نامور صحافی ،شاعر اوردانشور شبیرحسن اخترکی11 ویں برسی آج منائی جاری ہے ۔شبیرحسن اختریکم ستمبر1928ءکوجام پورمیں پیداہوئے ۔ان کے والدکیفی جام پوری خودبھی ماہر تعلیم اورنامور شاعر تھے ۔شبیرحسن اختر جام پوری نے جام پورسے میٹرک کاامتحان پاس کیا۔ایف اے ،بی اے کے بعد وہ تدریس سے وابستہ ہوئے اورمسلم ہائی سکول ملتا ن میں فرائض سرانجام دیتے رہے۔شبیر حسن اخترنے ایم اے کاامتحان پنجاب یونیورسٹی لاہور سے 1962میں پاس کیا۔وہ روزنامہ امروز سے 30برس تک وابستہ رہے اوریہاں انہوں نے نیوز ایڈیٹر ،کالم نگار اورمیگزین انچارج کے طورپرخدمات سرانجام دیں رہے۔امروز کی بندش کی بعد وہ سرائیکی ریسرچ سنٹر زکریایونیورسٹی سے وابستہ ہوئے ۔شبیرحسن اختر نے فریدشناسی اورتاریخ وادب کے حوالے سے چارکتابیں ترتیب دیں ۔جن میں ملتان اردوکی جنم بھومی قابل ذکرہے ۔24جنوری 2007ءکو وہ دل کادورہ پڑنے سے انتقال کرگئے ۔
بدھ, جون 24, 2026
تازہ خبریں:
- سید مجاہد علی کا تجزیہ : ایرانی صدر کا دورہ پاکستان کو کیا ملے گا ؟
- محرم، کربلا اور ایران میں مزاحمت کی سزا : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- بابا فرید کا عرس : بہشتی دروازے پر بھگدڑ میں 89 افراد زخمی ، 25 کی حالت تشویش ناک
- ماہ رنگ بلوچ کو سزا : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- گوادر میں سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کے مقدمے میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا
- کراچی : تیز رفتار گاڑی مجلس عزا کے دوران امام بارگاہ کے احاطے میں جا گھسی 20 افراد زخمی
- کُکّڑ دی لَت اور پپو دا چُوچا : سہیل وڑائچ کا کالم
- 9 مئی کے بھوت سے کب نجات ملے گی؟ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- بنوں بم دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد سات ہو گئی
- روسی ناول:ایک فکری اور ادبی سفر : ڈاکٹر صلاح الدین حیدر کی نئی کتاب شہزاد عمران خان کا اختصاریہ

