کالمکھیللکھاری

سمیع چوہدری کا کالم: انڈیا کا ورلڈ کپ اور ‘پاکستان’ میزبان

سنہ 2009 میں سری لنکن ٹیم پر افسوسناک حملے کے بعد ایک ہی لمحے میں یہ طے پا گیا تھا کہ انٹرنیشنل کرکٹ اب جلد پاکستان لوٹنے کی نہیں۔ تین مختلف چئیرمینز کی کاوشوں اور قریب نو سال کی پے در پے مشقت کے بعد کہیں جا کر یہ ممکن ہو پایا کہ پاکستان کے میدان آباد ہوں۔
رواں سیزن پاکستان کرکٹ بورڈ خوشی کے مارے پھولا نہیں سما رہا تھا کہ اوائل ہی میں جنوبی افریقہ جیسی ہائی پروفائل ٹیم کی میزبانی کے بعد اب نیوزی لینڈ اور انگلینڈ بھی آنے والے تھے۔
اور پھر وہ دن آ بھی گیا کہ جب نیوزی لینڈ کی ’بی‘ ٹیم تمام تر کورونا پروٹوکولز سے استثنیٰ پا کر ریاستی مہمان کی حیثیت سے پاکستان وارد ہوئی اور قوم کی دبی دبی مسکراہٹیں ذرا کھلنے لگیں۔ میڈیا واقعی ’پگلا‘ سا گیا۔ صرف پاکستان کی سر زمین پر قدم رنجہ فرمانے کے بدلے ہی کیوی پلیئرز کی بلائیں لی جا رہی تھی۔
مگر اُس جمعے کی سہ پہر پاکستان کرکٹ پر وہ بجلی گری جو شاید 2009 کے سری لنکن ٹیم والے سانحے سے بھی کڑی تھی۔ پی سی بی چِلاتا رہ گیا کہ سب ٹھیک ہے، وزیرِ اعظم عمران خان نے ذاتی طور پر کیوی ریاست کی سربراہ کے ’ترلے‘ تک کر ڈالے مگر سب بھینس کے آگے بِین کی مانند ثابت ہوا۔
دیکھنے کی بات یہ ہے کہ جو سیکیورٹی اور جیسی ’پیمپرنگ‘ کیوی ٹیم کو دی جا رہی تھی، وہ ویسی ہی تھی جو غالباً امریکی صدر جو بائیڈن کو پاکستان کے دورے پر دی جاتی۔ مگر اس ساری مہمان نوازی اور خاطر داری کے باوجود کیوی حکومت نے یہ طے کر لیا کہ وہ پاکستان کرکٹ کو معتبر نہیں ہونے دیں گے۔
یہ ہے وہ بے توقیری اور بے قدری بلکہ ’بے عزتی‘ کا احساس، جو اس ورلڈ کپ میں بابر اعظم کی ٹیم کے لیے اصل مہمیز ثابت ہو گا۔
گو بطور چیئرمین رمیز راجہ کی نہایت چُست پالیسیوں نے اس ڈریسنگ روم کا سارا ماحول ہی تلپٹ کر چھوڑا ہے اور کھلاڑی شاید اب اس ’کمفرٹ زون‘ میں نہ ہوں جو وہ پچھلی انتظامیہ کے ساتھ محسوس کرنے لگے تھے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ٹیم پاکستان کی جانب سے یہ ورلڈ کپ ایک تذلیل کے جواب میں کھیلا جائے گا اور انتظامی چہروں کی تبدیلیاں شاید اس طرح سے اثر انداز ہی نہ ہوں۔
سنہ 2009 کے سانحے نے پاکستان کے مقدر میں جو کچھ لکھ دیا تھا، اس میں یہ بھی تھا کہ دبئی، شارجہ اور ابوظہبی کے گراؤنڈز کو ہی تاحکمِ ثانی پاکستان کا ’ہوم وینیو‘ کہا جائے۔
آج شروع ہونے والا یہ ورلڈ کپ دراصل آسٹریلیا کی میزبانی میں کھیلا جانا تھا مگر چونکہ پچھلے برس کا ایونٹ کووڈ بحران کی نذر ہو گیا تو انڈیا نے آئی سی سی سے اپنے معاملات ’سیدھے‘ رکھنے کو کہا کہ بھئی پہلے ہمارا ورلڈ کپ، پھر اس سے اگلا بھلے آسٹریلیا لے لے۔
سب کو مانتے ہی بنی۔
مگر تب انڈین کرکٹ بورڈ کے کسی نابغے کو یہ ادراک نہیں تھا کہ ایونٹ کے ایام میں انڈیا اور کووڈ کے بیچ کیا معاملہ چل رہا ہو گا۔ آئی پی ایل کے دوران جیسے ہی ببل پھوٹا، ورلڈ کپ ایک بار پھر انڈیا کے ہوم گراؤنڈز سے باہر جا گرا اور اس بار یہ ’پاکستان‘ کی میزبانی میں آ گرا۔
گو پی سی بی اس ایونٹ کا میزبان نہیں ہے مگر بالآخر دبئی، ابوظہبی اور شارجہ کے تین وینیوز وہی ہیں جو پچھلے ایک عشرے میں پاکستان کے ہوم گراؤنڈز رہے ہیں۔ اور سرفراز احمد کی قیادت میں پاکستانی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے عروج میں ایک بہت بڑا باب بھی امارات کی وکٹوں کے ہی نام رہا۔
یہ وہ وکٹیں ہیں جہاں کئی پاکستانی کرکٹرز نے اپنے کریئرز پروان چڑھائے۔ ان وکٹوں سے پاکستانی کھلاڑیوں کی اُنسیت کچھ ایسی ہے کہ جب ایک انڈین ٹی وی شو میں وسیم اکرم کو طعنہ دیا گیا کہ پاکستان کبھی تو ورلڈ کپ میں انڈیا سے جیت کر دکھائے، تو جواباً وسیم جھٹ بولے کہ انڈیا بھی کبھی تو ہم سے شارجہ میں جیت کر دکھائے۔
انڈین ٹیم کو اگرچہ اپنی ہوم کنڈیشنز کی عدم دستیابی کا غم ہو گا مگر وہ آئی پی ایل کی پریکٹس کو اپنے اعتماد کی بنیاد بنا کر آگے بڑھیں گے اور کچھ ایسی ہی تشفی انگلینڈ، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ بھی لے کر چلیں گے کہ ان کے بیشتر کھلاڑی بھی انہی وکٹوں پر ابھی مسلسل ڈیڑھ ماہ کھیلتے رہے ہیں۔
مگر یہ یاد رکھنا نہایت ضروری ہے کہ فرنچائز کرکٹ میں مسابقت کا معیار کسی بھی طور وہ نہیں ہوتا جو ورلڈ کپ جیسے ٹورنامنٹ کی بین الاقوامی کرکٹ میں ہوتا ہے۔ یہاں تکنیکی مہارت سے کہیں زیادہ اہمیت نفسیاتی پہلوؤں کی ہوتی ہے۔
پاکستانی کھلاڑیوں کو یہاں یہ ’برتری‘ حاصل ہے کہ اُنھوں نے آئی پی ایل نہیں کھیلی۔ سو، نہ ہی وہ اس ذہنی و جسمانی تھکاوٹ کے شکار ہوں گے جو آئی پی ایل جیسی لیگ اپنے سبھی شرکا کے لیے پیدا کر دیتی ہے اور نہ ہی وہ کسی گومگو میں رہیں گے کہ وہ آئی پی ایل کھیل رہے ہیں یا ٹاپ لیول کرکٹ۔
سنہ 2009 کے سانحے کے بعد صرف تین ماہ ہی بیتے تھے کہ یونس خان کی قیادت میں ’کارنرڈ ٹائیگرز‘ نے سبھی اندازوں کو مات دے کر ورلڈ چیمپیئن ٹائٹل جیت لیا تھا۔ نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے پی سی بی سے حالیہ رویّے کے بعد سیاق و سباق اس بار بھی کچھ ویسا ہی ہے۔
گو اضافی فائدہ اس بار یہ بھی ہے کہ انڈیا کی میزبانی میں طے شدہ ورلڈ کپ اب ’پاکستان‘ کے ہوم گراؤنڈز میں کھیلا جا رہا ہے۔
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker