ایوب خان کی صدارتی انتخابات میں محترمہ فاطمہ جناح کے مقابلے میں کامیابی کے بعد جشنِ فتح کے لیے نکالا جانے والا جلوس اُردو بولنے والوں اور کراچی میں آباد پشتونوں کے درمیان لسانی فسادات کی وجہ بنا-شہربھر میں پھوٹنے والے لسانی مسلح فسادات کے دوران 14 افراد اپنی جان کی بازی ہارگئے 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے اورتقریبا دو ہزار افراد بے گھر ہوگئے تھے
صدر ایوب خان کی متعارف کردہ بنیادی جمہوریت کے نظام کے تحت پہلے صدارتی انتخاب کا اعلان ہوا تو سیاسی جماعتوں نے ایک اتحاد قائم کر کے ایوب خان کی فوجی آمریت کے خاتمے کے لیے باقاعدہ تحریک کا آغاز کردیا تھا۔ 21 جولائی 1964 کو سابق وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کی قیام گاہ پر اتحاد کا اعلان کیا گیا۔ اس اپوزیشن اتحاد میں عوامی لیگ، نظام اسلام پارٹی، جماعت اسلامی اور کونسل مسلم لیگ شامل تھی۔ انتخابات میں جنرل ایوب خان کنونشن مسلم لیگ کے اُمیدوار تھے جب کہ ان کے مقابلے میں قائداعظم کی ہمشیرہ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو اپوزیشن نے صدارتی اُمیدوار کے طور پرنامزد کیا تھا۔ محترمہ فاطمہ جناح ان دنوں عملی سیاست کے بکھیڑوں سے دور زندگی بسر کر رہی تھیں لیکن اپوزیشن جماعتوں کے بے حد اصرار پر ایوب خان کے خلاف صدارتی الیکشن لڑنے پر راضی ہوگئیں۔ 2,جنوری کو صدارتی انتخاب میں کل چار امیدوار تھے اور اس انتخاب کا الیکٹرول کالج بھی وہی 80 ہزار بی ڈی ممبر تھے جنہوں نے پہلے ایوب خان کو ریفرنڈم کے ذریعے صدر منتخب کرایا تھا ان بی ڈی ممبر میں سے آدھے آدھے ممبران ملک کے دونوں حصوں یعنی مشرقی اور مغربی پاکستان سے تھے ۔ صدر ایوب خان کی سیاسی پارٹی کنوینشن مسلم لیگ تھی جس کا انتخابی نشان گلاب کا پھول تھا۔ محترمہ فاطمہ جناح کونسل مسلم لیگ کی امیدوار تھیں اور ان کا انتخابی نشان لالٹین ، کے ایم کمال کا بائسیکل اورمیاں بشیر کا انتخابی نشان ہوائی جہاز تھا۔
جسٹس ظہیر الحسن لاری کی رہائش گاہ ناظم آباد نمبر چارمیں اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس ہوتے تھے۔ ان اجلاسوں میں خواجہ ناظم الدین ، چوہدری محمد علی، حُسین شہید سہروردی،محمود الحق عثمانی اور دیگر اہم سیاسی شخصیات شریک ہوئیں تھیں۔ نیشنل عوامی پارٹی نے بھی ایوب خان کے مقابلے میں فاطمہ جناح کی بھرپور حمایت کی تھی جس کی وجہ سے فاطمہ جناح کی انتخابی حیثیت زیادہ مستحکم ہوگئی تھی۔ کراچی میں انتخابات کے حوالے سے گہما گہمی کا سماں تھا۔ کونسل مسلم لیگ کے رہنما جسٹس ظہیرالحسن لاری ،قاضی افتخار ایڈووکیٹ ، جماعت اسلامی کے امیر صابر حُسین شرفی بدایونی، عوامی لیگ کے رہنما منظور الحق ،اختر علی خان و دیگر نے فاطمہ جناح کی حمایت میں بھر پور انتخابی مہم چلائی تھی۔ جسٹس لاری کے بیٹے عقیل لاری مادر ملت کا انتخابی نشان بڑی سی لالٹین اپنی گاڑی پر لگاکر شہرکے مختلف علاقوں میں گشت کیا کرتے تھے۔ فاطمہ جناح کی کامیابی یقینی تھی مگر پھر ہر ضلعے کی انتظامیہ نے بی ڈی ممبران کو اغواء کیا۔ انھیں لالچ دی، کچھ کو گرفتار کیا گیا اور پھر ان اقدامات سے تسلی نہ ہوئی تو نتائج تبدیل کر دیے گئے۔ ایوب خان اور محترمہ فاطمہ جناح کے درمیان صدارتی انتخاب کے نتائج کا اعلان 3 جنوری 1965 کو کیا گیا تھا ۔ صدر ایوب کے حق میں49 ہزار 951 ووٹ اور فاطمہ جناح کے حق میں 28 ہزار 691 ووٹوں کا اعلان ہوا۔ بظاہر ایوب خان 21 ہزار 302 ووٹوں کی اکثریت سے جیت گئے تھے ، انتخابات میں ایم کمال اور میاں بشیر احمد نے بالترتیب 183اور64ووٹ حاصل کئے تھے ۔ اگر وہ انتخاب ایک آدمی ایک ووٹ کی بنیاد پر ہوتا تو محترمہ فاطمہ جناح کی کامیابی یقینی تھی جوصدارتی نظام کےبجائے پارلیمانی نظام کی حامی تھیں صدارتی انتخابات میں ڈھاکہ اور کراچی نے بھاری اکثریت سے صدر ایوب کے خلاف ووٹ ڈالے تھے۔
۔ایوب خان پر انتخابات میں خصوصاً مشرقی پاکستان اور کراچی میں دھاندلی کے شدید الزامات بھی لگے تھے۔5 جنوری 1965ء کو محترمہ فاطمہ جناح کے مقابلے میں صدر ایوب خان کی کامیابی کی خوشی میں کنونشن لیگ نے مُلک بھر میں جشن فتح یابی منایا۔ ان دنوں ملک کے دیگر شہروں کی طرح کراچی میں بھی دفعہ ایک سو چوالیس نافذ تھی تاہم اس وقت کے کمشنر کراچی روئیداد خان نے جو خود پختون تھے انھوں نے اس جلوس کے لئے پابندیاں نرم کردی تھیں جلوس کی قیادت سابق صدر ایوب خان کے صاحب زادے گوہر ایوب کررہے تھے۔ جلوس کے شرکا جیپوں،ٹرکوں ، بسوں ،ٹیکسی اور رکشوں میں سوار تھے۔ کراچی کے شہریوں نے کھل کر فاطمہ جناح کی حمایت کی تھی اس فتح یابی کے جلوس کو دیکھ کر مشتعل ہوگئے لیاقت آباد ،ناظم آباد ، گولیمار کے علاقوں میں جلوس کے شرکا اور شہریوں کے درمیان افسوسناک تصادم کاواقعہ پیش آیا ۔ والد گرامی سید شاہ محمد خلیل اللہ جنیدی مرحوم بتایا کرتے تھے کہ مہاجر پٹھان ہنگامہ آرائی والے روز وہ گجر نالے کے نزدیک اپنے دوست اسراراحمد (ابن صفی ) مرحوم کے گھر والدہ ،بہن اور بڑے بھائی کو لے کر گئے ہوئے تھے جہان انھیں ہنگامہ آرائی کی اطلاع ملی تھی ۔علاقے میں خوف وہراس پھیلا ہوا تھا ۔ وہ ابن صفی صاحب کے گھر سے نکل کر تیز تیز قدموں چلتے ہوئے مختلف گلیوں کا چکر کاٹ کر بچتے بچاتے گھر پہنچے تھے ۔اس واقعہ کے بعد پٹھانوں نے بدلہ لینے کے لیے رات کی تاریکی میں گجر نالے کی جھونپڑیوں میں آگ لگادی تھی اور مہاجر بستیوں پر بھی حملے کیے تھے اورمتعدد مکانات کو نذرآتش کردیا تھا۔ یہاں کے رہائشی افراد کوجانی و مالی نقصان اُٹھانا پڑا۔

معروف صحافی ،محقق خواجہ رضی حیدر کے مطابق اس واقعے میں گجر نالے پر زونل میونسپل کارپوریشن کے دفتر کے سامنے سائنٹسٹ ڈاکٹر اظہر علی خان کے گھر کو نذرآتش کردیا تھا۔ انکے صاحبزادے علی یاور نیشنل اسٹوڈنٹ فیڈریشن کے رہنما تھے ۔ ہنگامہ آ رائی کے دوران ڈاکٹر اظہر علی خان کا پٹھان چوکی دار ہلاک ہوگیا تھا۔ زونل میونسپل کمیٹی ضلع وسطی کے سامنے واقع اس مکان میں ان دنوں نجی اسکول قائم ہے۔ لیاقت آباد نمبر ایک کے رہائشی کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے سابق ایگزیکٹیو انجینئر سراج الدین کا کہنا تھا کہ مشتعل ہجوم نےایوب خان کے کھلم کھلا حامی مسلم لیگ کراچی ڈویژن کے جوائنٹ سیکریٹری اور لیاقت آباد کی معروف سیاسی شخصیت علی کوثر کا گھر بھی بھی جلا دیا تھا پولیس نے مداخلت کرکے علی کوثر اور انکے اہل خانہ کو بلوائیوں سے بچاکر محفوظ مقام منتقل کردیا تھا ۔ لیاقت آباد کے باسی معروف صحافی اسرار ایوبی نے بتایا کہ علی کوثر کا نذر آتش کیا جانے والا مکان سپر مارکیٹ اور مضراب سینما کے درمیان واقع تھا ۔اس واقعہ کے بعد 7 جنوری کو ڈی آئی جی پولیس آصف مجید کے حکم پر علی کوثر اور سعید جھونپڑی والے کو حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا تھا ۔ فسادات کے بعد علی کوثر نے سیاست کو خیرباد کہہ دیا ۔ اس ہنگامہ آرائی کے دوران مہاجر بستیاں کشیدگی کا شکار ہوگئی تھیں ۔خوف کا سماں تھا ہفتوں لوگ جاگ کر پہرہ دیتے تھے اوربجلی کے کھمبے بجا بجاکر بستی کے مکینوں کو بیدار رکھا جاتا تھا۔ناظم آباد کے رہائشی بزرگ رئیس الدین صدیقی نے بتایا کہ 1950میں بھارت سے فرار ہوکرپاکستان آنے والے بھوبت ڈاکو ( امین یوسف) کی قیادت میں ناظم آباد کے نوجوانوں پر مشتمل حفاظتی فورس بنائی گئی تھی ۔ امین یوسف ان دنوں ناظم آباد نمبر تین میں رہا کرتے تھے لیاقت آباد نمبر 10 سے سائٹ ایریا جانے والی موجودہ سڑک شاہراہ حکیم ابن سینا کے دونوں اطراف کی گلیوں میں مقامی افراد راتوں کو پہرے دیا کرتے تھے محلہ کی سطح پر کمیٹیاں بنائی گئین ۔زیادہ تر ہلاکتیں ناظم آباد چورنگی سے لیاقت آباد ڈاک خانے کی سمت اس سڑک پر ہوئیں جسے اب الطاف علی بریلوی روڈ کہا جاتا ہے واقعہ کے بعد شہر بھر میں صورت حال کشیدہ ہوگئی تھی _5جنوری کی شام کو ناظم آباد ،لیاقت آباد میں 15گھنٹے کا کرفیو لگادیا گیا تھا اور حالات پر قابو پانے کے لئے فوج کو طلب کرلیا گیا تھا فوج کے آ جا نے کے بعد متاثرہ علاقوں میں حالات پر قابو پالیا گیا تھا۔
اخباری اطلاع کے مطابق محترمہ فاطمہ جناح نے اس افسوسناک واقعہ کے بعد لیاقت آباد، گولیمار، ناظم آباد اور گجر نالہ کے شورش زدہ علاقوں کا دورہ کیا اور فسادات سے متاثرہ افراد سے ملاقات کی۔ اپنے 80 منٹ کے دورے میں ان کے ہمراہ سردار شوکت حیات خان اور یحییٰ بختیار بھی تھے۔ معروف مسلم لیگی رہنما آزاد بن حیدر ایڈوکیٹ اپنی کتاب آب بیتی جگ بیتی بقلم خود ظہیر الحسن لاری صدر زونل مسلم لیگ کراچی نے مجھے حکم دیا کہ لیاقت آباد ڈاکخانہ پر پہنچو، میں بھی پہنچ رہا ہوں اس زمانے میں لیاقت آباد جانے کے لئے پل نہین تھا ۔ندی میں سے گزرنا پڑتا تھا وہ لکھتے ہین کہ جب میں وہاں سے گزررہا تھا تو میرے ہمراہ حریت اخبار کے فوٹو گرافر داود سبحانی بھی تھے ۔لاری صاحب پہنچ چکے تھے کافی پولیس افسران نے علاقے کو گھیرے میں لیا ہوا تھا کچھ دیر بعد مادر ملت بھی پہنچ گئین اس موقع پر ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع ہوگئے تھے ۔ محترمہ جناح نے اس سانحہ کے متاثرین کے ساتھ اپنی ہمدردی کا اظہار کیا اوراپنے خطاب میں کہا کہ آپ پرامن رہیں اور مشتعل نہ ہوں۔آمریت کا دور ختم ہونے والا ہے پھر انھوں نے پولیس افسران کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ لوگ بھی فسادات میں ملوث ہین اگر پولیس چاہتی تو قتل عام روک سکتی تھی تم لوگوں نے اگر گولی چلانی ہے تو مجھ پر چلاو مادر ملت نے عوام کو ہدائت کی کہ آپ پرامن طریقے سے منتشر ہوجائین اس واقعہ کے حوالے سے نیویارک ٹائمز نے ایک اداریہ بھی لکھا تھا اور معروف ترقی پسند شاعر فیض احمد فیض نے اس واقعہ سے متاثر ہوکر لہو کاسراغ نامی نظم۔لکھی تھی اور اس کو شہداء کے نام معنون کیا۔۔۔۔
کہیں نہیں ہے کہیں بھی نہیں لہو کا سراغ
نہ دست و ناخن قاتل نہ آستیں پر نشان
نہ سرخی لب خنجر نہ رنگ نوک سناں
نہ خاک پر کوئی دھتا ، نہ بام پر کوئی داغ
نہ صرف خدمت شاہاں کہ خوں بہا دیتے
نہ دیں کی نذر کہ بیعانہ جزا دیتے
نہ رزم گاہ میں برسا کہ معتبر ہوتا
کسی علم پر رقم ہو کے مشتہر ہوتا
پکارتا رہا بے آسرا تیم لہو
کسی کو بہر سماعت نہ وقت تھا نہ دماغ
نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا
یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا
فیس بک کمینٹ

