اہم خبریں

کابل ائیر پورٹ پر افراتفری ، بھگدڑ اور فائرنگ سے سات افراد ہلاک

کابل : برطانیہ کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ کابل ایئرپورٹ کے باہر ہجوم میں سات افغان باشندوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔ طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد سے وہاں موجود متعدد افراد افغانستان چھوڑنے کے لیے بیتاب دکھائی دیتے ہیں۔وزارتِ دفاع کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ’اس وقت وہاں کی صورتحال خاصی چیلنجنگ ہے لیکن ہم اس پر قابو پانے کے لیے وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو ہم کر سکتے ہیں۔
طالبان کی جانب سے کابل پر قبضے کے بعد سے ایئرپورٹ کے باہر افراتفری کے مناظر دیکھنے میں آئے ہیں اور اکثر افغان باشندے اور غیرملکی شہری افغانستان سے انخلا کی کوششوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ اس وقت حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 4500 امریکی فوجی تعینات ہیں اور 900 برطانوی فوجی ایئرپورٹ کی حفاظت اور گشت کے لیے موجود ہیں۔طالبان کی جانب سے ایسے افغان شہریوں کو ایئرپورٹ میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے جن کے پاس سفری دستاویزات موجود نہیں ہیں۔
روئٹرز نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ طالبان نے اتوار کو کابل ایئرپورٹ کے ارد گرد افراتفری کے ماحول پر مزید سخت احکامات نافذ کر دیے ہیں، جس کی وجہ سے ایئرپورٹ کے مرکزی دروازوں کے باہر باقاعدہ قطاریں لگ گئی ہیں۔عینی شاہدین نے بتایا کہ موسم صاف ہوتے ہی کسی الجھن یا تشدد کی اطلاع نہیں ملی۔ ان کے مطابق صبح سویرے لمبی قطاریں لگ گئیں۔
روئٹرز کے مطابق، نیٹو اور طالبان حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کے بعد سے کم از کم 12 افراد ہوائی اڈے کے رن وے پر یا اس کے ارد گرد ہلاک ہو چکے ہیں۔عینی شاہدین نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ کچھ فائرنگ سے اور کچھ بھیڑ کے دباؤ سے ہلاک ہوئے۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker