بلوچستان میں شیلا باغ کاریلوے اسٹیشن سطح سمندر سے کوئی 6700فٹ بلند ہے اس لئے یہاں موسم سرما میں برف باری ہوتی ہے سارا اسٹیشن اور گاڑی کی پٹری برف سے اس حد تک ڈھک جاتی ہے کہ سوائے برف کے علاقے میں کچھ نظر نہیں آتا اس اسٹیشن کا نام ہندوستانی رقاصہ شیلا رانی کے نام پر رکھا گیا۔۔ کتاب ریل کی جادو نگری سے اقتباس
ریلوے نظام کسی بھی ملک میں ذرائع آمد و رفت کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور اقتصادی استحکام اور ترقی کے لیے بھی بنیادی ضرورت قرار دیا گیا ہے، مگر دنیا میں بعض ایسے ممالک بھی ہیں جہاں ریلوے نظام کاسرے سے وجود ہی نہیں ہے پاکستان میں نقل و حمل کا نظام بری،بحری اور فضائی نقل و حمل پر مشتمل ہے۔ اندرون ملک سفر کے لئے شہریوں کی اولین ترجیح پبلک ٹرانسپورٹ اور ریل کا استعمال ہے ۔ ریل کے سفر پر اُردو میں کئی کتابیں لکھی جاچکی ہیں، جن میں ممتاز صحافی رضا علی عابدی کی’ریل کہانی، محمد حسن معراج کی’’ریل کی سیٹی اور فضل الرحمٰن قاضی کی کتاب’روداد ریل شائع ہوچکی ہیں اور اس وقت زیر نظر کتاب ریل کی جادو نگری ہے ۔
محترم سعید احمد جاوید ایک محقق و مورخ اور داستان گو کی حیثیت سے اپنی شناخت رکھتے ہیں ۔اچھی گذر گئی مصنف کی پہلی جامع خود نوشت ہے پھر مصریات کی شکل میں سفر نامہ مصر کی روداد اورتیسری کتاب ایسا تھا میرا کراچی شائع ہوچکی ہیں زیر نظر کتاب ریل کی جادو نگری میں مصنف نے ریلوے کی تاریخ اور اپنی وابستگی کو بھرپور اندا ز سے پیش کیا ہے۔جناب سعید احمد جاوید پیش لفظ میں لکھتے ہیں کہ ریل کے دیوہیکل سیاہ انجن اور اس کی آزردہ سیٹی سے میرا عشق قدیم اور بھر پور ہے شائد تاریخ کی کتابوں میں دفن محبتوں کے مارے ہوئے عشاق سے بھی زیادہ یہ عشق گو کچی عمر کا تھا مگر کچا ہرگز نہیں تھا کیوں کہ بعدازاں یہ پکا ہوکر ساری زندگی میرے ساتھ ہی چلتا رہا ۔وہ آگے لکھتے ہیں کہ میرے ریل گاڑیوں سے عشق کو دیکھتے ہوئے میرے ابا جان نے مجھے چابی سے چلنے والی ریل گاڑی لاکر دی تھی جس میں پلاسٹک کے تین چار ڈبوں کے علاوہ ایک انجن بھی آگے لگا ہوا تھا جس کی چابی مروڑ کر اسے گول پٹری پر رکھ دیا جاتا تھا تو وہ اس منی سے گاڑی کو اپنے پیچھے لگائے ایک چھوٹے سے دائرہ میں ترکی کے درویشوں کی مانند اس وقت تک گھومتا رہتا تھا جب تک اس کی چابی ختم نہیں ہوجاتی تھی تب وہ ہانپنا کانپنا دم توڑ دیتا تھا اور گاڑی بھی دو چار ہچکیاں لے کر رک جاتی تھی ۔
وہ لکھتے ہیں کہ ساری دنیا میں لفظ ریل کی اصطلاح پٹری، ٹریک کے لئے استعمال ہوتی ہے اور گاڑی کو اس سے الگ کرکے صرف ٹرین ہی کہا جاتا ہے جو اس پٹری پر دوڑتی پھرتی ہے ۔ اپنے ہاں تو جب تک دونوں الفاظ کو ملاکر ریل گاڑی نہ بنالیا جائے دل کو چین ہی نہیں پڑتا مجھے بھی مجبوراً اسے جابجا ریل گاڑی لکھنا پڑا ۔مصنف کا کہنا ہے کہ 19ویں صدی کے ابتدائی برسوں میں ہندوستان میں وسیع پیمانے پر ریل کی پٹریاں بچھانے اور کم ازکم ان کی منصوبہ بندی کا کام شروع کردیا گیا تھا ۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ ہندوستان میں ایک درجن سے زیادہ وسیع و عریض اور مصروف بندرگاہوں کو ریل کے ذریعے ہندوستان کے تمام اہم مقامات اور فوجی چھاونیوں سے منسلک کرنا مقصود تھا اس طرح سندھ میں لے دیکر ایک ہی جگہ ایسی تھی جہاں بندرگاہ بنائی جاسکتی تھی اور یہ کراچی تھا جہاں زیادہ تر ماہی گیر رہتے تھے 1850 میں انگریز حکومت نے سرہنری بارٹلے کو سندھ کا چیف کمشنر بناکر کراچی بھیجا اس نے سندھ میں معاشی اور معاشرتی ترقی کے کئی شاندار منصوبے شروع کئے ۔ سعید جاوید لکھتے ہیں کہ اس علاقے میں جو اب پاکستان کہلاتا ہے ریل گاڑی تقریبا اس وقت آگئی تھی جب سارے ہندوستان میں اس کی پٹریاں بچھ رہی تھیں یعنی انیس ویںصدی کے وسط تک ۔
وہ لکھتے ہیں کہ بلوچستان میں کوئٹہ چمن ریلوے لائن پر ایک بہت ہی رومانوی سے نام والا ایک خوبصورت ریلوے اسٹیشن شیلا باغ آتا ہے یہ اسٹیشن تنہا سا ہے لیکن اس کا نام سنہری حروف سے لکھا گیا ہے یہاں سے بہت ساری کہانیاں منسوب ہوگئی ہیں اس اسٹیشن کے حوالے سے وہ ایک دلچسپ انکشاف کرتے ہیں کہ کھوجک سرنگ جن دنوں زیر تعمیر تھی تو یہاں نہ صرف ہندوستان بلکہ کئی غیر ممالک سے ہزاروں کی تعداد میں کاریگر اور مزدور لائے گئے تھے ان کی رہائش کا انتظام یہیں ایک بڑے میدا ن میں کیا گیا تھا جہاں اب یہ اسٹیشن ہے ۔پہاڑوں کا سینہ چیر کر سرنگ بنانا بہت مشکل کام تھا ۔مزدور سارا دن جان توڑ مشقت کرتے اور شام کو جب تھک ہار کر اپنے ٹھکانوں پر واپس آتے تو ان کی تفریح طبع اور کھیل تماشے کے لئے ہندوستان سے کچھ نامی گرامی مسخرے ، بازیگراور فنکار لائے گئے اس طائفے میں اپنے وقتوں کی ایک خوبرو حسین سی رقاصہ بھی شامل تھی جس کا نام شیلا رانی تھا کہتے ہیں کہ وہ اتنا بے خود ہوکر ناچتی تھی کہ وہاں بیٹھے ہوئے کاریگر اور مزدور عش عش کر اٹھتے تھے ان کی تھکاوٹ دور ہوجاتی تھی اور پھر وہ سکون سے سو جاتے تھے ۔ اسی بی بی کے نام پر اس جگہ کا نام شیلاباغ پڑگیا تھا۔ پس اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ دور جدید کی شیلا کی طرح پچھلے وقتوں کی شیلا کی جوانی بھی انتہائی جان لیوا تھی اور بیک وقت ہزاروں مزدور کام کاج کی تھکن بھول کر اس پر قربان ہونے کے لئے تیار رہتے تھے ۔
ریل کی جادو نگری میں دنیا میں ریل کا آغاز ،ہندوستان میں اس کی شروعات میں ٹرین۔ پٹری اس کے سگنلز، مواصلاتی نظام، ایمرجنسی ایکویپمنٹ ۔برانچ لائنیں ایک ٹریک سے دوسرے ٹریک پر منتقلی، اسٹیشنز کی اقسام ۔ روانگی سے پہلےٹرین کے آگے سبز اور سرخ رنگ کے چھوٹے جھنڈے لہرانا، سیٹی بجانا ریلوے ٹریک پر لگے پھاٹک کو بند کرنا اور اسٹیشن پر ٹرین کے پہنچنے کے عمل سمیت ایسے سوالات کا احاطہ کیا گیا ہےجن کا مشاہدہ اکثر ہم سفر کے دوران کرتے ہیں ۔کتاب میں ریلوے ٹریک کے اطراف چھوٹے چھوٹے شہروں اورقصبوں اور اسٹیشنز کی تاریخ سے متعلق ہر نوع کی معلومات اور مستقبل میں ریلوے کے نظام کی بہتری اور خطرات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے بلکہ دلچسپ اور ذومعنی جملوں اور اشعارکے استعمال نے اس میں تجسس پیدا کردیا ہے کتاب انتہائی خوبصورت اندازمیں بک ہوم لاہورسے شائع ہوئی ہے
فیس بک کمینٹ

