چند روز سے شوربپا ہے کہ حکومت وقت نے انگریزوں کے ایجاد کردہ قوانین ختم کرنے کی ٹھان لی ہے جو اس سے پہلے کبھی کسی حکومت میں نہیں ہوا۔ حتی کہ ہندوستان جو ہمارے ساتھ ہی آزاد ہواتھا وہاں بھی انگریزوں کے قائم کردہ قوانین کوپوری طرح سے ختم نہیں کرسکے۔ تاثر یہ پیدا کیاگیا کہ وہ ناقص ہیں۔ ہوسکتا ہے ان قوانین سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہورہے ہوں کیونکہ تقریباً اٹھارہویں صدی کے نافذ کردہ ہیں۔
مگر قارئین گرامی ہوسکتا ہے آپ میری رائے سے اتفاق کریں کہ گوروں نے جب یہ قوانین اس خطے پر لاگو کیے تویہ بھی خیا ل رکھا کہ ان کی خلاف ورزی نہ ہونے پائے۔ ہمارے بزرگ بتاتے رہے ہیں کہ انگریز جب یہاں تھے تو اکیلی عورت زیورپہن کر رات کوبھی سفر کرسکتی تھی۔ منصف کو احساس تھا کہ جس کرسی پربیٹھا ہے وہ امانت ہے۔ پولیس کے پاس اختیارات تھے۔ پولیس کے فرائض کی انجام دہی میں کوئی مداخلت کی جرات نہیں کرسکتا تھا۔ کل ہی میرے ایک عزیز بتارہے تھے کہ ان کے علاقے میں ایک گروہ ہرطرح کی وارداتوں میں ملوث ہے حتی کہ ایک روڈ ڈکیتی میں ایک شخص کی جان بھی لے چکے ہیں۔ ایک نوجوان پولیس آفیسر تعینات ہوا تو اس گروہ کے سرغنہ کوگرفتار کرکے تھانہ لے جایاگیا مگراسی روز ایک سیاسی شخصیت ایک الزام علیہ کو تھانے سے نہ صرف رہا کروا کے لے گئی بلکہ ایف آئی آر بھی نہیں ہونے دی ۔
اب آپ نتیجہ خود اخذ کریں کہ غلطی کہاں پر ہے۔ یہ ایک شہر کی کہانی نہیں ہے ہرجگہ یہی مداخلت ہے۔ انتہائی کم تنخواہ میں کام کرنے والا پولیس ملازم جس کی ذمہ داری صرف سرکاری ڈیوٹی نہیں ،بیوی بچے اوربوڑھے والدین بھی ہوسکتے ہیں۔ مگر سکول، ہسپتال میں اسے کوئی سہولت میسر نہیں۔ ملتان کی ساٹھ لاکھ شہری آبادی کےلئے تیرہ چودہ تھانے دوڈھائی ہزار پولیس کی نفری ہے اور یہ لوگ وی آئی پی لوگوں، ججز وغیرہ کی پروٹوکول ڈیوٹی سے بھی نبردآزما ہیں۔ سولہ گھنٹے کی مسلسل ڈیوٹی اور قلیل تنخواہ ،سیاسی شخصیات اپنے مطلب کاایس ایچ اوراپنے علاقے میں تعینات کرواتی ہیں اوریہ ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔
تونتیجہ یہ نکلا کہ پولیس سے آپ احسن طریقے سے ڈیوٹی کرنے کی توقع باندھ بھی کیسے سکتے ہیں جس ملک میں ٹریفک سگنل توڑکر ایک بندہ بڑی دلیری سے فون ملارہا ہوتا ہے کہ اس ٹریفک وارڈن کی خبرلو کہ مجھے اس نے روک رکھا ہے۔ اسی ملتان میں ایک ایم این اے کا بھانجا غریب ٹریفک کانسٹیبل کی ٹانگوںپر گاڑی چڑھا کر اس کی ہڈیاں توڑ چکا ہو کہ اس نے روکنے کی جرات کیسے کی۔جس ملک میں کبھی کوئی بچہ رکشے میں دم توڑ گیا ،کبھی رکشہ میں ہی عورت نے بچے کوجنم دیا کہ وی آئی پی کے پروٹوکول میں سڑک بند تھی۔ وہاں قوانین کاغذ کے پرزوں پر لکھے آڑے ترچھے الفاظ کے سوا کچھ بھی نہیں۔
مان لیا بی اے پاس ایس ایچ او تعینات کیاجائے گا کیا اس بی اے پاس کی ڈیوٹی میں مداخلت نہیں کی جائے گی۔ تمام قوانین پہلے سے موجود ہیں مگران کے نفاذ میں خود حکومتی لوگ رکاوٹ رہے۔ جس ملک میں قانون کی میعاد سماعت شروع ہی سے نافذ ہے ،پھرمقدمات میں تاخیر کیوں ہے۔ اس قانون کی موجودگی میں تاریخ پہ تاریخ کیوں مذاق بن گئی۔ تونتیجہ یہ اخذ ہوا کہ سقم قوانین میں نہیں ان کے نفاذ میں ہے۔ وکلاءکی چونکہ کوئی لگی بندھی تنخواہ نہیں وہ روزی کے چکر میں تاخیر کاباعث بن جاتے ہیں۔ ان کی فیس سے متعلق ضابطہ اخلاق کی ضرورت ہے۔ دوسرے ملکوں میں مقدمات کم ہیں اس کی بڑی وجہ اس قانون کی موجودگی ہے کہ اگر کسی نے جھوٹا مقدمہ دائر کیا تو اسے وکیل کی فیس اور حکومت کو ہرجانہ الگ اورجس کے خلاف جھوٹا مقدمہ کیا اس کوہرجانہ علیحدہ ادا کرناپڑے گا۔ یہاں شوقیہ اینٹی کرپشن میں درخواستیں خاص طورپر سرکاری ملازمین کوتنگ کرنے کارواج عام ہے۔ بلاشبہ حکومت کا یہ اقدام کہ پرانے قوانین سے جان چھڑا لی جائے احسن ہے مگراصل ضابطہ اخلاق ان کے نفاذ کےلئے ضروری ہے۔ میرے بزرگ بتاتے ہیں کہ ایک وقت تھا کہ گاﺅں میں پولیس آجاتی تو خوف پھیل جاتا ،ایک رعب ایک دبدبہ تھا مگر سیاسی مداخلت نے سب ختم کردیا کہ آج انہیں دیکھ کر یہ امیج بنتا ہے کہ یہ ہمارے معاشرے کاسب سے کرپٹ ادارہ ہے یہ نوبت کیوں آئی یہ آپ سوچئے۔
قارئین گرامی ،بہت دکھ کے ساتھ یہ الفاظ کاغذ کے سینے پر اتاررہی ہوں کہ میرے وطن کااستاد دوسرے ملکوں کے استادجیسا نہیں ہے ۔اگرآپ پڑھنے کی طاقت رکھتے ہوں تو شاید اگلی تحریرمیں لکھنے کی جسارت کرسکوں۔ بہت سے واقعات ہیں کہ میرٹ کی دھجیاں کیسے اڑائی جاتی رہیں۔نیب، احتساب عدالت، کچھ بھی نام دے لیں ۔ایک حقیقت خبر نہیں اس پر روناچاہیے یا خوش ہونا بنتا ہے کہ ایک چور ایک کرپٹ سے کہا جائے کہ بھائی جان آپ نے جس طرح بھی کمایا کوئی بات نہیں پلی بارگین کاقانون موجودہے ۔16کروڑ اکاﺅنٹ میں ہیں دوکروڑ عنایت فرمادیں آپ بری الذمہ ہیں۔جسٹس کاظم علی کی ویڈیو نظر سے گزری۔ آپ سنیں کہ کس طرح ان کے دور میں چھ سو قتل کے مقدمات صرف ایک سال کی مدت میں مکمل ہوئے کہ کیس میں صرف تین صورتوں میں تاریخ دی جائے کہ دوران سماعت جج کاانتقال ہوجائے یاملزم وفات پاجائے اور اس کی موت کی تصدیق کی تاریخ دی جائے ۔یا وکیل فوت ہوجائے تونئے وکیل کےلئے پیشی دی جائے۔ اس وقت ایس ایس پی سکھیرا صاحب تھے جوآئی جی پنجاب بھی رہے کہ تمام ایس ایچ اوز کوبلایا او ر کہا کہ کوئی جج یہ نہ لکھے کہ ریکارڈ نہیں آیا، سسٹم کودرست کرنے کی ضرورت ہے۔ بک کوالزام نہ کرو، قوانین کوفنکشنل کرنے کے لیے تگ ودو کی جائے۔ سب درست ہوجائے گا۔
توقارئین گرامی ہم اپنی اپنی جگہ یہ درستگی کی کوشش کرلیں سب ٹھیک ہوجائے گا۔
فیس بک کمینٹ

