اختصارئےثمانہ سیدلکھاری

روحیں ، بابے ،علمِ غیب اور داخل کی آواز : آخر یہ سب کیا ہے ؟ ۔۔ ثمانہ سید

کمیونیکیشن، یعنی ابلاغ، آگہی یا سادہ الفاظ میں کہیں تو بات چیت کے بہت سے طریقے ہوتے ہیں، جیسے وربل (بول چال کے ذریعے) ، نان وربل، اشاروں وغیرہ کے ذریعے لکھ پڑھ کر اور سماعت کے ذریعے ۔مگر عمومی طور پر اس کے لیے دو طریقے استعمال کیے جاتے ہیں، یعنی بول چال اور اشاروں کے ذریعے سے اپنی بات دوسرے کو پہنچانا یا کمیونیکیٹ کرنا۔
وربل میں اپنی بات سمجھانے کے لیے ہم آوازوں اور الفاظ اور جملوں
کا استعمال کرتے ہیں۔جیسے عام بول چال میں ہوتا ہے۔ اور نان وربل کمیونیکیشن وہ جس میں اپنی بات سمجھانے کے لیے اشاروں، باڈی لینگوئج اور بعض اوقات ‘اداؤں’ کا سہارا لیا جاتاہے۔ صحافت کی کتب میں اس کی بڑی اچھی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ اس کی اور بھی بہت سی صورتیں ہیں مگر ابلاغ محض انہی طریقوں کا محتاج نہیں ۔ اس کے اصل معنی مجھے اب جا کر سمجھ آتے ہیں۔ دیکھا جائے تو اصل کمیونیکیشن تو یہ ہے ہی نہیں جو ہمارے سامنے ہے۔ یہ تو شاید اصل کمیونیکیشن کا آدھ یا چوتھائی حصہ بھی نہ ہو۔ اور اس ابلاغ کو تو ہم میں سے اکثر لوگ سمجھ بھی نہیں سکتے اور شاید آدھے لوگوں کا ایمان بھی نہ ہو مگر ابلاغ کی وہ صورتیں موجود ہیں اور سمجھنے والے کو اپنی موجودگی کا احساس دلاتی رہتی ہیں۔ کیا کبھی آپ نے سمجھا ہے کہ مردہ مرنے کے بعد کہاں جاتا ہے اور کیسے اپنے اہل وعیال کو تسلی دیتا ہے کہ وہ خوش یا نا خوش ہے؟ یا پیدا ہونے سے پہلے بچہ ماں کے پیٹ میں اسے کیسے بھوک، پیاس کا احساس دلاتا ہے؟ یہ خواب کیا ہوتے ہیں؟ یہ عالموں، عاملوں، جادوگروں، پیروں کے پاس موکل کہاں سےآتے ہیں اور ان کی ان سے کیسے بات چیت ہوتی ہے؟ میرے اور آپ جیسے انسان کے دل میں کسی مستقبل میں آنے والی مصیبت یا حادثے کے بارے میں کیسے ’اشارے‘ مل جاتے ہیں؟ یہ الہام کیسے ہوتے ہیں؟ یہ ‘دل کو دل سے راہ’ کیسے پیدا ہو جاتی ہے؟ یہ دل کو کیسے پتہ چل جاتا ہے کہ سچ کیا ہے جھوٹ کیا ہے؟
ہم اچانک بات بے بات۔۔۔۔ بے چین کیسے ہو جاتے ہیں؟ اور جس کے بارے میں دل اداس ہوتا ہے وہ بھی ہمیں کچھ دیر بعد کال کر کے یہی کہتا ہے کہ بہت دل اداس ہوا تم سے بات کرنے کے لیے۔ یہ قیامت کے دن کی نشانیاں کیسے نظر جاتی ہیں؟ اور یہ روحیں کیا ہے؟ یہ روحانیت سے منسوب انسان معتبر روحوں سے باتیں کیسے کرتے ہیں؟ یہ بابوں کو اچھی اور بری بو کیسے آنے لگتی ہے اور وہ مختلف انسانوں میں سے نکلتی ہوئی روشنیوں، ان کی فریکیونسیز اور وائیبز کیسے دیکھ لیتے ہیں؟ یہ یوگی حضرات منفی و مثبت انرجی کیسے بھانپ لیتے ہیں ؟ پھر یہ ٹیلی پیتھی اور مانیٹ گیمز کیا ہیں؟ یہ دماغ کو لے کر سائنس ابھی تک ششدر و پریشان کیوں بیٹھی ہے؟ اور یہ ضمیر کیوں بڑبڑاتا رہتا ہے ہر وقت؟ یہ سب کمیونیکیشن ہے بھیا، وربل، نان وربل یا پھر ان دونوں سے اوپر! کبھی جو فرصت ہو تو اس فارم کو سمجھنے کی غرض سے چپ کر جانا۔ چپکے سےاپنے ارد گرد سے آنے والی تمام آوازوں اور آہٹوں کو غور سے سننا اور ان میں چھپے احساسات کو سمجھنے کی کوشش کرنا۔پھر ان احساسات کے پیچھے چھپی وجوہات کو پڑھنا ۔۔۔خودہی پردے ہٹنے لگیں گے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker