ساتھ ہمارا زمانہ طالب علمی میں ہی رابطہ ہوا تھا ۔اور اس کے بعد اسی شہر کے اور بہت سے قلم کاروں کے ساتھ قلمی رابطہ رہا۔ ہم نے اس تمام عرصہ کے دوران بارہا سرگودھا جانا چاہا ، مگرہم کوشش کے باوجود وہاں نہ جا سکے کہ خود سرگودھا نے ہمیں آواز نہیں دی تھی ۔ کوئی ایک ماہ قبل ہم پہلی بارڈاکٹر عامر سہیل کی دعوت پر سرگودھا گئے تو ہمیں گمان بھی نہیں تھا کہ یہ شہر ایک بار پھر ہمیں آواز دے گا اور ہم جو پینتیس برسوں کے انتظار کے بعد پہلی بار سرگودھا پہنچے تھے 35روز بعدہی دوبارہ اس شہر میں ہوں گے ، نہ صرف اس شہر میں ہوں گے بلکہ زندگی میں پہلی بارہم اپنے جنم دن کا استقبال بھی ملتان کی بجائے کسی اور شہر میں کریں گے اور وہ شہر بھی شاہینوں کا ہو گا ۔ یونیورسٹی آف لاہور سرگودھا کیمپس کے شعبہ اردو نے گزشتہ ہفتے ایک کل پاکستان مشاعرے کا اہتمام کیا تو شعبہ کے سربراہ اور ہمارے ملتانی بھرا ڈاکٹر علمدار حسین بخاری نے ہمیں بھی مدعو کر لیا ۔ بخاری صاحب کی دعوت میں محبت کے ساتھ حکم اور ہلکی سی دھمکی بھی شامل تھی ۔ ہماری کیا مجال تھی کہ ہم جلال پور پیر والا کے سید بادشاہ کے جلال کی تاب لاتے، ہاں البتہ شاکر حسین شاکر یہ تاب لانے کا ہنرخوب جانتے ہیں ۔ سو ہم مقررہ تاریخ پر سرگودھا میں تھے ۔ اور اس مرتبہ سرگودھاکے اس مشاعرے میں کشش یہ تھی کہ ہماری کئی برسوں بعد محترم افسر ساجد اور غلام حسین ساجد صاحب سے بھی ملاقات ہونے جا رہی تھی ۔ افسر ساجد نے سٹی مجسٹریٹ کی حیثیت سے ملتان میں طویل عرصہ گزارا ۔ ایک زمانے میں ملتان اور گرد و نواح میں ہونے والی بیشتر ادبی تقریبات کے روح رواں افسر ساجد ہی ہوتے تھے ۔افسر ساجد اس مشاعرے میں شرکت کے لئے فیصل آباد سے سرگودھا آئے تھے ۔ غلام حسین ساجد بھی کئی برس ملتان میں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے ۔وہ ان دنوں لاہور میں ہیں اور حلقہ ارباب ذوق کے جنرل سیکریٹری کی حیثیت سے ادبی جمود توڑنے کے لئے سرگرم ہیں ۔ مشاعرے کی صدارت غلام حسین ساجد نے کی ۔ مہمان خاص افسر ساجد ، ڈاکٹر ضیاءالحسن ، اور محترمہ حمیدہ شاہین تھیں سٹیج پر ارشد ملک، یونس خالد اور گلفام نقوی بھی موجود تھیں ۔ مشاعرے کی نظامت سید مرتضیٰ حسن شیرازی اور رقیہ شبیر کے ذمہ تھی ، اور انہوں نے یہ مشکل کام بہت سہولت کے ساتھ انجام دیا ۔ڈاکٹر علمدار بخاری نے استقبالیہ کلمات میں بتایا کہ اس مشاعرے کے انعقاد کا سہرا شعبہ اردو کے تمام اساتذہ خاص طور پر ڈاکٹر ساجد جاوید کے سر ہے ۔ مشاعرہ رات گئے تک جاری رہا سیالکوٹ ، لاہور ، اور سرگودھا کے نوجوان شعراءنے بھر پورانداز میں مشاعرے میں شرکت کی اور اپنی خوبصورت شاعری پر داد بھی سمیٹی ۔ اور اسی مشاعرے کے دوران وہ لمحہ آگیا کہ جب ہم غزل سناتے ہوئے جیون کے نئے سال میں داخل ہو گئے ۔ شعر سنانے کے بعد اپنی نشست پر واپس آئے تو فون پر مبارک باد کے بہت سے پیغامات اور محبت بھری دعائیں ہماری منتظر تھیں ، پیغامات اور فون کالز کا سلسلہ مشاعرے کے بعد بھی جاری رہا ، جب ہم اپنے عزیز دوست عاطف مرزا کے ساتھ سرگودھا کے ایک بازار میں چائے اور ان کی گفتگو سے سرشارہو رہے تھے ۔ یہ دعائیں خاص طور پر درازیء عمر کی ڈھیروں دعائیں وصول کرنے کے بعد ہم مشاعرے کے ماحول سے باہر آئے اور اس سوچ میں گم ہو گئے کہ جس معاشرے میں ہم سانس لے رہے ہیں وہاں کسی کو درازی عمر کی دعا دینا ”دعا “کے زمرے میں بھی آتا ہے یا نہیں۔ ہم نے یہ جیون جس حال اور جس رنگ میں گزارا ، اور گزار رہے ہیں اس میں مبارک باد والی تو کوئی بات ہی نہیں ۔ ہم نے کہیں یہ سوال اٹھایا تھا کہ جسے ہم زندگی سمجھتے ہیں وہ زندگی بھی ہے یا نہیں؟ اور اگر واقعی زندگی ہے تو کس کی ہے؟ کہیں ایسا تونہیں کہ ہم جسے اپنی زندگی سمجھتے ہیں وہ زندگی ہی کسی اور کی ہو اور ہم اسے صرف بسر کرنے پر مامور ہوں؟ جنم دن کے موقع پر یہ اور ایسے بہت سے سوالات دوبارہ بہت سے سوالیہ نشانات کے ساتھ سامنے آگئے۔ دوستوں کی محبتیں اپنی جگہ، ان کے خلوص سے بھی ہمیں انکار نہیں۔ لیکن اپنی ذات سے یہ سوال تو کرنا چاہیے کہ ہم نے آخر ایسی کون سی زندگی گزاری کہ جس پر مبارکباد ضروری تھی۔جیون کے یہ سال ہمیں تاش کے بکھرے ہوئے پتوں کی طرح دکھائی دیتے ہیں اوران پتوں میں ایک پتا حکم کا ہے جس نے ہمارے سارے جیون کو رائیگاں کر دیا۔ غلامی کے یہ سال گزارنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ ہم جیسے لوگ اگر اس دنیا میں نہ بھی آتے تو کاروبار دنیا میں کوئی فرق نہ پڑتا۔ ہم نے یہ سارا سفر طفل تسلیوں میں ہی گزاردیا۔ زندگی کی معنویت اور رشتوں کا بھرم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ختم ہوتا چلا گیا۔ پھر اچانک یہ خیال آیا کہ یہ مبارکباد کا لمحہ تو ضرور ہے اوراس لیے ہے کہ ہم نے زندہ نہ ہونے کے باوجود زندہ رہنے کا ڈھونگ رچایا۔ ہم مرنے کے باوجود دفنائے نہ جا سکے۔ ہم سچ بولنے کے باوجود جھوٹے کہلائے اور اس کے باوجود خود کو سچا سمجھتے رہے۔ مبارک باد تو بہت ضروری ہے اوراس لیے ضروری ہے کہ جس معاشرے میں روزانہ بہت سے لوگ خودکشی کرلیتے ہیں ، اس معاشرے میں ہم جیسے بزدل بہت بہادری کے ساتھ زندہ ہیں۔ جی ہاں، ہمیں مبارکباد دیجئے کہ ہم غلام ہو کربھی خود کو آقا سمجھتے ہیں اور وہ جو ہمارے آقا ہیں وہ تمام تر کوشش کے باوجود ہمیں اپنی غلامی میں نہیں رکھ سکے۔ محبت کبھی ایک جذبہ ہوتا تھا لیکن وقت کی روانی نے اس کی سچائی کو بھی دھندلا دیا۔ اب محبت بھی ثبوت مانگتی ہے۔ لفظوں کی محتاج ہوگئی ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ جذبے کسی اظہار کے بغیر دل سے دل تک کا سفر کرتے تھے۔ مبارکباد دیجئے کہ محبت کا یہ جادو بھی ختم ہو گیا۔ محبت کو محبت کرنے والوں نے ہی برباد کر دیا۔ کس نے ہمیں چاہا اور کسے ہم نے چاہا؟ یہ کہانی بے معنی ہوچکی ہے۔ لیکن محبت ہی وہ بنیادی جذبہ ہے جو اب بھی جینے کا حوصلہ دیتا ہے اور اذیت کے چند اور سال جینے کی خواہش بیدارکرتا ہے۔ سب کچھ گنوا کر بھی ہم نے ان بکھرے ہوئے برسوں کے دوران محبت کے جذبے کو سنبھال کر رکھا۔ اوراس لیے سنبھال کر رکھا کہ ہم خود نہیں بکھرنا چاہتے تھے۔ زندگی کتنی ہی اذیت ناک اور رائیگاں کیوں نہ ہو یہ پھربھی بہت خوبصورت ہوتی ہے اور اس لیے خوبصورت ہوتی ہے کہ اس کے پہلو میں کہیں موت بھی موجود ہوتی ہے۔ موت زندگی کو خوبصورت بناتی ہے۔ اورہمیں مبارک باد دیجئے کہ موت نے بچپن سے ہی ہمارا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا۔ ہمیں مرنے نہیں دیا۔ ایک ایسے ماحول میں کہ جب سب کچھ دکھاوا بن چکا ہے اورایک ایسے ماحول میں کہ جب ماں سے محبت بھی کسی ایک دن کی محتاج ہو گئی ہے اور مدرز ڈے کے موقع پر اپنی ماں کی توہین کرنے والے بھی اس کے ساتھ تصویریں بنواکر فیس بک کی زینت بنا رہے ہیں۔ ہمیں یہ کہنے دیجئے کہ بے شمار مبارکبادوں اور درازی عمر کی دعاﺅں میں اگر دکھاوا بھی موجودہے۔ اگر یہ سب کچھ فیشن بھی بن چکا ہے تو ہم اسے قبول کرتے ہیں۔ مبارک باد دینے والوں میں اگر کوئی ایک شخص بھی ایسا ہے جس نے خلوص اور محبت کے ساتھ ہمیں مبارک باد دی ہے تو اس کے طفیل ہم ان سینکڑوں دعاﺅں اورمبارک بادوں کو قبول کرتے ہیں اوراس یقین کے ساتھ قبول کرتے ہیں کہ یہ سب دعائیں اور مبارکبادیں محبت کا پھیلاﺅ ہیں اور ہم صرف محبت پر یقین رکھتے ہیں۔اور اس لئے یقین رکھتے ہیں کہ محبت ہمیں شعر عطا کرتی ہے اور ہم شعر پڑھتے ہوئے جیون کے نئے سال میں داخل ہو جاتے ہیں ۔ شاہینوں کے شہر میں شاعروں کے درمیان ۔
(بشکریہ:روزنامہ خبریں)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker